ایک عظیم حکمران کی کہانی

تاریخ انسانی کے ایک عظیم حکمران کی کہانی جس نے خانہ جنگی کا شکار اپنے ملک میں امن و امان کی بے مثال داستان رقم کی تھی۔

[urdu size=”20″]

ایک عظیم حکمران کی کہانی

وہ بوریا نشین حکمران تھا۔ ایک ملک کا مطلق العنان حکمران ہونے کے باوجود اس نے اپنے لیے محلات تعمیر نہیں کیے اور ایک سادہ زندگی بسر کی۔ اس کی کل کائنات اس کا سادہ سا خیمہ، گھوڑا اور جنگ لڑنے کے ہتھیار تھے۔ لیکن اس سادہ سے شخص نے دنیا کی تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑے۔

جس خطے میں اس نے آنکھ کھولی، وہ ایک طویل عرصے سے جنگ و جدل کا شکار تھا۔ معمولی باتوں پر جنگیں شروع ہو جاتی۔ بھیڑ بکری، مال مویشی پر جنگیں معمول تھیں۔ امن و امان کی اتنی بری حالت تھی کہ اسے خود کچھ عرصے ایک قبیلے کے زور آوروں کی غلامی کرنا پڑی جس سے وہ ایک ہمدرد کی مدد سے چھٹکارا پا سکا۔ خاندان میں اس کی حیثیت معمولی تھی۔ لیکن پھر سوتیلے بھائی کی ناگہانی وفات کے بعد اسے خاندان کا سربراہ مقرر کر دیا گیا۔ اس کا عدل و انصاف دیکھ کر آہستہ آہستہ اس کے گرد جانثار جمع ہونے لگے۔ جو لوگ حق کو پہچاننے سے انکار کرتے، اس کی تلوار ان کو حق کی شناخت کرا دیتی اور وہ اس کی حاکمیت تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتے۔

وہ ماحول کا خاص خیال رکھتا تھا۔ اس نے فوجیوں کو اپنا راستہ، اور راستے میں پڑنے والے ندی نالے گندے کرنے سے منع کیا تھا۔ اس نے باہمی جنگ و جدل اور خاندانی جھگڑوں کا سدباب کر دیا اور ایسا ہر فیصلہ اسی کی عدالت میں ہوتا تھا۔ اس نے اپنے ملک سے زنا، چوری اور جھوٹی گواہی دینے والوں کا خاتمہ کر دیا۔

آہستہ آہستہ پورا ملک اس کے جھنڈے تلے اکٹھا ہو گیا۔ اس کے سادگی اور ہمت و بہادری کو دیکھتے ہوئے اس کے ملک کے مذہبی علما نے اسے زمین پر خدا کا نمائندہ قرار دیا۔ اس نے اپنے خدا کے قوانین ملک میں رائج کیے اور ان سے سرتابی کرنے والوں کو وہ عبرت کا نشان بنا دیتا تھا۔ وہ ملک جہاں خون پانی سے بھی سستا تھا، اور ہتھیاروں کی ریل پیل تھی، وہاں ہر طرف امن و امان کا دور دورہ ہو گیا۔ مورخ اسے تاریخ کا ایک عظیم معجزاتی حکمران قرار دینے پر مجبور ہو گئے۔

خود سادہ سی زندگی بسر کرنے والے، خیموں میں رہنے والے اور روکھی سوکھی کھانے والے حکمران نے طرز تعمیر میں خوب نام پیدا کیا۔ ہر مفتوحہ شہر میں اس نے طرز تعمیر میں جدت پیدا کرتے ہوئے مینارے تعمیر کیے جو کہ امن و امان کی صورت حال کو قابو میں رکھنے کے لیے نہایت کارآمد ثابت ہوئے اور حکمران اور قانون کا رعب رعایا کے دلوں میں بٹھا گئے۔ اس کے شدید مخالفین بھی اسے خدا کی طرف سے بھیجی گئی ایک نشانی قرار دینے پر مجبور ہو گئے۔ اس کے ادنی سے ادنی اور اعلی سے اعلی درجے کے اراکین سلطنت بھی اس کے قوانین سے اغماض برتتے تھے تو عبرت کا نشان بنا دیے جاتے تھے۔

یہ ٹھیک ہے کہ آج ہم اس کی بعض پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہیں لیکن ہمیں اس کے عظیم کارناموں سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے۔ غیر جانبداری سے سوچیں تو ایک جنگ و جدل سے گھرے ہوئے خطے کو اس طرح امن کا گہوارہ بنانا، طوائف الملوکی میں گھرے ہوئے ملک کو ایک لڑی میں پرویا ہوا ایک خطہ بنانا اس کا وہ کارنامہ تھا جس کو اس کے بدترین مخالفین بھی ماننے پر مجبور ہیں۔

یہ ٹھیک ہے کہ اس کے سوتیلے بھائی کی بھری جوانی میں ناگہانی وفات ایک جھگڑے میں اسی کے اپنے ہاتھوں ہوئی تھی جس کے بعد وہ خاندان کا سربراہ بنا تھا۔ یہ بھی مانا کہ جن زور آوروں نے اسے غلام بنایا تھا، طاقت پکڑ کر اس نے ان کو شکست دی اور انہیں ابلتے ہوئے تیل کے کڑاہے میں زندہ ڈال کر جیتے جی فرائی کر دیا۔ یہ بھِی درست ہے کہ قانون کے مطابق اگر اس کے ادنی اعلی سپاہی بھی آگے چلنے والے سپاہی کا پھِینکا ہوا کوڑا اٹھانے میں کوتاہی کرتا تھا، یا ندی نالوں میں نہا کر پانی گندا کرتا تھا، تو اسے عبرتناک طریقے سے سزائے موت دے دی جاتی تھی۔ یہ بھی مانا کہ وہ طرز تعمیر میں جدت پیدا کرنے والے مینارے جو اس نے ہر شہر میں تعمیر کیے، وہ اسی شہر کے باشندوں کی کھوپڑیوں سے بنائے گئے تھے۔ یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ اپنے آپ کو اپنے ملک کے جس خدا، نیلے جاودانی آسمان، کی طرف سے بھیجی گئی جو نشانی بتاتا تھا اس کی صراحت خود ہی “خدا کا قہر” کہہ کر کرتا تھا تاکہ کسی کو کوئی غلط فہمی باقی نہ رہے۔ یہ بھِی درست ہے کہ اس نے ایک سے ڈیڑھ کروڑ انسان قتل کر دیے تھے، جن میں ایران کی تین چوتھائی آبادی شامل تھی اور اتنی زبردست قتل و غارت اس کے بعد صرف عظیم مسلمان فاتح امیر تیمور ہی کر سکا تھا جس نے کم از کم ایک کروڑ ستر لاکھ بندوں کو آنجہانی کر دیا تھا۔

لیکن بہرحال اس نے اپنے جنگ زدہ ملک میں امن و امان قائم کر دیا تھا اور ہر طرف ملکی قانون کے تحت امن کا دور دورہ ہو گیا تھا۔ اور ایک بکھری ہوئی قوم کو متحد کر کے اس نے ایک ایسی طاقت بنا دیا تھا جس نے روئے زمین پر رقبے کے لحاظ سے تاریخ کی سب سے بڑی سلطنت قائم کی۔ یہ اس کا بہت بڑا کارنامہ تھا۔

نوٹ: وہ لوگ جن کو آج صبح ناشتہ نہیں ملا ہے اور وہ شدید غصے میں ہیں، ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ ایک طنزیہ تحریر ہے۔

[/urdu]

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.