بھیا ڈھکن فسادی

ایک نوسر باز شخص کی کہانی، جو عالم نہ ہو کر بھی عالم بنا بیٹھا تھا۔

بھیا ڈھکن فسادی

bhaya dhakan

نام تو ان کا صہیب عباس مجن مجاہدی تھا، لیکن شہرت دوام انہوں نے بھیا ڈھکن فسادی کے نام سے پائی۔ اس ناچیز کو ابھی بھی ان سے پہلی ملاقات کا دن ایسے ہی یاد ہے جیسے کل کی بات ہو۔ ہمارے ایک عزیز دوست کامریڈ لال خان سرخپوش ہمارے ہوسٹل کے کمرے میں وارد ہوئے اور کہنے لگے کہ انہوں نے آج محض ہماری خاطر پلاؤ اور زردے کی دیگوں کا بندوبست کیا ہے۔ ٹھیک پونے دو بجے ان کے فلیٹ پر یہ نعمتیں دستیاب ہوں گی۔ صبح سویرے ہی یہ خبر سن کر ناقابل بیان خوشی ہوئی۔ روز ہوسٹل کا کھانا کھانے والوں کو دیگی پلاؤ زردے کی نوید ایسی ہی تھی جیسے لنچ میں من و سلویٰ پیش کیے جانے کا اعلان کر دیا گیا۔ کامریڈ لال خان تو تھینک یو کہہ کر رخصت ہوئے اور گو ابھی نور کا تڑکا تھا اور صبح کا محض ایک ہی بجا تھا، لیکن ہم محض چند منٹ میں تیار ہو کر ٹھیک پونے دو بجے اس عمارت کے سامنے پہنچے جہاں کامریڈ لال خان کا انقلاب ہاوس واقع تھا۔ باہر دیگوں کے کھڑکنے کی آواز اور لذیذ پلاؤ کی اشتہا انگیز خوشبو نے استقبال کیا۔ ہم نے سوچا کہ کمیونسٹ بھی نیک لوگ ہی ہوتے ہیں۔ مل بانٹ کر کھانے پر یقین رکھتے ہیں۔ کامریڈ لال خان نے اتنا خرچہ محض اپنے دوستوں کی خوشنودی کے لیے کر دیا۔ بلاشبہ کامریڈ لال خان ایک یار باش شخص ہیں۔

انقلاب ہاؤس میں پہنچے تو وہاں سفید چاندنیاں بچھی ہوئی تھیں اور چند مفکرین اور انقلابی خاموش بیٹھے سامنے موجود خالی پلیٹوں کو گھور رہے تھے۔ کامریڈ لال خان کا حلقہ احباب ہر طرح کے لوگوں پر مشتمل ہے۔ ان میں ہمارے جیسے فاسقین بھی شامل ہیں، پرجوش انقلابی بھی، شاعر بھی، اور متقین بھی۔ سلام دعا کے بعد اپنی جگہ سنبھال کر ابھی ہم نے اپنی پلیٹ کو گھورنا شروع ہی کیا تھا کہ ایک بلند آہنگ ‘السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ’ کی صدا نے چونکا دیا۔

دروازے میں ایک دراز ریش مولانا کھڑے تھے۔ عمر کوئی پچیس سال کے لگ بھگ ہو گی۔ بھرا بھرا سا بدن، چہرے پر مسکراہٹ، سر پر چو خانہ رومال بندھا ہوا تھا، ٹخنوں تک اونچی شلوار اور گھٹنوں تک لانبا سپید کرتا۔ دروازے سے بمشکل اندر داخل ہوئے۔ ان کے ساڑھے چار فٹ کے قد کی وجہ سے دروازے کی اونچائی نے تو کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی کی لیکن دروازے کی چوڑائی نے کافی مزاحمت کی۔ انہوں نے سامنے پڑی پلیٹوں کو دیکھا، سانس اندر کھینچا اور ‘حق ہے’ کا نعرہ لگا کر زور کیا تو اب دروازہ ان کو روک نہ پایا اور وہ چاندنی پر دراز ہو گئے۔ چند ایک دبی دبی سی چیخیں سنائی دیں۔ وہ نیچے دبے ہوئے لوگوں پر سے اٹھے اور چڑھتی سانسوں کے درمیان کپڑے جھاڑتے ہوئے میرے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولے ‘بخدا برادر لال خان، اگر تم نے اتنے خلوص سے دعوت نہ دی ہوتی تو فقط پلاؤ کھانے کے لیے میں تین منزلیں ہرگز نہ چڑھتا’۔

