باکمال لوگ، لاجواب پرواز

پی آئی اے پر ایک سفرکی روداد۔ تین سو جرات مند لوگوں کی داستان جو جہاز پرملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچنے میں کامیاب رہے تھے۔

PIA Flight Scarement System. Same info, three different shades.
PIA Flight Scarement System. Same info, three different shades.

[urdu size=”20″]

باکمال لوگ، لاجواب پرواز

ہوا یوں کہ کراچی کا قصد کرنا پڑ گیا۔ اطلاع ملی کہ تمام دوسری فضائی کمپنیاں خوب لیٹ بھی ہو رہی ہیں اور ان کی پروازیں منسوخ بھی ہو رہی ہیں، اس لیے پی آئی اے ہی بہتر ہے۔ سو اسی کا ٹکٹ لیا۔ پرواز سے تین گھنٹے پہلے پی آئی اے کے ایک جہاز کا فون آ گیا کہ پرواز تین گھنٹے لیٹ ہے۔ جس میٹنگ کے لیے جانا تھا، وہ تو چلی گئی تھی بھاڑ میں۔ لیکن بہرحال اگلے دن میٹنگ ہونے کی آس پر جانے کا فیصلہ کیا۔ اور شکر ادا کیا کہ جہاز تین گھنٹے دیر سے بھی چل پڑا۔ بعد میں ڈان کی خبر سے معلوم ہوا کہ پی آئی اے کی 29 جولائی سے 7 اگست کے دوران 30 مقامی اور انٹرنیشنل پروازیں منسوخ ہوئیں۔

واپسی میں یہ سوچ کر کہ جہاز دوبارہ دیر سے نہ چلے، کراچی ائیر پورٹ کی ویب سائٹ پر وقت کنفرم کیا۔ اور پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ ٹکٹ پر درج وقت سے ایک گھنٹے پہلے جہاز کی روانگی تھی۔ پہلے پہل تو یقین ہی نہ آیا کہ جہاز وقت سے پہلے بھی چل سکتا ہے۔ پھر یہ سوچا کہ آخر کو پاکستان ہے، جہاں جہاز کو من پسند افراد کی سہولت کی خاطر دیر سویر سے چلانے کی روایت موجود ہے۔ جہاز والوں نے اپنے پسندیدہ لوگوں کو بٹھانے کے لیے جہاز پہلے چلا دیا ہو گا اور یہ سوچا ہو گا کہ جو مسافر عین وقت پر پہنچیں گے، انہیں یہ بتا کر مطمئین کر دیا جائے گا کہ آپ دیر سے پہنچے ہیں اور قواعد کے مطابق جہاز چلنے سے ایک گھنٹہ پہلے پہنچنا لازم ہے۔ اب چھٹی کریں۔

خیر آخری ملاقاتوں کا ارادہ ترک کر کے ائیرپورٹ پہنچے، اور روانگی کے بورڈ پر نظر ڈالی۔ وہاں وہی وقت تھا جو کہ ٹکٹ پر درج تھا۔ بورڈنگ کارڈ وصول کرتے ہوئے محترمہ کو بتایا کہ آپ کی ویب سائٹ پر وقت غلط درج ہے، تو وہ کمال بے نیازی سے بولیں کہ پنچنگ ایرر ہو گئی ہو گی۔ کمال کی پنچنگ ایرر تھی جو جہاز کے اڑنے کے وقت تک پانچ چھے گھنٹے تک ویب سائٹ پر موجود رہی اور کسی نے اسے درست کرنے کی زحمت نہ کی۔

بہرحال، وقت پر جہاز کے چلنے کا سامان ہوا اور جہاز میں سارے مسافر بیٹھ گئے۔ سامان کے کھوپچے بند ہوئے اور دروازہ بند ہونے کو تھا کہ ایک محترمہ سوٹ کیس سائز کا کیبن بیگ لے کر بھاگی بھاگی تشریف لائیں۔ ارد گرد کے کھوپچے بند دیکھ کر اس بیگ کو گودی میں لے کر بیٹھ گئیں۔ پی آئی اے کے عملے نے ان سے گزارش کی کہ آپ ایسے سفر نہیں کر سکتی ہیں۔ آپ کی زندگی کی تو خیر ہے، مگر مون سون کا موسم ہے، جہاز ہوا میں پلٹنی کھا گیا تو کوئی دوسرا مسافر اس کوہ گراں کے نیچے نہ دب جائے اور ہلاک ہو۔ آپ یہ ہمیں بیگ دیں تو ہم جہاز کے پچھلے حصے میں رکھ دیتے ہیں۔ وہ محترمہ نہ مانیں۔ کہنے لگیں کہ نہیں، پھر مجھے اترتے وقت دیر ہو جائے گی، آپ کو یہاں میری سیٹ کے پاس ہی میرے سامان رکھنے کا خانہ خالی رکھنا چاہیے تھا۔ جہاز والوں نے بہت سمجھایا کہ جو پہلے آتے ہیں، سامان پہلے رکھنے کا حق ان کا ہوتا ہے۔ آپ دیر سے آئی ہیں اس لیے جہاں جگہ ملے گی وہی سامان رکھنا ہو گا۔ وہ محترمہ اپنے سوٹ کیس کو سینے سے چپکائے بضد رہیں کہ وہ کسی قیمت پر بھی اس متاع جان کو اپنے سے جدا کر کے غیروں کے حوالے نہیں کریں گی۔

