مسخ کی گئی تاریخ کے سائیڈ افیکٹ

 تاریخ مسخ کر کے بچوں کو پڑھانے پر چند تاثرات۔   کہتے ہیں کہ آدھا سچ پورے جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔

[urdu size=”20″]

distorted history
Lion Capital of Ashoka, Lahore Museum.

جناب عامر خاکوانی صاحب انتیس اگست کو روزنامہ دنیا میں شائع ہونے والے اپنے حالیہ کالم “مسخ ہوتی تاریخ، ایک متبادل بیانیہ” میں فرماتے ہیں کہ “ہمارے ہاں مذہبی نقطہ نظر رکھنے والے افراد جنہیں عام اصطلاح میں رائیٹ ونگ یا اسلامسٹ کہا جاتا ہے، فکری طور پر ترجمانی سے محروم ہو چکے ہیں ،،،، ڈرے سہمے اور آواز سے محروم رائیٹ ونگ کی جانب سے بھی متبادل بیانیہ پیش کیا جا سکتا ہے”۔

اللہ اللہ۔ یہ پڑھ کر ڈرے سہمے اور آواز سے محروم حضرت اوریا مقبول جان اور حضرت انصار عباسی صاحبان اپنی اپنی گھومنے والی کرسی پر چکرا کر رہ گئے ہوں گے اور روزنامہ امت کے قلمی مجاہدین اپنی بے کسی اور بے نوائی پر تڑپ اٹھے ہوں گے۔

خاکوانی صاحب نے محترم ڈاکٹر عاصم اللہ بخش صاحب کے نقطہ نظر کو پیش کیا ہے کہ تاریخ کے ایک واقعے کو کو مختلف زاویہ نظر سے دیکھا کر لکھا جا سکتا ہے۔ مثلاً ڈیفینس کے ایک صاحب کے نزدیک بارش سے ہر چیز نکھر گئی اور یہ ایک بہترین موسم والا دن تھا۔ دوسری طرف شمالی لاہور کی کچی بستی کے مکین کے نزدیک یہ ایک ہولناک دن تھا جس سے اس کا بے پناہ نقصان ہوا۔ دونوں میں سے کسی پر تاریخ کو مسخ کرنے کا الزام نہیں لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے وہ لکھا جو انہوں نے محسوس کیا۔

وہ دلیل دیتے ہیں کہ ہم اس لیے پاکستان کی تاریخ محمد بن قاسم سے شروع کرتے ہیں اور اشوک وغیرہ سے نہیں کیونکہ ہم ستر سال پہلے پاکستانی بنے ہیں۔ مصری اپنے فراعنہ پر، اور اہل فارس اپنے بادشاہوں پر فخر کر سکتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ سے ہی مصری یا ایرانی تھے۔  پاکستان اپنے وجود کی تاویل دینے کے لیے اپنی تاریخ محمد بن قاسم سے شروع کرتا ہے اور اس لیے اشوک وغیرہ کو فٹ نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے وارث واہگہ پار ہیں۔ ان کے کہنے کا مفہوم ہے کہ اگر جغرافیے  کو تاریخ سے جوڑا گیا تو وہ مشترکہ نکل آئے گا اور ہمارے ہاتھ سے پاکستان بنانے کی تاویل نکل جائے گی۔ تاریخ کو وہ ایک رائے اور پوزیشن قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسے مسخ نہیں کہا جا سکتا ہے۔

اسی طرح تحریک پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے وہ احرار اور خاکسار وغیرہ جیسی نیشنلسٹ مسلمانوں کی تنظیموں کا ذکر کرنے کو مناسب نہیں جانتے ہیں کیونکہ پاکستان کی تحریک میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔ ویسے بھی ان کا ذکر شامل ہو تو پھر کانگریس کا ذکر بھی شامل کرنا پڑے گا۔ ان کے نزدیک قیام پاکستان کی تحریک ہندوستان کی آزادی کی تحریک کا حصہ نہیں تھی اس لیے بھگت سنگھ وغیرہ اس کا حصہ نہیں تھے [اور ان کو پاکستان کی تاریخ سے خارج کیا جانا چاہیے]۔

