ایک محب وطن جرنیل کی داستان

The Colonels of Greek Junta
The Colonels of Greek Junta. Dimitrios Ioannidis in Red Circle.

ایک محب وطن جرنیل کی داستان، جو اپنے ملک کو ڈبونے کے ساتھ ساتھ اپنے ہمسائے کو بھی ڈبو گیا تھا۔

“جو یہاں داخل ہوتا ہے، یا تو دوست بن کر نکلتا ہے یا اپاہج بن کر”

[urdu size=”20″]

سات سمندر پار ایک یونان نامی ملک ہوا کرتا ہے۔ پہلے سکندر نامی ایک بادشاہ کی وجہ سے مشہور ہوا اور اب کنگلا ہونا اس کی وجہ شہرت ہے۔ ان دونوں کے بیچ میں دیمیتری آیانیدیس نامی ایک بریگیڈئیر جنرل صاحب بھی آتے ہیں جو جذبہ حب الوطنی کے ہاتھوں اس قدر مجبور ہوئے کہ اپنے ملک کے سیاستدانوں کی حب الوطنی پر شبہ ہوا تو ان کے خلاف فوجی بغاوت کرا دی اور ایک جارج پاپا دوپولوس نامی محب وطن شخص کو حکمران بنا دیا۔ تاریخ میں یہ بغاوت کرنیلوں کی بغاوت کے نام سے مشہور ہے۔ اس وقت یہ جنرل صاحب ملٹری اکیڈمی کے چیف تھے۔ بغاوت کے بعد انہوں نے ملٹری پولیس کے چیف کا عہدہ سنبھالا اور اسے بیس ہزار سے زاید افراد پر مشتمل ایک جاسوسی ادارے میں تبدیل کر دیا۔ اس ادارے نے سیاسی و نظریاتی مخالفین پر ظلم و تشدد کی ایک شرمناک داستان رقم کی۔ اس ادارے سے فوج کے سربراہان بھی خوف کھاتے تھے کیونکہ یہ ان کی توہین کرنے میں عار محسوس نہیں کرتا تھا۔ کرنیلوں کی اس باغی حکومت کی طاقت درمیانے درجے کے افسران کی حمایت تھی۔ انتہا یہ تھی کہ اس کے دفتر کے باہر یہ لکھا ہوا تھا کہ “جو یہاں داخل ہوتا ہے، یا تو دوست بن کر نکلتا ہے یا اپاہج بن کر”۔

انہیں دنوں فوج کی جبری بھرتی کے خلاف ایتھنز کی یونیورسٹی میں احتجاج ہوا۔ جنرل صاحب کی حکومت کے مطابق اس میں گیارہ طلبا حکومتی اہلکاروں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔ بعد کی جمہوری حکومت کے مطابق گیارہ سے پچاس افراد ہلاک ہوئے اور گیارہ سو سے زائد زخمی ہوئے۔ اس احتجاج کے بعد جنرل صاحب نہایت حساس ہو گئے تھے۔ چند دن بعد انہیں شبہ ہوا کہ ان کا چنیدہ محب وطن جارج پاپا دوپولوس بھی غداری پر تلا ہوا ہے اور عوام کو سیاسی آزادی دے رہا ہے تو پھر اس کے خلاف مزید ایک بغاوت کرا دی اور ایک نیا بندہ حکمران بنا دیا۔ مخالف سیاستدانوں کو دور دراز جزائر میں قید کر دیا گیا۔ جنرل دیمتری آزادی رائے کے خلاف قانون نہیں بناتے تھے۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ جو اخبار بری بات لکھتا تھا، اگلی صبح اس کے دفتر پر سرکاری تالا لگا ہوتا تھا۔

ان ساری کامیابیوں کے بعد ان جنرل صاحب کا جذبہ حب الوطنی ریاست کی سرحدوں سے باہر چھلکنے لگا۔ انہوں نے نظریہ حب الوطنی کے تحت فیصلہ کیا کہ ارد گرد کے سارے علاقے جن میں یونانی رہتے ہیں، ان کو یونان میں شامل کر دیا جانا چاہیے تاکہ یونان کی عظمت رفتہ بحال ہو سکے۔ سو ان کی نظر انتخاب قبرص پر پڑی۔