کامریڈ لال خان بولے ‘مولانا، دعوت تو میں نے آپ کو نہیں بلکہ آپ کے ساتھ والے کمرے کے لڑکے کو دی تھی۔ آپ تو اس وقت برآمدے میں اس کے دروازے کے باہر کھڑے تھے۔ اور اس نے مصروفیت کی وجہ سے آنے سے معذرت کر لی تھی’۔

‘ہمسائیوں سے بڑھ کر اور کس کا حق ہوتا ہے۔ ہمسائیوں کے حقوق کا تو یہ عالم بیان کیا گیا ہے کہ ان کو وراثت میں شریک کر دیے جانے کا گمان پیدا ہو گیا تھا۔ وہ نہیں آیا تو اس کا فرض پورا کرنے خدا کا یہ عاجز بندہ حاضر ہو گیا ہے۔ بہرحال یہ سب چھوڑو، یہ بتاو کہ پلاؤ میں گوشت تو برابر کا ڈلوایا ہے نہ۔ دس کلو چاولوں میں ایک کلو گوشت ڈال کر حاتم طائی کی قبر پر لات تو نہیں مار دی؟’

کامریڈ لال خان مسکرا کر بولے ‘گوشت برابر کا ہی ہوگا۔ پہلی منزل والے سید خادم حسین شاہ صاحب پراپرٹی ڈیلر نے نیاز حسین دی ہے۔ اور وہ اس میں کبھی کوئی کمی نہیں کرتے۔ کھلے ہاتھ سے خرچتے ہیں اہل بیت کے نام پر’۔

‘استغفراللہ۔ یعنی تم رافضیوں کے پڑوس میں رہ رہے ہو۔ ایک تو پہلے ہی ملحدانہ کمیونسٹ نظریات رکھتے ہو اور رہائش چنی تو روافض کے اوپر۔ یعنی ایک تو کریلا اوپر سے نیم چڑھا۔ سچ کہا ہے بزرگوں نے، کفار ہی کفار کے دوست ہوتے ہیں۔ ہمارا خیال تھا کہ ہماری صحبت سے تم کچھ اثر پکڑو گے مگر تم تو دن بدن بگڑتے ہی جا رہے ہو۔ معلوم ہے کہ یہ نیاز حسین کیا ہے؟ مطلق حرام ہے۔ حسین کے نام کی نیاز دینا شرک ہے۔ نذرونیاز صرف اللہ تعالیٰ کے نام کی دینی چاہیے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نہ کسی چیز کے خالق ہیں نہ مالک۔ نیاز حسین کھانا اس لیے حرام ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام کے علاوہ کسی اور کے نام کی دی ہوئی چیز سور اور مردار کی طرح حرام ہے۔ یہ تم کو ہی مبارک ہو۔ مجھے کوئی حلال چیز ہی کھانے کے لیے دو۔ قسم ہے پاک پروردگار کی، اگر تین منزلیں چڑھ کر یہاں نہ آیا ہوتا تو یہاں پانی کا ایک گھونٹ پینا بھی حرام سمجھتا۔ لیکن شکر ہے میرے رب کا جس نے مجبوری کی حالت میں اپنے بندوں پر نرمی کی گنجائش مرحمت فرمائی ہے’۔

۔’مولانا آپ کے لیے کچھ بندوبست کرتا ہوں۔ پرسوں کا پکایا ہوا کدو دال کا سالن پڑا ہے۔ وہی گرم کر کے پیش کرتا ہوں’، کامریڈ لال خان۔ اس طرح بولے جیسے مولانا کا یہ لیکچر ان کے لیے معمول کی چیز ہو جسے وہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑانے کے عادی ہوں۔

۔’جزاک اللہ’۔ مولانا پھیل کر بیٹھتے ہوئے بولے۔ زردے پلاؤ کی قابیں آ گئیں اور مولانا کے سامنے دال کدو کی پلیٹ اور دو تندوری روٹیاں بھی رکھ دی گئیں۔ پلاؤ واقعی لاجواب تھی۔ اشتہا انگیز خوشبو کی لپٹیں اٹھنے لگیں اور سب چٹخارے لے لے کر کھانے لگے۔

مولانا دو تین لقمے دال کدو کے کھائے۔ پھر کچھ دیر میری پلیٹ کو گھورتے رہے۔ اور پھر بولے ‘یہ نیچے عمر حبیب نائی کی دکان ہی تھی نہ؟ میں نے بورڈ پڑھا تھا۔ اسی نے یہ دیگ پکائی ہوگی۔ شکل سے یہ حلال ہی لگ رہی ہے۔ ذرا یہ پلاؤ کی قاب ادھر سرکاو۔ ہمارے سنی بھائی کا پکایا ہوا کھانا لگتا ہے۔ رافضی نے محض پیسے ہی دیے ہوں گے۔ میرا پاک رب بھی کیسے شیطانوں اور کفار کے ہاں سے بھی اپنے محبوب بندوں کے لیے پاک رزق کا سبب پیدا کر دیتا ہے’۔

لال خان نے پلاؤ کی قاب ان کے سامنے رکھتے ہوئے کہا ‘یہ لو بھیا ڈھکن، موج کرو’۔

چند منٹ میں ہی وہ تین پلیٹیں صاف کر گئے۔ میں نے ساتھ پڑی ہوئی زردے کی قاب بھی ان کی طرف سرکا دی۔ انہوں نے بہ آواز بلند جزاک اللہ کہا اور پلیٹ کو سامنے سے ہٹا کر زردے کی قاب میں ہی کھانا شروع ہو گئے۔

بعد میں کامریڈ لال خان کے ساتھ کئی کھانوں پر ان سے سامنا ہوا اور دھیرے دھیرے بے تکلفی ہو گئی۔ جب بے تکلفی بڑھی تو ایک دن ان سے پوچھ ہی لیا کہ ‘سب آپ کو بھیا ڈھکن فسادی کیوں کہتے ہیں۔کیا یہ ماں باپ کا دیا ہوا نام ہے؟’ انہوں نے مجھے گھورا تو میں نے گھبرا کر وضاحت کی کہ مقصد صرف تحصیل علم ہے، بخدا معترض ہرگز نہیں ہوں۔

وہ بولے ‘اب زمانہ ہی ایسا آگیا ہے۔ قرب قیامت ہے۔ دوسروں کی مدد کریں تو آدمی برا ہی بنتا ہے۔ والدین نے نام تو میرا صہیب عباس رکھا تھا اور مولانا مجاہد چڑیاکوٹی سے فیض پانے کے بعد میں نے مجاہدی کا سابقہ لگا لیا اور ملا مجن مجاہدی کے نام سے شہرت پائی۔ لیکن پھر ایک ایسا واقعہ ہوا کہ سب کے ذہن سے میرا نام ملا صہیب عباس مجاہدی نکل گیا اور وہ مجھے اس دوسرے نام سے پکارنے لگے۔ ہوا یوں کہ دو تین سال پہلےمحلے سے کوئی نابکار نشئی گٹر کا ڈھکن چرا کر لے گیا۔کافی خطرہ پیدا ہوگیا کہ کوئی اس میں گر نہ جائے۔ محلے کے لڑکے بالے ساتھ والے محلے سے گٹر کا ایک ڈھکنا رات کی تاریکی میں ایک گھر کے سامنے موجود گٹر سے مستعار لے آئے۔ گھر کے مالک کو صبح ہی پتہ چلا ہوگا کہ اس نے خلق خدا کو پریشانی سے بچانے کے لیے کی جانے والی کیسی نیکی میں حصہ ڈالا ہے۔

