الیکشن کی تیاری

 

زرداری کی الیکشن سٹریٹیجی

زرداری، راجہ پرویز اشرف، یوسف رضا گیلانی، خورشید شاہ بیٹھے حکمت عملی تشکیل دے رہے ہیں۔

Pakistan_Politics_Funny_zardari_17_mpzpmزرداری: گیلانی صاحب، یہ بی جے پی کو آپ نے ہی سنبھالنا ہے۔
گیلانی: صدر صاحب، بی جے پی کا درد سر کانگریس کو ہی سنبھالنے دیں۔ ہم ان کی اور کتنی مدد کریں۔ ویسے بھی اب الیکشن سر پر ہے، اپنے ملک پر ہی
توجہ دیتے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں ویسے ہی ن لیگ والے کافی تنگ کر رہے ہیں۔ اور مودی ہے بھی بہت ظالم شخص۔
زرداری: گیلانی صاحب، میں بہاولپور جنوبی پنجاب والے بی جے پی کی بات کر رہا ہوں۔ بھارت کی نہیں۔
گیلانی یکایک رونا شروع کر دیتا ہے۔
زرداری: کیا ہوا گیلانی صاحب؟ خیر تو ہے۔
گیلانی: جنوبی پنجاب کے لوگوں کی بہت ہی بری حالت ہے صدر صاحب۔ آپ کو یہاں اسلام آباد میں بیٹھ کر اندازہ ہی نہیں ہو رہا ہے۔
زرداری: ہمیں پورا اندازہ ہے گیلانی صاحب۔
گیلانی” صدر صاحب، اگر اندازہ ہوتا تو آپ نے ان مظلوم لوگوں کے لیے کچھ کیا ہوتا۔ میرا ایک بیٹا منشیات کے کیس میں پھنسا دیا گیا ہے۔ دوسرا حج سکینڈل میں۔ اکاونٹ منجمد ہوگئے ہیں۔ پہلے ہی اتنی غربت تھی کہ ٹیکس تک نہیں دے پاتا تھا، اوپر سے کروڑوں کا یہ نقصان ہوگیا ہے۔ بہت ہی بری حالت میں ہے جنوبی پنجاب۔ آپ اس خطے کو بہت بری طرح نظر انداز کر رہے ہیں۔
راجہ: اونگھ سے جاگتے ہوئے: ہم نے ادھر کے لوگوں کو ملازمتیں دینی شروع کردی ہیں۔ لوگوں کو پہنے کا پانی بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔ کل ہی ہم نے ایک ٹینکر وہاں بھیجا ہے منرل واٹر کا۔
گیلانی: راجہ صاحب، ملازمتوں کو کون رو رہا ہے۔ ویسے بھی ادھر ہمارے بندے بھرتی نہیں ہو رہے ہیں اور میرا فرنٹ مین بے کار بیٹھا ہے۔ یہی حال رہا تو الیکشن کا خرچہ کیسے نکلے گا۔ اور وہ منرل واٹر کا ٹرک بھی وہاں سرکٹ ہاوس کے لان پر پانی لگا گیا ہے۔ میں خطے کے مجبور اور محروم لوگوں کی بات کر رہا ہوں۔
زرداری: آپ فکر مت کریں گیلانی صاحب۔ میں رحمان ملک صاحب کو کہتا ہوں کہ آپ کے کیسوں کا خاص خیال رکھیں۔
گیلانی: رحمان ملک؟ میرے کیسوں پر خاص توجہ دے گا؟ [بے ہوش ہو کر گر جاتا ہے]۔
زرداری: لگتا ہے کہ گیلانی صاحب خوشی برداشت نہیں کرسکے۔
راجہ: رابطہ کمیٹی نے فون کیا تھا۔ وہ حکومت سے علیحدہ ہو رہے ہیں۔ کہ رہے تھے کہ عوام کا جینا مشکل ہوگیا ہے۔