قبرص 1960 میں برطانیہ سے آزاد ہوا تھا۔ ایک معاہدہ آزادی ہوا تھا جس میں ترکی، یونان اور برطانیہ ضامن تھے کہ ترکی النسل اور یونانی النسل افراد کے درمیان حقوق کا معاملہ بخوبی طے ہو گا۔ قبرص میں یونانی چرچ کا پوپ کے رتبے کا آرچ بشپ ہوتا ہے۔ آرچ بشپ مکاریوس پہلے صدر بنے۔ وہاں نسلی فسادات ہوتے رہے اور یونان سے الحاق کی حامی ایک دہشت گرد تنظیم وہاں موجود تھی۔ قبرص کی فوج میں یونانی فوجی افسر تعینات کیے گئے تھے۔

آرچ بشپ مکاریوس نے یونان سے الحاق میں دلچسپی نہ دکھائی بلکہ 20 جولائی 1974 تک فوج کے تمام یونانی افسران کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔ جنرل دیمیتری کو آرچ بشپ مکاریوس صاحب پر پہلے ہی کمیونسٹ ہونے کا شبہ تھا اور وہ انہیں سرخ پادری کہتے تھے۔ اس اقدام کے بعد تو مکاریوس کے محب الوطن ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ دوسرے ملک کا تھا تو کیا ہوا، جنرل صاحب کی نظروں میں تھا تو وہ ایک غدار صدر۔ سو جنرل دیمیتری نے پندرہ جولائی کو یونانی افسران کے ذریعے قبرص میں فوجی بغاوت کرا دی اور صدر مکاریوس کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ مگر وہ خوش قسمتی سے برطانوی فوج کی مدد سے ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

Nicos Samson
Nicos Samson

جنرل دیمیتری نے ایک نکوس سیمپسن نامی ایک محب وطن قبرصی کو صدر کے عہدے پر فائز کر دیا جو کہ یونان سے الحاق کا شدید حامی تھا۔ نکوس ایک صحافی تھا۔ آزادی سے پہلے وہ برطانوی فوجیوں کے قتل میں ملوث رہا تھا۔ لیکن تھا وہ پکا صحافی۔ قتل کرنے کے بعد مقتول کی تصویر اتارتا تھا، اور اپنے اخبار کو بریکنگ نیوز دے دیتا تھا۔ جب پندرہ کے قریب ایسی بریکنگ نیوز مل گئیں تو پولیس کو شبہ ہوا اور موصوف پکڑے گئے۔ پولیس کے مطابق نکوس نے پندرہ سے کہیں زیادہ برطانوی فوجیوں کو قتل کیا تھا۔ موصوف نے ایک قتل کا اعتراف کیا مگر عدالت نے اس لیے بری کر دیا کہ اعتراف جرم تشدد کے زیر اثر کیا گیا ہو گا۔ پھر بعد میں ایک دوسرے واقعے میں نکوس کو غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں سزائے موت دی گئی۔ اسی اثنا میں قبرص کو آزادی مل گئی اور معاہدہ آزادی کے تحت تمام ایسے مجرموں کو معاف کر دیا گیا۔ نکوس نے “جنگ” [ماخی] نامی اخبار نکال کر دوبارہ صحافت شروع کر دی۔

اسی اثنا میں یونان سے الحاق کے خواہش مند انتہا پسند یونانیوں نے ترکوں سے نسلی فسادات شروع کر دیے گئے تاکہ ملک کو غیر محب وطن ترک افراد سے پاک کر دیا جائے۔ نکوس ان فسادات میں نمایاں کردار ادا کرتا رہا۔ اومورفیتا نامی ترک آبادی والے قصبے میں قتل عام کے بعد نکوس کو ترکوں نے اومورفیتا کے قصاب کا خطاب دیا، اور یونانی انتہاپسندوں نے اسے اومورفیتا کا فاتح قرار دیا۔

تو ترکوں کے اس قصاب کے سربراہ مملکت بنائے جانے کے پانچ دن بعد ہی ترکی نے قبرص پر حملہ کر دیا جس کا اسے معاہدہ آزادی کے ضامن کے طور پر حق حاصل تھا۔ کیرینیا نامی بندرگاہ جہاں وہ اترے تھے، اس پر تعینات دفاعی فوج آرچ بشپ مکاریوس کو باغیوں سے بچانے کے لیے دارالحکومت نکوسیا جا چکی تھی اور ترکوں کو فوج اتارنے میں دقت پیش نہیں آئی۔ نتیجے میں اٹھارہ فیصد ترک آبادی کو اڑتیس فیصد رقبہ حاصل ہو گیا۔