ان لڑکوں نے ہمارے محلے کے گٹر کے اوپر رکھنا چاہا تو معلوم ہوا کہ وہ سرکاری گٹر کے ڈھکنے سے محیط میں چھوٹا تھا۔ وہ لوگ ہاتھ پاوں چھوڑ گئے کہ یہ نہیں لگے گا۔ میں آگے بڑھا اور ان پر لعنت  ملامت کی کہ اتنی محنت سے خطرے سے بچاؤ کا سبب پیدا کرنے کے بعد وہ حوصلہ ہار رہے ہیں۔میں نے بسم اللہ پڑھی اور ڈھکن اٹھا کر گٹر پر رکھ دیا۔ اس کے کنارے ٹک گئے اور میں نے فاتحانہ انداز سے ان ہڈحرام نوجوانوں کی طرف دیکھا ہی تھا کہ ان میں سے ایک مفسد نظر آنے والا بولا کہ مولانا، یہ وزن ہرگز نہیں سہار پائے گا۔ اس کے کنارے ہی بمشکل ٹکے ہوئے ہیں۔ میں نے غصے سے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ ایسے کم ہمت لوگ ہی امت کے زوال کا باعث ہیں۔ اور پھر گٹر کے ڈھکن کے اوپر کھڑا ہو گیا۔ ابھی اس پر پورا وزن ڈالا ہی تھا کہ وہ گٹر کے اندر گر گیا۔ میں بھی گر جاتا لیکن الحمدلاللہ اس دن کھانا معمول سے کچھ زیادہ ہی کھایا ہوا تھا۔ پیٹ نے مزید گرنے سے روک دیا۔ صرف ٹانگیں اندر جا پائیں۔ محلے کے لوگوں نے بہ ہزار دقت باہر نکالا۔ آج کل کے جوان بھی بس نام کے ہی جوان ہوتے ہیں۔ مجھ جیسے ناتواں شخص کو چھ لوگ مل کر اٹھا پائے۔ اس دن سے ان لوگوں نے میرا نام بھیا ڈھکن رکھ دیا’۔

‘اور فسادی کا لاحقہ کیسے آپ کے نام کا حصہ بنا؟’ میں نے تجسس سے پوچھا۔

۔”یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ پھر کبھی سناوں گا۔ ابھی کھانے کا وقت ہو رہا ہے۔ کچھ بندوبست کرو” وہ مسکرا کر بولے۔

“ارے لمبی کہانی کو ہم مختصر کیے دیتے ہیں”، کامریڈ لال خان نے کہا جو ایک کونے میں بیٹھے دھواں اڑا رہے تھے۔ “ماجرا بس یہ ہے کہ بھیا نے جو ملا مجاہد چڑیا کوٹی کا ذکر کیا ہے، وہ اپنے زور بازو سے مولانا بن بیٹھے تھے۔ کبھی کسی مدرسے کا منہ نہیں دیکھا تھا اور بمشکل پڑھ لکھ سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے شرعی حلیہ بنا کر ایک سرکاری زمین پر مسجد بنا ڈالی اور وہاں فرقہ واریت پر مبنی تقریریں کرنے لگے۔ ان کے الفاظ میں آگ تھی جو کہیں بھی فساد کرانے پر قادر تھی۔دیکھتے ہی دیکھتے ان کا حلقہ اثر بڑھتا گیا اور ان کے درجات بھی بلند ہوتے گئے حتی کہ وہ سائیکل سے لینڈ کروزر پر منتقل ہو گئے۔ بھیا ڈھکن فسادی بھی انہیں کے نقش قدم پر چلے ہیں۔ چار سورتوں سے زیادہ کچھ یاد نہیں ہے لیکن بڑے سے بڑے عالم سے مناظرہ کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ جب خود کو بحث میں ہلکا پاتے ہیں تو فساد برپا کر دیتے ہیں۔ اسی لیے فسادی مشہور ہوئے ہیں۔ ذاتی زندگی میں یہ فرقہ ملامتیہ سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن ملامتی صوفیوں کے برعکس یہ سر عام کی بجائے چھپ کر ملامتی پنا کرتے ہیں اور سب کے سامنے فرشتہ بنے رہتے ہیں۔ انہیں بس میٹھے پان والا ہی سمجھو”۔

بھیا ڈھکن چپ چاپ بیٹھے مسکرایا کیے اور ہم تعجب کرتے رہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.