گائے جیت گئی

lalu-nitish-l

 نریندر مودی نے بہار کے انتخابات میں تیس ریلیوں کی قیادت کی تھی۔ اور نتیجہ وہ نکلا جو کہ دادری میں زندہ جلائے جانے والے اخلاق احمد کے بیٹے کے الفاظ میں کچھ یوں ہے “ملک میں نفرت کی سیاست کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ الیکشن کا نتیجہ میرے والد کو خراج عقیدت ہے، اور وہ نفرت اور فرقہ واریت کے خلاف ہے۔ لوگوں کو یہ حقیقت جان لینی چاہیے کہ مذہب کے نام پر لڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ میں تمام سیاستدانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ طاقت کی چاہ میں ملک کو تقسیم مت کریں”۔

اس ریاستی الیکشن کو مودی کی ذاتی شکست قرار دیا جا رہا ہے۔ مودی نے فرقہ واریت اور مذہب کے نام پر ہونے والی قتل و غارت پر چپ سادھے رکھی۔ پھر بھارتی ادیبوں نے اپنے قومی ایوارڈ واپس کرنے کا سلسلہ شروع کیا اور فلم اور دوسرے حلقوں سے بھی اس کی حمایت میں آواز اٹھنے لگی۔ حتی کہ شاہ رخ خان نے بھی اپنی نازک پوزیشن کے باوجود عدم برداشت کے خلاف آواز بلند کی، اور اس کے ردعمل میں بی جے پی کے وزیر کیلاش وجے ورگیا نے کہا کے شاہ رخ خان کا دل پاکستان میں ہے۔ بی جے پی کے لیڈروں نے ایسے بیانات دیے کہ بی جے پی کے خلاف ووٹ دینے والوں کا گھر پاکستان ہے۔ امیت شاہ اس نفرت کی سیاست کے سب سے بڑے علمبردار تھے۔ اور اب بہار میں شکست کے بعد انہیں کی طرف انگلیاں اٹھ رہی ہیں اور وہ پاور پالیٹکس کے نتیجے میں بی جے پی میں اپنے منصب سے ہٹائے جا سکتے ہیں۔ مودی کی پارٹی پر گرفت بھی کمزور پڑنے کا امکان ہے کیونکہ ان کی پارٹی میں طاقت کا راز ان کی پاپولر ووٹ کھینچنے کی صلاحیت تھی جس پر اب انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ بہار کے الیکشن میں چھ لاکھ سے زیادہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے کارکن پارٹی کے حامیوں کو پولنگ بوتھوں تک پہنچانے کے لیے مامور کیے گئے تھے لیکن اس انتہائی منظم الیکشن مہم کے باوجود نتیجہ بی جے پی کے لیے مایوس کن تھا۔

اس الیکشن میں لالو پرشاد یادیو کی آر جے ڈی کو 80 سیٹیں ملی ہیں، نتیش کمار کی جے ڈی یو کو 71 سیٹیں ملی ہیں اور کانگریس کو 27۔ اس 178 اراکین کے اتحاد کی طرف سے نتیش کمار وزیراعلی ہوں گے۔ ان کے مخالف بی جے پی کو 53 سیٹیں ملی ہیں اور اس کے اتحادیوں کو مزید پانچ۔ بی جے پی نے 157 سیٹوں پر امیدوار کھڑے کیے تھے۔

سنہ 2010 کے الیکشن میں جے ڈی یو کو 115 سیٹیں ملی تھیں، اس کی اتحادی بی جے پی کو 91، لالو پرشاد کی آر جے ڈی کو 22 اور کانگریس کو 4۔ سیٹوں میں اس نمایاں رد و بدل کے نتیجے میں اب مرکز میں نتیش کمار کی قیادت میں ایک نیا اتحاد ابھرنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے جو کہ مودی کی قیادت کو چیلنج کرے گا۔

مئی 2014 کے جنرل الیکشن میں بی جے پی اور اتحادیوں نے بہت بڑی فتح حاصل کی تھی۔ ریاست بہار کی چالیس میں سے 31 نشستوں پر بی جے پی اور اتحادی جیتے تھے، نتیش کمار کی جے ڈی یو صرف دو سیٹیں حاصل کر سکی تھی، اور لالو کی پارٹی کو 4 نشستیں ملی تھیں۔ اس کو دیکھتے ہوئے 2005 سے وزیراعلی رہنے والے نتیش کمار نے استعفی دے دیا تھا، لیکن پھر فروری 2015 میں وہ دوبارہ وزیراعلی منتخب کر لیے گئے تھے۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ ایک سال کے عرصے میں ہی صوبائی الیکشن میں نتیش کمار کے اتحاد کو اتنی بڑی کامیابی ملی؟

نتیش کمار 2005 سے لے کر اب تک ریاست کے وزیراعلی چلے آ رہے ہیں۔ درمیان میں چند مہینے کے لیے ان ہی کی پارٹی کے جیتن رام مانجھی کچھ عرصے کے لیے وزیراعلی رہے تھے۔ نتیش کمار کا دور ریاست کی ترقی کے لیے جانا جاتا ہے۔ ان کی سپورٹ خاص طور پر دیہات میں کافی زیادہ ہے۔ دوسری طرف، ریاستی انتخابات میں ذات برادری کا فیکٹر بہت زیادہ اہم ہے۔ ووٹ کی تقسیم ذات برادری کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ برادریوں کی تقسیم دلچسپ ہے۔ ریاست میں پسماندہ ذاتوں سے تعلق رکھنے والے ووٹروں کی تعداد 51 فیصد ہے۔ دلت 16 فیصد ہیں۔ تقریباً 17 فیصد مسلمان ہیں۔ اور 15 فیصد برہمن اور راجپوت ہیں۔ پسماندہ ذاتوں کی اکثریت کا ووٹ نتیش کمار اور لالو پرشاد کو بڑی تعداد میں پڑا، اور ایک اہم فیکٹر گائے کشی اور مسلم نفرت کی بنیاد پر چلانے والی بی جے پی کی مہم بنی جس نے 17 فیصد مسلم ووٹروں کو جے ڈی یو کی طرف دھکیل دیا۔ مسلمانوں نے ووٹ تقسیم ہونے کے خدشے کی وجہ سے اسد الدین اویسی کو بھی ووٹ نہیں دیا ہے۔ اویسی نے کافی زور شور سے مہم چلائی تھی اور اندازہ تھا کہ وہ 24 مسلم اکثریتی سیٹوں سے امیدوار کھڑے کریں گے۔ انہوں نے 6 پر امیدوار کھڑے کیے۔ اور تمام ہار گئے۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ گائے کا مسئلہ واقعی اہم ہے۔ گائے جیت گئی۔

بی جے پی کے سپورٹر، اور آر ایس ایس کے رکن، سنہا ایک بیس سالہ نوجوان ہیں۔ وہ مودی کے حامی ہیں۔ لیکن جب ان سے ووٹ کے متعلق سوال کیا گیا کہ کس کو دیا ہے، تو ان کا جواب تھا کہ وہ تو ریاست سے باہر تھے لیکن ان کے خاندان نے لالو پرشاد یادیو کو ووٹ دیا ہے کیونکہ اس کا امیدوار ان کی ذات سے تھا۔ اپنے ذاتی رجحان کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ میں ترقی کو ووٹ دیتا ہوں اور مرکز میں مودی، اور ریاست میں نتیش کمار ترقی کے علمبردار ہیں۔ ان کی نظر میں گائے کھانے یا نہ کھانے کا مسئلہ ایک ذاتی معاملہ ہے اور ریاست بہار میں اسے اہم نہیں سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے بی جے پی کی گائے کھانے کی بنیاد پر چلائی جانے کی مہم کا وہاں مثبت اثر نہیں ہوا ہے۔

سنہا مزید کہتے ہیں کہ مودی ڈیڑھ سال سے بھارت پر حکومت کر رہے ہیں، لیکن کمپین میں انہوں نے اپنے کام کو نہیں بتایا ہے، بلکہ نتیش کمار اور لالو پرشاد یادیو پر اