کینیڈا والے تحریک انصاف میں شامل ہو گئے

کینیڈا کے وزیراعظم اور تحریک انصاف والوں کا معاملہ۔۔۔bhutto and trudeau ns

بہت سے لوگ کینیڈا کا وزیراعظم جسٹن “ٹور دو” ** دکھا دکھا کر کوشش کر رہے ہیں کہ ہم نواز شریف کے معاملے میں احساس کمتری کا شکار ہو جائیں۔

لیکن ہماری خوش قسمتی ہے کہ جناب جاوید چوہدری صاحب کی طرح ہم نے بھی اپنا ریسرچ ڈیپارٹمنٹ بنا لیا ہے جو قوم کے لیے اہم انکشافات کرتا رہتا ہے۔ اس ریسرچ ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ نے، آج اپنا ریاضی کا ہوم ورک ختم کر کے ہماری ہدایت پر جسٹن کے بارے میں تحقیقات شروع کیں تو ایک اہم تصویر کھوج نکالی۔

اس تصویر میں جسٹن، اپنے والد کینیڈی وزیراعظم پئیری “ٹوردو” اور پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے مشابہ ایک شخص کے ساتھ نظر آ رہے ہیں۔ اور مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ بھٹو صاحب جیسے  شخص کے ساتھ ہی نصرت بھٹو صاحبہ سے مشابہت رکھنے والی ایک خاتون بھی ہیں۔ اللہ کی قدرت ہے صاحب۔
اس تصویر پر ہم نے غور کیا تو سوچا کہ ہماری قوم خواہ مخواہ احساس کمتری کا شکار ہوئی جا رہی ہے۔ اگر میڈیکل سائنس جناب نواز شریف کی جوانی میں بھی اتنی ہی ترقی کر چکی ہوتی جتنی جسٹن ٹوردو کی جوانی میں کر چکی ہے، تو آج نواز شریف صاحب کی بھی جسٹن جتنی لمبی زلفیں لہرا رہی ہوتیں۔ یقین نہیں آتا ہے تو نواز شریف صاحب کی جوانی کی تصویر ملاحظہ فرما لیں۔

اور اگر میڈیکل سائنس یہ ترقی کرنے میں مزید دس بیس سال لگا دیتی، تو آج جسٹن کا سر بھی اتنا ہی روشن و تاباں ہوتا جتنا کہ وزیراعظم پاکستان کا ہے، کیونکہ گنج ہائے گرانمایہ جینیاتی طریقے سے جسٹن ٹوردو صاحب کو مل چکے ہوتے۔

ویسے شروع میں تو یہ معاملہ سمجھ سے باہر نظر آیا کہ یہ کینیڈوی اپنے وزیراعظم کو ٹورنے کی نظر سے کیوں دیکھتے ہیں؟ یہ ٹھیک ہے کہ ہم اپنے وزیراعظم کو بھی چند مقبول عوامی ناموں سے یاد کرتے ہیں، لیکن کبھی بھی انہیں ٹور دینے کے عزائم کا اس طرح اظہار نہیں کرتے ہیں کہ اس مطالبے کو شناختی کارڈ والے نام کا حصہ ہی بنا دیں۔

لیکن خوب غور و فکر کیا تو خیال آیا ہے کہ کینیڈا والے پنجابی میں وہی کہہ رہے ہیں جو ہم انگریزی میں کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ “جسٹن ٹور دو”، ہم کہتے ہیں کہ “گو نواز گو”۔

یعنی، کینیڈوی عوام میں بھی جنون پھیل گیا ہے۔ وہ بھی تحریک انصاف میں شامل ہو چکے ہیں۔

گو نواز گو۔ جسٹن ٹور دو۔

** ٹور دو: یعنی بھیج دو۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.