زرداری: عوام کی زندگی کیسے آسان کی جاسکتی ہے؟
راجہ: وزارت شپنگ کے ڈی جی کا تبادلہ ان کو مطمئین کر دے گا۔
زرداری: کردیں۔ الطاف بھائی نے خطاب کر دیا تو عذاب ہوجائے گا۔ بہت مشکل ہوجاتی ہے۔ ہنسی روک کر سنجیدہ شکل بنانا مشکل ہوجاتا ہے۔
راجہ: میں نے جہلم کے تین پکی سیٹ والوں کو پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کے لیے تیار کر لیا ہے۔  وہ ساری زندگی کسی نہ کسی مسلم لیگ میں رہے ہیں۔ بھٹو کی پھانسی پر کافی مٹھائیاں بھی بانٹی تھیں۔ لیکن آپ کی شخصیت نے انہیں بہت متاثر کیا ہے۔
زرداری: تو میاں نے انہیں ٹکٹ نہیں دیا۔ دے دو ٹکٹ۔ ویسے بھی کون سا وہ سیٹیں ہم نے جیتنی ہیں۔ شریفوں کا ووٹ ہی ٹوٹے گا اس طرح۔
راجہ: سائیں لوگ سی این جی اور پٹرول وغیرہ کی قیمت پر کافی غل غپاڑہ کر رہے ہیں۔ یہ مسئلہ ہمیں لے نہ بیٹھے۔
شاہ: اس کا حل ہے میرے پاس سائیں۔ ان کو واٹر کٹ لگا دیتے ہیں۔
راجہ: شاہ صاحب، پانی کا فلٹر لگا بھی دیا تو اس سے پٹرول بجلی کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟
شاہ: سائیں، کل ہمارے حلقے کا ایک انجینئیر آیا تھا۔ بہت بڑا انجینئیر ہے وہ سائین۔ آغا فنکار نام ہے اس کا۔ سارا مسئلہ حل کرنے کا اس نے وعدہ کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ وہ گاڑی پٹرول کی بجائے پانی سے چلا دے گا۔
راجہ: کیا ولایت سے آیا ہے؟
شاہ: نہیں سائیں۔ اپنے شکارپور سے آیا ہے۔ جس مستری سے میں گاڑی ٹھیک کراتا ہوں، اس کا ادا ہے۔  کافی پڑھا لکھا ہے۔ بارہ جماعتیں پڑھی ہیں۔ بہت قابل بندہ ہے۔
راجہ: بندہ تو ٹھیک ہے نہ؟ فراڈ تو نہیں ہے؟
شاہ: سائیں کمال کرتے ہو۔ ہمارا لایا ہوا بندہ غلط ہوگا بھلا؟ سرٹیفائیڈ بندہ ہے سائیں۔ ایک دفعہ پولیس اس پر فراڈ اور ایک دفعہ ڈکیٹی کے کیس میں تفتیش کر چکی ہے۔ ثابت کچھ نہیں کرسکی۔ کلین چٹ ملی ہوئی ہے اسے۔ جینوئین بندہ ہے۔
زرداری:شاہ صاحب، کمال کا بندہ ڈھونڈا ہے آپ نے۔  راجہ صاحب، کابینہ کا اجلاس بلا لیں۔ قوم کو تین چار مہینے لگا دیں اس کے پیچھے۔ اگر واٹرکٹ چل گئی تو ہم اس سے لے لیں گے۔ نہ چلی تو ہماری حکومت چل جائے گی اتنے مہینے اور۔ دو چار ٹاک شو میں بٹھادیں اسے۔ لوگ ادھر مصروف ہوتے ہیں تو کچھ ہم سکون کا سانس لیتے ہیں۔ اب آپ جائیں۔ شام ہورہی ہے۔ اب اہم مصروفیات کا وقت ہے۔
راجہ  اور شاہ، گیلانی کو اٹھا کر کمرے سے باہر لے جاتے ہیں۔

——————————-
شہباز شریف اور الیکشن کی تیاری 

shabaz-hatedمنظر: شہباز شریف کا دفتر، ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ میاں شہباز شریف، رانا ثنا اللہ، اور شہباز شریف کا سیکرٹری اللہ دتا۔رانا ثنا اللہ: میاں صاحب، الیکشن سر پر کھڑے ہیں۔ کوئی ترقیاتی کام ہونا چاہیے لاہور میں۔ یہ انصاف والے کافی بندے توڑ سکتے ہیں ہمارے۔
شہباز: کلمہ چوک پر کچھ کرتے ہیں۔ روز ادھر سے گزرتے ہوئے سوچتا ہوں کہ اس کو ترقی ملنی چاہیے۔
رانا: لیکن میاں صاحب، وہاں تو ابھی پچھلے سال ہی ہم نے نئے سرے سے ساری سڑک مکمل کروائی ہے۔
شہباز: سڑک مکمل ہوگئی ہے؟ انتہائی نااہل ٹھیکیدار ہے۔ اسے بلیک لسٹ کر دو۔ اور نگران انجینئیر کو معطل کردو۔ الیکشن کا سال ہے، اور یہ چاہتے ہیں کہ عوام کو ترقی ہوتی نظر نہ آئے۔ یہ چوہدریوں کے بندے لگتے ہیں۔
رانا: میاں صاحب، اس کو تو آپ نے ترقی دے دی تھی اور اس کے کام سے اتنا خوش ہوئے تھے کہ  پھر وہاں دو نئے اوور ہیڈ برج بنانے کا حکم دے دیا تھا۔
شہباز: ویری گڈ۔ ویری گڈ۔ یعنی کلمہ چوک پر ترقیاتی کام جاری ہے۔
اللہ دتا: میاں صاحب، ادھر گڑھی شاہو والے کافی پریشان ہیں۔ ادھر کوئی پل شل بنوا دیں۔
شہباز: گڑھی شاہو سے کون گزرتا ہے؟ دس گاڑیاں نہیں گزرتی ہوں گی وہاں دن میں۔ کلمہ چوک سے دن کی ساٹھ ستر ہزار گاڑی گزرتی ہے۔ کوئی تیس ہزار تو خود ہمارے اپنے گھر کے حفاظتی سکواڈ کی ہوتی ہیں۔
اللہ دتا: میاں صاحب، ادھر بھی کافی رش ہوتا ہے۔
رانا: اللہ دتا صاحب، آپ میاں صاحب کی بات پر شک کر رہے ہیں؟ ان سے بہتر ایڈمنسٹریٹر پنجاب میں آج تک نہیں آیا۔ ان کو سب پتہ ہے کہ کہاں سے کتنی گاڑی گزرتی ہے۔ آپ خاموش رہیں۔ میاں صاحب،، وہاں تو اب آپ نے ریکارڈ مدت میں پل بھی بنوا دیا ہے۔
شہباز: بیڑا تر جائے ان کا۔ پل بھی مکمل کر دیا؟ یہ چاہتے کیا ہیں۔ یہ چوہدریوں سے مل کر ہمیں الیکشن میں ہروانا چاہتے ہیں۔ عوام کو کچھ ہوتا نظر نہیں آئے گا تو انہوں نے ہمیں خاک ووٹ دینا ہے۔
رانا: میاں صاحب، آپ نے ادھر وہ میٹرو بس کا منصوبہ بھی تو شروع کروادیا ہے۔ ایک سرے سے دوسرے سرے تک پوری سڑک ہی کھدوا دی ہے۔ عوام
پر اس کام کا جتنا اثر ہوا ہے، پنجاب تاریخ میں کسی اور کام کا کبھی نہیں ہوا۔ وہاں سے گزرنے والے ہر شخص کی زبان پر آپ کا ہی نام  ہے۔
شہباز: گڈ، ویری گڈ۔ لیکن ادھر اور ترقی ہونا چاہیے۔ ایسا کرو کہ کلمہ چوک پر بنی ہوئی سڑک کو کھدوا کر وہاں اب ایک انڈر پاس بنوا دو۔
رانا: واہ واہ میاں صاحب، صدقے جاوں آپ کی عقل کے۔
شہباز: ہم کلمہ چوک کو پوری ترقی دیں گے۔ اوورہیڈ، انڈر ہیڈ، ریپڈ بس لین، سب ڈال دو وہاں۔ جو بھی وہاں سے گزرے، اسے ایک نظر میں پتہ چل جانا چاہیے کہ ہم پنجاب کو کتنی ترقی دے رہے ہیں۔
اللہ دتا: میاں صاحب، وہ سڑک تو ابھی بنی تھی۔
شہباز:ہمارے دور میں ترقی کو کوئی نہیں روک سکتا۔  ترقی ہو کر رہے گی۔ خواہ اس کے لیے ہمیں نیا پرانا کچھ بھی توڑنا پڑے۔ وہ کیا شعر ہے [گا کر] ” تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا”۔
رانا: اللہ دتا صاحب، آپ بہت کم فہم ہیں اور کافی بے وقوفی کی باتیں کرتے ہیں۔ آپ میاں صاحب کی ذکاوت کو نہیں پہنچ سکتے۔ سڑک تو لاہور سے قصور کی بھی بظاہر بہت زبردست بنی تھی۔ اب میاں صاحب نے اسے تڑوا کر دوبارہ بنوانا شروع کیا ہے کہ نہیں؟ ماشااللہ اتنی ترقی ہوئی ہے کلمہ چوک کی کہ اپنے دور حکومت میں میاں صاحب اسے تیسری دفعہ مزید ترقی دے رہے ہیں۔
اللہ دتا: لیکن باقی علاقوں کا بھی تو کچھ کرنا چاہیے۔
شہباز: رانا صاحب، بات تو کچھ دل کو لگتی ہے۔
رانا: میاں صاحب، اللہ دتا بات عقل ہی کی کرتا ہے۔ آخر آپ کی جوہر شناس نظروں نے کچھ دیکھ کر ہی ایسے بندے کو اپنے ساتھ رکھا ہے۔ بندے پہچاننے میں آپ کا کوئی ثانی نہیں میاں صاحب۔ مان گئے آپ کو۔
شہباز: اللہ دتا، ایسا کرو کہ ذرا دو چار چلتی سڑکوں کے نام دو۔ ان کو کھدوا دیتے ہیں۔ لیکن جگہ ایسی ہو کہ جہاں سے ہر بندہ گزرتا ہو۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ بندوں کو ہماری کام نظر آئے۔
رانا: مری روڈ کو ترقی دے دیں۔ شیخ رشید کو بھی پتہ چلے کہ پنڈی ترقی کر رہا ہے۔

