کینٹ کی سیکیورٹی

شاید ہماری طرح آپ کے علم میں بھی نہ ہو کہ کینٹ کی حدود میں خطرناک اشیا مثلاً چرس نسوار اور کیمرہ وغیرہ لے جانا ممنوع ہے۔
Funny-Big-Cannon-Camera

[urdu size=”20″]


چند دن پہلے ایسا ہوا کہ ڈیفینس کی طرف سے لاہور شہر جانے کی خاطر کینٹ میں داخل ہونا پڑا۔ رنگ روڈ سے اترتے ہی ائیر پورٹ کی دیوار کے ساتھ موجود لاہور کینٹ کی داخلی ملٹری چیک پوسٹ کا سامنا ہوا۔ سنتری جی نے گاڑی کی ڈگی کھولنے کا حکم دیا اور اندر رکھے لیپ ٹاپ اور کیمرے کے بیگ دیکھ کر پوچھنے لگے کہ یہ کیا ہے۔

انہیں بتایا کہ کیمرہ ہے اور لیپ ٹاپ ہے۔

سنتری جی بے تحاشا الرٹ ہو گئے۔ کہنے لگے کہ کیمرہ؟ آپ کو پتہ نہیں ہے کہ کینٹ کی حدود میں بلا اجازت کیمرہ نہیں لایا جا سکتا ہے؟ گاڑی سائیڈ پر لگائیں اور صوبے دار صاحب کو اپنا کیمرہ چیک کرائیں۔

بخدا نہایت پریشانی ہوئی کہ کس جرم عظیم کا ارتکاب کر بیٹھے ہیں۔ کبھی گمان تک نہ ہوا تھا کہ کیمرے کو بھی توپ کی مانند ایک تباہ کن ہتھیار سمجھا جاتا ہے ورنہ سمارٹ فون کبھی نہ خریدتے۔ گھبرا کر اپنے فون کو سیٹ کے نیچے چھپا لیا کہ کہیں سنتری جی کو اس میں موجود کیمرہ نظر نہ آ جائے جس کا داخلہ کینٹ کی حدود میں قطعاً منع ہے، اور ڈگی سے کیمرے کا بیگ نکال کر صوبیدار صاحب کے پاس پہنچے۔

ان کو بیگ سے کیمرہ نکال کر آن کر کے دکھایا کہ کسی قسم کی حساس تنصیبات، مثلاً رنگ روڈ یا ڈی ایچ اے فیز ایٹ وغیرہ، کی تصاویر کیمرے میں موجود نہیں ہیں۔

لیکن کیمرہ آن کرتے ہی صوبے دار صاحب کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ شدید گھبراہٹ میں بولے کہ بند کریں اسے، فوراً بند کریں۔ کینٹ کی حدود جیسی حساس جگہ پر آپ کیمرہ کیسے آن کر رہے ہیں۔

عرض کیا کہ جناب پھر آپ کس چیز کا معائنہ کرنا چاہتے ہیں جو سنتری جی نے کیمرہ گاڑی کی ڈگی سے نکال کر آپ کو چیک کرانے کا حکم دیا ہے۔

صوبیدار صاحب فرمانے لگے کہ آپ کو علم ہونا چاہئے کہ پرمٹ کے بغیر آپ کینٹ کی حدود میں کیمرہ نہیں لا سکتے ہیں۔ بہرحال اب تو آپ جائیے اور آئندہ محتاط رہیں۔

اور ہم کیمرے کے بیگ کو ڈگی سے نکال کر اپنی گود میں رکھے چل پڑے اور سوچتے رہے کہ کینٹ کی حدود سے باہر کیمرہ گاڑی کی ڈگی میں رکھا ہوا تھا اور اس انتہائی خطرناک شے کو جسے کینٹ میں لے جانے کے لئے پرمٹ چاہیے، ان مستعد سنتریوں نے کینٹ میں داخل ہوتے ہی ہمارے ہاتھ میں پکڑا دیا ہے تاکہ ہم للچا کر فورٹریس سٹیڈیم یا راحت بیکرز کی کوئی تصویر کھینچ لیں اور پکڑے جائیں۔

بخدا مشتاق احمد یوسفی کی زرگزشت یاد آ گئی۔ وہ زرگزشت میں فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ بھری برسات میں کاغذی لفافے میں رکھا سیمنٹ جو انہوں نے ہاتھ میں اٹھایا ہوا تھا، فضا میں بکھر گیا اور ایک بہترین سوٹ پہنے صاحب کا “ملکہ ٹوریہ کا بت” بن گیا، تو اگلی دفعہ انہیں بس میں سوار ہوتے دیکھ کر کنڈیکٹر نے ہانک لگائی “بابوجی ذرا سنبھل کے۔ آگے پیچھے کے بمپر سے ہوشیار۔ بس میں چھری، چکو، چرس، گانجا اور سیمنٹ لے جانے کی ازاجت نہیں ہے”۔  ممکن ہے کہ کینٹ میں بھی کوئی فوٹوگرافر ایسی ہی کوئی خطا کر بیٹھا ہو اور اب کینٹ میں بھی “چھری، چکو، چرس، گانجا اور کیمرہلے جانے کی ازاجت” نہ ہوا کرتی ہو۔

بہرحال، کینٹ کی حدود میں رہنے والے اور وہاں سے گزرنے والے تمام خواتین و حضرات سے التماس ہے کہ اپنے اپنے کیمرے والے سمارٹ فونوں کا اندراج متعلقہ کینٹی دفتر میں کروا لیں ورنہ آپ کا یہ کیمرے والا انتہائی خطرناک ہتھیار دوران چیکنگ ضبط ہو گیا تو آپ جیل کی کال کوٹھڑی میں بیٹھے پچھتایا کیا کریں گے۔

اور باقی چیک پوسٹ کے انچارج صاحبان سے یہی التماس ہے کہ ایسی جگہوں پر کوئی سمجھ بوجھ والے بندے تعینات کرنے پر فوکس کریں تو وہ گاڑی کی ڈگی میں رکھے کیمرے ہاتھ میں پکڑانے کی بجائے دہشتگردوں کو شناخت کر کے پہلے چیک پوائنٹ پر ہی روک پانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

[/urdu]

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.