پاکستان کا عظیم جرنیل

تاریخ انسانی کے ایک عظیم جرنیل کی کہانی جانیے جس سے ہمیں بھی اپنی جنگ میں ایک عظیم جرنیل کا پتہ نشان مل سکتا ہے۔

[urdu size=”20″]

پاکستان کا عظیم جرنیل

میرے عزیز ہم وطنو۔

یہ کلمات سن کر تم ایک دفعہ تو دہل گئے ہو گے، مگر پریشان مت ہو۔ یہ درویش خیر کی خبر لایا ہے۔ تم جانتے ہو کہ اس وقت ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں۔ جنگ میں معرکے کا کماندار اہم ہوتا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ جنرل راحیل شریف اب کس کو شمالی علاقوں کا کماندار مقرر کریں جو کہ جنگ لڑے اور مکمل فتح حاصل کرے۔ آئیے تاریخ سے جانتے ہیں کہ کون سا پاکستانی اس کام کے لیے بہتر رہے گا۔

تاریخ انسانی کے عظیم ترین سپہ سالاروں میں سے ایک چنگیز خان کا سپہ سالار ناقابل شکست سوبدائی بہادر تھا. اسے نے تاریخ انسانی کے کسی بھی دوسرے جرنیل سے زیادہ علاقہ فتح کیا اور چھتیس بڑی جنگوں میں فتح حاصل کر کے بتیس قوموں کو منگولوں کا غلام بنایا۔ وہ فتوحات حاصل کرتا کرتا بلقان تک پہنچ گیا تھا اور رومیوں پر حملہ کرنے کی تیار کر رہا تھا کہ منگول خاقان اوغدائی خان انتقال فرما گیا۔ سوبدائی بہادر نے کافی اصرار کیا کہ روم کو فتح کر لیتے ہیں پھر واپس چلے جائیں گے اور نیا خاقان منتخب کر لیں گے، لیکن اس کے زیرکمان منگول شہزادے اپنی اپنی فوجیں واپس لے گئے اور اسے روم چھوڑ کر نیا خاقان منتخب کرنے واپس قراقرم جانا پڑا.

سوبدائی بہادر نے سپہ سالار کے میدان جنگ سے دور اونچی جگہ پر سکون سے بیٹھ کر پوری لڑائی دیکھتے ہوئے فوج لڑانے کا طریقہ ایجاد کیا تھا جس نے جنگیں لڑنے کا طریقہ کار ہی بدل دیا.

اس عظیم ملٹری ڈیویلپمنٹ کی وجہ یہ تھی کہ سوبدائی بہادر اتنا موٹا تھا کہ طاقتور ترین گھوڑا بھی اس کا وزن اٹھانے سے قاصر تھا. اس لیے وہ دوسرے سپہ سالاوں کی طرح میدان جنگ میں مارے مارے پھرنے کی بجائے سکون سے ایک طرف کونے میں بیٹھ کر فوجیں لڑاتا تھا. اور اس کی یہ حکمت عملی اتنی کامیاب تھی کہ وہ گنے چنے ناقابل شکست سپہ سالاروں کی فہرست میں اپنا نام درج کرا گیا.

معمولی سا غور کریں تو کامیابی کی وجہ سامنے نظر آ جاتی ہے. آپ نے نوٹ کیا یو گا کہ میچ ہو رہا ہو تو میدان میں موجود کھلاڑیوں سے بہتر باہر ٹی وی سکرین سے چپکے ہوئے ماہرین ان کھلاڑیوں سے بہتر میچ کھیل رہے ہوتے تھے.

دانشمند سوبدائی بہادر نے بھی یہ راز جان لیا تھا. اس نے یہ عظیم راز دریافت کر لیا تھا کہ جرنیل کا کام گھوڑا دوڑانا نہیں بلکہ دماغ چلانا ہوتا ہے۔

بہرحال کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان حالت جنگ میں ہے اور جنگ جیتنی ہے تو میدان جنگ میں جناب علامہ طاہر محمود اشرفی صاحب کو کمان دار بنا کر وزیرستان بھیج دیا جائے. ہاتھی گھوڑے اونٹ ان کا وزن اٹھانے سے بھی انکاری ہیں اور ان کی صورت میں پاکستان کو ایک بنا بنایا سوبدائی بہادر پہلے ہی دستیاب ہے۔ اور یہ بھی روم سے پہلے نہیں رکنے کے۔

[/urdu]

Subudei Ashrafi

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.