شہباز: اچھی لوکیشن ہے۔ ابھی فوراً کھدوا دیں۔ اور اگلے مہینے کی میٹنگ رکھ لیں۔ کوئی منصوبہ بناتے ہیں۔ کیا خیال ہے، فوارہ لگوا دیں وہاں؟
رانا: اس کے لیے تو کافی چھوٹی جگہ کھدائی ہوگی۔ کوئی اوورہیڈ یا انڈرپاس بنوا دیں۔
شہباز: اللہ دتا صاحب، وہاں کل ہی کھدائی کرنے کے احکامات جاری کر دیں، اور اگلے مہینے میٹنگ رکھ لیں جس میں طے کریں گے کہ وہاں کیا کرنا ہے۔
رانا: میاں صاحب، لاہور میں تحریک انصاف والوں کا بھی تو کچھ کریں۔
اللہ دتا: یہ میٹرو منصوبہ ایک سرے پر واقع گچومتہ سے لے کر دوسرے سرے پر واقع شاہدرہ تک ٹریفک جام کر چکا ہے۔ سارا لاہور پچھلے ایک سال سے ترقی دیکھ رہا ہے۔ اور لاہور کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والی آہنی دیوار کی وجہ سے پیدل چلنے والے بھی اس کا خوب فیض اٹھا رہے ہیں۔ میرا تو خیال ہے کہ فیصل آباد میں کوئی منصوبہ شروع کر دیتے ہیں۔
رانا [گھبرا کر]: نہیں میاں صاحب۔ اس طرح تو وہ پورا علاقہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ فیصل آباد کو قائم رہنے دیں اس کے حال پر۔ ہم ملنگ لوگ ہیں۔ ہم نے کیا کرنا ہے ترقی کا۔ میاں صاحب، کوئی گیت غزل ہی سنا دیں۔ وہ کیا تھا بھلا سا، چپکے چپکے رات دن، آنسو بہانا یاد ہے۔
میاں صاحب گانا گانے لگتے ہیں اور رانا ثنا اللہ منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اللہ دتا کو گھورتا ہے۔

—————————-

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.