اس کے ساتھ ہی شدید عوامی غم و غصے کے باعث ایک طرف یونان میں جنرل دیمیتری کی فوجی جنتا کی حکومت گر گئی اور دوسری طرف قبرص میں نکوس سیمپسن نے استعفی دے دیا اور آرچ بشپ مکاریوس نے دوبارہ صدر کا عہد سنبھال لیا۔ اب قبرص کا مسئلہ چالیس سال سے اقوام متحدہ میں لٹکا ہوا ہے۔

جمہوری حکومت نے جنرل دیمیتری پر 14 جنوری 1975 میں غداری، بغاوت اور طلبا کے قتل کا مقدمہ چلایا گیا اور انہیں سزائے موت دے دی گئی جو کہ فوراً ہی عمر قید میں تبدیل کر دی گئی۔ 2007 میں چوراسی سالہ جنرل صاحب نے خرابی صحت کی بنیاد پر معافی کی درخواست کی جو کہ مسترد کر دی گئی۔ پینتیس سالہ قید کے بعد جنرل صاحب 2010 میں راہی ملک عدم ہوئے۔

ان کی شہرت انتہائی سادہ زندگی بسر کرنے والے ایک درویش جرنیل کی تھی۔ بریگیڈئیر جنرل سے اوپر وہ نہیں پہنچے اور اسی لیول پر رہ کر پس پردہ سات سال تک ایک بادشاہ گر حکمران رہے۔ یونان میں یہ بات مشہور ہے کہ جنرل دیمیتری کا سی آئی اے سے معاہدہ ہوا تھا کہ چھے ہزار ترک فوجیوں کو قبرص پر اتار کر ایک نہایت چھوٹا سا ترک علاقہ بنا کر باقی جزیرے کا یونان سے الحاق کر دیا جائے گا۔ جنرل صاحب بعد میں دعوی کرتے رہے کہ ان کو امریکیوں نے بے وقوف بنا دیا تھا ورنہ وہ ترک فوجیوں کو جزیرے پر اترنے ہی نہ دیتے، حالانکہ اس محاذ پر موجود فوج ان کے خلاف اور صدر مکاریوس کی حمایت میں لڑ رہی تھی۔

نکوس سیمپسن کو قبرص میں مقدمہ چلا کر اختیارات کے ناجائز استعمال پر بیس سال قید کی سزا سنائی گئی۔ تین سال بعد ہی اسے طبی بنیادوں پر فرانس جانے کی اجازت دے دی گئی جہاں وہ دوستوں رشتے داروں کی مالی امداد پر زندگی گزارتا رہا۔ 1990 میں وہ واپس آیا اور تین سال کی قید کاٹ کر اپنی سزا پوری کی اور دوبارہ صحافت شروع کر دی۔ 2001 میں پینسٹھ سال کی عمر میں وہ کینسر میں مبتلا ہو کر انتقال کر گیا۔

قبرص میں اب جابجا یونان کے جھنڈے تو نظر آتے ہیں لیکن یونان سے الحاق کا زور نہیں ہے۔ بچارے قبرصی اب اپنے وطن کی تقسیم دیکھتے ہیں اور غم کھاتے ہیں۔ اگر حب الوطنی کے نام پر انتہاپسندی کی طرف جانے کی بجائے وہ اقلیتی ترکوں کو ان کا پر امن زندگی بسر کرنے کا حق دے دیتے تو ان کے ملک کے دو ٹکڑے نہ ہوتے اور ایک جنت نظیر سر زمین امن کا گہوارہ ہوتی۔

کبھی کبھی حب الوطنی کے نام پر انتہاپسندی کی راہ دکھانے والے مروا دیتے ہیں۔ اور اب یہ بات یہ قبرص والے بھی بخوبی جانتے ہیں اور پاکستان والے بھی۔

[/urdu]

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

One thought on “ایک محب وطن جرنیل کی داستان

  • August 17, 2015 at 3:12 am
    Permalink

    “اگر حب الوطنی کے نام پر انتہاپسندی کی طرف جانے کی بجائے وہ اقلیتی ترکوں کو ان کا پر امن زندگی بسر کرنے کا حق دے دیتے تو ان کے ملک کے دو ٹکڑے نہ ہوتے اور ایک جنت نظیر سر زمین امن کا گہوارہ ہوتی”

    yahi kaam bengalioon say kartay tu…

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published.