ڈومیسٹک وائلنس کی تاریخ جائزہ اور حل

آج میں ڈومیسٹک وائلنس کے بارے میں غور کر رہا تھا کہ چلو پاکستان انڈیا وغیرہ میں تو غربت جہالت یا اینٹرٹینمنٹ کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے میاں بیوی میں سے جس کا داو لگے دوسرے کا قلعہ قمعہ کر کے شاد کام ہو جاتے ہیں۔ لیکن تعلیم یافتہ اور امیر امریکہ برطانیہ وغیرہ وغیرہ میں اس تفریح کی کیا domestic violenceوجہ ہے؟

اگر غور کیا جائے تو یہ اتنا پیچیدہ مسئلہ بھی نہیں ہے۔

ابتدائی زمانے میں انسان چھوٹے چھوٹے گروہ بنا کر رہتے تھے اور ان کا گزارہ شکار پر ہوتا تھا۔ سارا دن بھاگ دوڑ کر کے وہ کوئی جانور مار دیتے تھے. ان کی جبلت کی تقریبا ساری وحشت اور فرسٹریشن اسی سے نکل جاتی تھی۔ عورتوں کے بارے میں تاریخ خاموش ہے کہ وہ شکار میں شرکت کر کے فرسٹریشن نکالتی تھیں یا اس زمانے میں بھی کچن ان کے سپرد تھا اور وہ شکار کی بوٹی بوٹی کر کے شاد کام ہو جاتی تھیں۔ بہرحال شکار اور کچے پکے ڈنر کے بعد شدید تھکن اور شدید پیٹ درد کے باعث کسی فریق کی ڈومیسٹک وائلنس کی نہ چاہ رہتی تھی اور نہ ہمت۔

پھر زرعی دور آیا۔ اس میں معاشرہ شکار کی بجائے زراعت پر منتقل ہو گیا. اس زمانے میں قرضے ساہوکار بینک وغیرہ تو ہوتے نہیں تھے اس لیے کھیتی باڑی میں کوئی خاص ٹینشن نہیں ہوتی تھی۔ عام طور پر سارا دن واہی بیجی کے بعد میاں بیوی میں واہی تباہی بکنے یا لڑنے کی ہمت باقی نہیں بچتی تھی. کوئی بہت ہی ہمت والا ہو تو بھینس بکری کی ٹھکائی کر کے فرسٹریشن نکال لیتا تھا اور گھریلو تشدد کی ضرورت باقی نہیں رہتی تھی۔

پھر موجودہ صنعتی دور آ گیا۔ نہ جنگل رہے نہ شکار اور نہ کھیتی باڑی. لوگوں کی اکثریت شہروں میں رہنے لگی. اینٹرٹینمنٹ کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔ لوگ ٹی وی اور فلمیں دیکھ کر لطف اندوز ہونے لگے۔ لیکن جب ان کا نیا پن جانے لگا اور وہی پرانی گھسی پٹی کہانیاں بار بار دہرائی جانے لگیں تو لوگ مزید فرسٹریشن کا شکار ہو گئے اور یوں ڈومیسٹک وائلنس شدت اختیار کر گئی۔

لیکن اس سنگین مسئلے کا سادہ سا حل موجود ہے۔ اگر حکومت ہر گھر کو ایک بھینس خرید کر دے دے یا ایسا کرنے کے لیے آسان شرائط پر قرضے کی فراہمی کو یقینی بنا دے تو گھریلو تشدد پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ جس کا دل کرے گا بھینس کی پٹائی کر کے ساری فرسٹریشن نکال لے گا۔ اس کے علاوہ دودھ دہی سے لوگوں کی عمومی صحت بھی بہتر ہو جائے گی اور ایندھن کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور لوگوں کو وقت گزارنے کے لئے ایک صحت مندانہ ایکٹیوٹی بھی مل جائے گی۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

One thought on “ڈومیسٹک وائلنس کی تاریخ جائزہ اور حل

  • January 29, 2015 at 6:37 pm
    Permalink

    حیوانات کے ہمدردوں کا کیا ہوگا؟

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published.