خاکوانی صاحب کے ان دلائل کا جواب دیتے ہوئے سب سے پہلے تو ہم اس پر متفق ہوتے ہیں کہ ایک ہی واقعے کو دیکھنے اور لکھنے کے کئی پہلو ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر شمالی لاہور کا باشندہ اپنی تاریخ لکھتے ہوئے ساتھ یہ بھی لکھے کہ اس کے علاقے میں بارش زیادہ ہونے کا ذمہ دار ڈیفینس کا باشندہ ہے جس کی سازش سے یہ بارش اس کے گھر پر اتنی برسی ہے کہ اس کی چھت گر گئی لیکن ڈیفینس پر صرف اتنی برسی کہ وہاں ہر چیز نکھر گئی، تو اسے محض ایک اختلافی نقطہ نظر نہیں بلکہ تاریخ کو مسخ کرنا ہی کہا جائے گا۔ اگر ہم پینسٹھ کی جنگ کے بارے میں یہ کہیں کہ ہم بے خبری میں گھر میں سوئے پڑے تھے کہ بزدل دشمن نے بغیر اعلان جنگ کیے ہم پر حملہ کر دیا، تو اسے تاریخ کو مسخ کرنا ہی کہتے ہیں۔ اگر ہم یہ نہیں بتاتے ہیں کہ ہم نے فوجی مہم جوئی کرتے ہوئے آپریشن جبرالٹر شروع کیا تھا جس کے جواب میں بھارتی وزیر اعظم نے اپنی پسند کا محاذ کھولنے کی دھمکی دی تھی، لیکن ہم انٹا غفیل ہو کر پڑے رہے اور سرحد پر بھرپور بھارتی حملہ روکنے کے لیے صرف ایک رینجرز کی کمپنی ہی تعینات رہی، تو پھر یہ تاریخ کو مسخ کرنا نہیں تو اور کیا ہے؟ اپنی نااہلی چھپانے کے لیے سفید جھوٹ بولنا تاریخ کو مسخ کرنا ہی ہوتا ہے۔

تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے اگر ہم نیشنلسٹ اور کانگریسی مسلمان لیڈروں کے ذکر سے احتراز کرتے ہیں، تو پھر خلافت موومنٹ کو کیوں اہمیت دی جاتی ہے جس میں مسلمان لیڈر اور کانگریس بشمول گاندھی، خلافت عثمانیہ کی مدد کے لیے تحریک چلا رہے تھے، اور ہمارے ناقص ترین علم کے مطابق مسلم لیگ اس تحریک کی مخالف تھی۔

تاریخ تحریکوں کی بھی ہوتی ہے، اور خطوں کی بھی۔ اگر اس خطے میں موجود قومیتوں اور تقافتوں کو ان کی تاریخ و تمدن سے محروم کیا جائے گا تو نتیجہ کیا نکلے گا؟ کیا عظیم ترین کشان سلطنت کا ذکر حذف کرنا درست ہے جو کہ چین، افغانستان، تاجکستان اور برصغیر کے بڑے خطوں پر مشتمل تھی اور اس کا دارالحکومت پشاور تھا؟ کیا گندھارا کی عظیم تہذیب پر ہم مٹی ڈال کر دفن کر دیں؟ دنیا کے قدیم ترین مسلسل آباد شہروں میں سے ایک ملتان اور اس کی تہذیب کو ہم بھول جائیں؟ وادی سندھ کی تہذیب جو اپنے دور عروج میں مصر اور میسوپوٹیمیا کی عظیم ترین تہذیبوں سے مقابلہ کرتی تھی، اور پانچ ہزار سال پہلے جس کے شہروں کی پلاننگ ہمارے موجودہ شہروں سے کہیں بہتر تھی، کیا اس غیر پاکستانی کافر تہذیب کے آثار مٹا دیں؟ کیا پنجاب میں ناقابل شکست عظیم ترین فاتح سکندر اعظم کی مہاراجہ پورس کے ساتھ لڑائی کو بھول جائیں جس کے بعد اس کے فوجیوں نے بغاوت کر کے واپسی کا اعلان کر دیا تھا؟ کیا پنجاب میں ہی منگولوں کی ظفر خان اور تغلق کے ہاتھوں ہونے والی  یکے بعد دیگرے شکستوں کو یکسر نظر انداز کر دیں؟

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اسی مقامی تہذیب کو بھولنے کی علت کی وجہ سے ہی مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بنا تھا۔ وہاں سب سے پہلا فساد اور کرفیو بنگالی زبان کے مسئلے پر ہی لگا تھا۔  ہم مقامی تہذیب، ثقافت اور تاریخ کو بھولتے رہے تو پھر تاریخ سے سبق سیکھنے کی بجائے اپنی پرانی غلطی ہی دہرائیں گے۔ اگر اپنی مٹی سے نہ جڑے تو پھر ہمارا وہی حال ہو گا جو کہ بغیر جڑ کے پودوں کا ہوتا ہے۔ اگر یہ خطہ اہم نہیں ہے، اور ہماری ساری پاکستانیت عراق کے حجاج بن یوسف، اور افغانستان کے محمود غزنوی اور شہاب الدین غوری وغیرہ سے جڑی ہو گی تو پھر کیا یہ تاریخ پڑھنے والے ہمارے بچے پاکستان کو ٹھکراتے ہوئے قندھار میں ملا عمر اور عراق میں ابو بکر البغدادی کی بیعت کرنے کو ایمان کا تقاضہ کیوں نہ سمجھیں گے؟ کیا جو دلیل پاکستان کے وجود کے لیے لازم قرار دی جا رہی ہے، حقیقت میں وہ پاکستان کے وجود کی نفی کی طرف نہیں لے جا رہی ہے؟

اور آخر میں خاکوانی صآحب کے کالم کے سب سے اہم حصے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ خاکوانی صاحب فرماتے ہیں کہ “دنیا بھر میں فارمیٹو ائیرز [تشکیلی سالوں] میں پہلا پیغام بچے کو وہ دیا جاتا ہے جو بیس [بنیاد] کو مضبوط کرنے کے علاوہ بنیادی اصول اس کے ذہن میں راسخ کر دیتا ہے۔ یہی افرمیٹو  [مثبت] بات ہے۔ اس کا تقابل اور اس میں شامل کمپلیکیٹنگ، پیچیدہ ، متضاد نظریات ، سازشی تھیوریز وغیرہ کا تذکرہ بہت بعد کی بات ہے۔ پھر پاکستان کی تاریخ کے  لیے بھی یہ اصول لاگو کرنے میں کیا قباحت ہے؟”

جناب آپ نے سو فیصد درست فرمایا ہے۔ بچے کے ابتدائی سال اہم ترین ہیں جب اس کا ذہن تشکیل پار رہا ہوتا ہے اور رویوں کا تعین کر رہا ہوتا ہے جو بیشتر صورتوں میں زندگی بھر اس کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس وقت یہ جو آپ سوشل میڈیا پر گالم گلوچ کا طوفان دیکھ رہے ہیں، یہ جو آپ معاشرے میں حد سے بڑھی ہوئی عدم برداشت دیکھ رہے ہیں جو کہ دہشت گردی کی صورت میں ایک بڑا عفریت بن کر پچاس ساٹھ ہزار لوگوں کی جان لے چکی ہے، اس کیا سبب کیا ہے؟ سبب یہی تشکیلی سال ہیں جب ہمیں بتایا جاتا ہے کہ جو چیز ہمارے ذہن میں بیٹھ گئی ہے، بلکہ بٹھا دی گئی ہے، وہی مکمل سچ ہے۔ اس سے ہٹ کر جو بات کرے گا وہ غدار وطن اور غدار وطن اور زندیق و منافق ہے۔

بجائے اس کے کہ بچوں کو ہم ایک ہی چیز کو یہ سکھائیں کہ ایک چیز کے کئی پہلو ہوتے ہیں، اور ہمیں اپنا ذہن کسی ایک پہلو کو برحق سمجھتے ہوئے مخالفت کو برداشت بنانے والا بنانا چاہیے، اور مخالف نقطہ نظر کا احترام کرنا چاہیے، ہم ذاتی مخالفت کو کفر، شرک اور غداری بنا دیتے  ہیں۔ زندگی میں تنوع اہم ہے۔ بچوں کو تنوع سے روشناس کرایا جانا چاہیے۔ اور نظریات کے تقابل اور منطقی انداز میں چیزوں کو سوچنے کی تربیت دینا چاہیے۔  اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ چھوٹی عمر میں یہ تقابل وغیرہ بچے پر بوجھ ہیں، تو پھر اس معصوم پر نظریات کا بوجھ ڈالنے کی بجائے اسے ترقی یافتہ ممالک کی طرح ابتدائی سالوں میں صرف اور صرف ایک اچھا انسان اور ایک اچھا شہری بنانے پر توجہ مرکوز کریں۔

اس پر نظریاتی بوجھ اس وقت ڈالیں جس وقت اس کا ذہن اس بوجھ کو سہار سکے۔ بچے کو بتائیں کہ پاکستان ہمارے لیے ضروری تھا، اور ان ان عوامل کی وجہ سے ضروری تھا، لیکن کئی اہم مسلم شخصیات نے ان ان دلائل کی وجہ سے اس کی مخالفت کی لیکن مسلمانوں کی اکثریت نے قیام پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا۔ مخالف رائے رکھنے والے یہ اکابرین مسلمانوں کے غدار ہرگز نہیں تھے، بلکہ انہوں نے وہ کیا جو وہ پوری دیانت داری سے مسلمانوں کے لیے بہتر سمجھتے تھے۔

ورنہ پھر ہم یہی شکوہ شکایت کریں گے کہ لیفٹ یا رائٹ کی آواز بہت کمیاب ہے ، بلکہ مریل ہے، اور ملک و معاشرہ عدم برداشت کے ہاتھوں تباہی کا شکار ہو چکا ہے اور لوگ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے قائل ہی نہیں ہیں۔

[/urdu]

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.