بلا مبالغہ کوئی پندرہ منٹ تک یہ بحث چلتی رہی۔ آخر پرلے کنارے پر موجود ایک صاحب نہایت غصے سے اٹھے، اور سر پر موجود دو تین کھوپچے کھولے۔ ایک کا سامان دوسرے میں رکھا، تو اس سوٹ کیس کی جگہ آرام سے بن گئی۔ پھر انہوں نے پی آئی اے کے باکمال لوگوں سے ایک خطاب کیا کہ آپ نے اگر کھوپچے کھول کر یہ کام خود کر لیا ہوتا، تو نہ یہ بدمزگی ہوتی اور نہ ہم پندرہ منٹ لیٹ ہوتے۔ انہوں نے باکمال محترمہ اور لاجواب محترم کو مزید دس منٹ تک ان کے فرائض پر ایک لیکچر دیا۔ خیر اس پچیس منٹ کے وقفے کے بعد جہاز نے آخر کار اڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ غالباً ایسی سروس اور پروازوں ہی کی وجہ سے پی آئی نے “باکمال لوگ، لاجواب پرواز” کا مشہور لوگو ترک کر کے پہلے اسے “گریٹ پیپل ٹو فلائی ود” کر دیا تھا، اور اب باقاعدہ منت خوشامد پر اترتے ہوئے “کم فلائی ود اس” کہنے لگے ہیں، یعنی کہ برائے مہربانی ہمارے ان جہازوں کے ساتھ ہی اڑنے پر راضی ہو جائیں۔

خیر جہاز اڑا۔ سامنے موجود تین مانیٹروں پر پرواز کی معلومات دکھائی جانے لگیں تو دل دہل گیا۔ تینوں ٹی وی الگ الگ شیڈ میں ایک ہی تصویر دکھا رہے تھے۔ کباڑ کے مانیٹروں کے وسیع تجربے کی بنا پر ترنت جان لیا کہ وائرنگ میں گڑبڑ ہے۔ شدید پریشانی ہوئی کہ معلوم نہیں کہ صرف ویڈیو سسٹم کی مانیٹرنگ تباہ حال ہے یا سارے جہاز کی وائرنگ کا یہی حال ہے۔ کھانا آیا تو دل کچھ بہلا اور توجہ دوسری طرف ہوئی۔ اور شکر ادا کیا کہ بڑوں کا کھانا ہی ملا، ورنہ جاتے وقت تو ایک باسی سینڈویچ دیا گیا تھا جو کہ مقدار اور مواد کے لحاظ سے چھے ماہ کے بچے کی پہلی ٹھوس غذا کی مانند تھا۔

دل کچھ قابو میں آیا تو باقی ماحول کا جائزہ لیا۔ ساتھ والی سیٹ پر ایک برخوردار بیٹھا ہوا تھا۔ عمر یہی کوئی میٹرک ایف اے والی ہو گی۔ دیکھ کر الجھن ہوئی کہ اس نے جہاز کی درمیان والی سیٹ پر چوکڑی مار کر بیٹھنے کا کمال دکھا دیا تھا اور موسیقی سے عملی طور پر لطف اندوز ہونا شروع کر دیا۔ اس کی نشست و برخواست کا انداز دیکھ کر نئی نسل کے مستقبل کی یقینی تباہی کے بارے میں سوچتے ہوئے صوفیز ورلڈ نامی کتاب کا مطالعہ شروع کیا تو نوٹ کیا کہ وہ برخوردار اپنی دیگر مصروفیات ترک کر کے یہ نیم خشک سی فلسفیانہ کتاب میرے ساتھ ساتھ پڑھ رہا ہے۔ کچھ دیر بعد اس سے گفتگو شروع ہوئی تو اس کے علم و فضل پر نہایت ہی خوشگوار حیرت ہوئی اور نئی نسل کی تباہی کا خوف کچھ کم ہوا۔

موصوف آغا خانی مسلک سے تعلق رکھتے تھے اور اس عمر میں بھی اچھا مطالعہ کر رکھا تھا۔ پتہ چلا کہ سکول کے نصاب علاوہ ان کو اخلاقی تربیت کے لیے الگ سے مختلف علوم وغیرہ کی کتابیں بھی پڑھانے پر توجہ دی جاتی ہے جس کے اثرات اس پر ظاہر تھے۔ اور اس سے زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ انگریزی کتابوں میں زیادہ سہولت ہونے کے باوجود اس کو اردو کتابیں پڑھنے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اپنے سرکاری اور نجی سکولوں اور مدارس کے طلبا سے تقابل کیا تو اسے کہیں بہتر پایا۔ خواہ مدرسے کا طالب علم اٹھا لیں یا کسی مہنگے سستے نجی سکول کا، اس کا ذہن بند اور علم کافی محدود ملتا ہے۔ آغا خانی کمیونٹی کے علمی ماڈل پر تحقیق کرنا پڑے گی۔ فی الحال تو میں اس ایک بچے سے مل کر کافی متاثر ہوا ہوں۔

اس کے علاوہ کوئی اور حیرت انگیز واقع پیش نہیں آیا سوائے اس کے کہ جہاز مسافروں میں ہیجان پھیلائے بغیر لاہور کے ائیرپورٹ پر بخیریت اتر گیا۔

[/urdu]

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.