ترکی کی اے کے پی: کل اور آج

11427168_957360457619856_4613446817891296171_nترکی کی اے کے پارٹی کے دو ادوار کا تقابل۔

[urdu size=”20″]

“عبداللہ گل اب اے کے پی میں کیوں نہیں ہیں؟” چند دن پہلے حریت اخبار میں اس نام سے مضمون شائع ہوا تھا۔ اس میں عبداللہ گل کے دور کی اے کے پارٹی [پرانی پارٹی] اور موجودہ اے کے پارٹی [نئی پارٹی] کا موازنہ کیا گیا تھا جو کچھ یوں تھا:۔

پرانی اے کے پی کی توجہ یورپی یونین میں شمولیت کے لیے کوپن ہیگن کریٹیریا پر مرکوز تھی۔ یعنی سیاسی ، قانونی اور معاشی معیار کو یورپی یونین کی سطح پر لانے پر وہ یکسو تھے۔ نئی اے کے پی کی یورپی یونین میں دلچسپی صفر ہے اور وہ شنگھائی یونین کی طرف دیکھ رہی ہے۔

پرانی پارٹی دنیا کو سازشی نظریات کی نظر سے نہیں سمجھتی تھی، بلکہ وہ خود سازشی نظریات کا نشانہ تھی۔ نئی پارٹی سازشی نظریات کی اسیر ہے۔

پرانی پارٹی ہمسایہ ممالک سے اختلافات کو صفر کی سطح پر رکھنے پر یکسو تھی۔ نئی پارٹی نا صرف کہ بہت سے مسائل پیدا کر بیٹھی ہے، بلکہ اپنی اس من پسند اور بیش بہا تنہائی پر خوش ہے۔

پرانی پارٹی گلوبل مارکیٹ کے اصولوں پر چلتی تھی اور منطقی معاشی پالیسی رکھتی تھی۔ نئی پارٹی میں ڈپٹی پرائم منسٹر علی باباجان اور مرکزی بینک کے گورنر اردم باشچی جیسے چند قدیم آثار باقی ہیں۔ لیکن بہرحال نئی پارٹی کی معیشت پر ایک مختلف نظر ہے اور اسے خیالی بھوتوں جیسا کہ سودی ریٹ لابی وغیرہ سے خوف آتا ہے اور اسے شبہ ہوتا رہتا ہے کہ کہیں مرکزی بینک غداری پر تو نہیں تلا ہوا ہے۔

پرانی پارٹی میانہ روی اور شرافت کی قائل تھی۔ کئی سال تک ایردوان ایک متوسط سے محلے میں ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہائش پزیر رہا تھا۔ نئی پارٹی شان و شوکت کی قائل ہے۔ اب ایردوان دنیا کے مہنگے ترین اور پرتعیش ترین محلات میں سے ایک میں رہتا ہے۔

پرانی پارٹی کا دل بڑا تھا اور وہ صلح جوئی کی قائل تھی۔ وہ “اندرونی دشمن” کے نظریے کی مخالف تھی اور ہر ایک کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتی تھی۔ اس کا ایک انتخابی ترانہ کہتا تھا کہ “ہم سب لوگ ایک ہی قالین کے مختلف رنگوں کے دھاگے ہیں”۔ نئی پارٹی اب “اندرونی دشمنوں” اور “غداروں” اور “بدی کے محور” کے خلاف بات کرتی نظر آتی ہے، جو کہ اس کی نظر میں تقریباً آدھی قوم پر مشتمل ہے۔

اب صورت حال یہ ہے کہ عبداللہ گل ابھی بھی پرانی پارٹی کے نظریات پر یقین رکھتے ہیں اور ایردوان اس کو آمریت کے نئے آسمانوں پر لے جانا چاہتے ہیں۔ اس لیے عبداللہ گل کی عملی سیاست سے دور رہنے کی خواہش سمجھ میں آتی ہے۔

[/urdu]

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.