دو کہانیاں – عمران خان کا دھرنا اور سردار لہنا سنگھ جی کی لاٹری

Spread the love

[urdu size=”20″]

imran-khan

پہلی کہانی: عمران خان کا دھرنا

تو ہوا یوں کہ خان صاحب اپنا جلوس لے کر چلے اسلام آباد کی جانب۔ میاں صاحبان کی حکومت کی جان اٹک کر گلے میں آ گئی۔ کچھ دے دلا کر معاملہ طے کرنے کی کوشش شروع ہو گئی۔ پوچھا کہ خان صاحب، کیا مانگتے ہیں۔ خان صاحب نے چھے نکات نکال کر پیش کر دیے۔ کہنے لگے کہ میاں صاحب استعفی دیں، دوبارہ انتخابات کروائے جائیں، انتخابی اصلاحات کی جائیں ، غیر جانبدار حکومت قائم کی جائے، الیکشن کمیشن تحلیل کیا جائے، اور دھاندلی کے ذمہ داران کو سزا دی جائے۔ میاں کی حکومت شدید نروس تھی۔ سنا ہے کہ سارے نکات مان گئی، بس پہلا نہ مانا کہ میاں صاحب پہلے حکومت سے علیحدہ ہوں تو پھر باقی پانچ نکات پر عمل درآمد ہو۔ حکومت نے بہت منتیں کیں کہ عدالتی کمیشن بنا دیتے ہیں، وہ تحقیقات کر لے تو ہم مان لیتے ہیں، بس خدارا میاں صاحب کو تخت سے اتارنے کی ضد چھوڑ دو۔ خان صاحب اڑے رہے کہ نہیں، باقی سب کو چھوڑو، میاں صاحب کو اتارو، پھر بات بنے گی۔

پھر جانے کتنے دن بیت گئے۔ کتنے ساون برسے۔ کتنے مذاکراتی سیشن ہو گئے۔ لیکن بیل منڈھے نہ چڑھی۔ دھرنے کے کارکنان بھی سردی گرمی بارش دھوپ سب برداشت کرتے رہے۔ آنسو گیس سے ان کے آنسو نکلتے رہے۔ اور دوسری طرف حکومت کا ڈر نکلتا رہا۔ آخر ہوا یہ کہ اتنے مہینے گزرنے کے بعد خان صاحب پھر صرف عدالتی کمیشن کا مطالبہ کرتے نظر آئے لیکن حکومت اس میں بھی اب کوئی دلچسپی دکھانے کے موڈ میں نہ تھی۔ پھر سانحہ پشاور کے بعد خان صاحب نے دھرنا لپیٹ دیا۔ اور حکومت نے بہت احسان کر کے عدالتی کمیشن بنانے کا اعلان کر دیا۔ اور آج عدالتی کمیشن نے خان صاحب کو سکون کرا دیا۔

کہاں وہ وقت کہ خان صاحب سب کچھ جیتے ہوئے تھے، صرف استعفے پر اڑ کر نقصان کر بیٹھے۔ اور کہاں یہ کہ دھرنے کی خواری کے سوا کچھ بھی نہ ملا۔

دوسری کہانی: سردار کی لاٹری

سنا ہے کہ لدھیانے میں ایک بہت سیانے سردار جی ہوتے تھے۔ نام تھا ان کا سردار لہنا سنگھ جلسیانوالہ۔ پورے لدھیانے کے سرداروں میں ان کی بڑی ٹور [شان] تھی۔ انہوں نے ایک دن دس روپے کا لاٹری کا ٹکٹ خریدا۔ قسمت چمکی اور ان کا دس کروڑ کا انعام نکل آیا۔ سردار لہنا سنگھ جلسیانوالہ جی انعام لینے پہنچے اور کہنے لگے کہ “موتیاں والیوں، نکالو میرا پورا دس کروڑ اور اس بوری میں بھر دو”۔ لاٹری کمپنی کے افسر نے کہا کہ “سردار جی، ایسے نہیں ہوتا ہے۔ پانچ کروڑ ہم ابھی دیں گے، اور اگلے پانچ سال تک ایک ایک کروڑ دے کر دس کروڑ پورے کر دیں گے”۔

سردار لہنا سنگھ جلسیانوالہ جی نہایت شدید غصے میں آ گئے۔ کہنے لگے کہ “دیکھو، میرے ساتھ دس نمبری نہیں کرو۔ میں لاٹری جیت چکا ہوں۔ میرے پورے دس کروڑ یہیں گن دو”۔

لاٹری والے نے پھر کہا کہ “سردار جی، ایسے نہیں ہوتا ہے۔ پانچ کروڑ ہم ابھی دیں گے، اور اگلے پانچ سال تک ایک ایک کروڑ دے کر دس کروڑ پورے کر دیں گے۔ طریقہ یہی ہے”۔

سردار جی نہایت ہی زیادہ ناراض ہوئے اور چیخے “طریقہ جائے بھاڑ میں۔ میرے ساتھ چالاکی نہیں کرو۔ میں لدھیانے کا سب سے سیانا سردار ہوں، تمہارے چکروں میں نہیں آوں گا۔ میرا دس کروڑ یہیں گن دو ورنہ یہ پکڑو اپنا لاٹری کا ٹکٹ، اور میرے دس روپے واپس کر دو۔ ایسے دھوکے بازوں کے ساتھ میں کوئی لین دین کرنے کو تیار نہیں ہوں”۔

سردار لہنا سنگھ جلسیانوالہ جی نے لاٹری کا ٹکٹ اور  پانچ کروڑ وہیں چھوڑے اور اپنے دس روپے پکڑ کر دھرنے سے واپس گھر آ گئے۔

[/urdu]

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published.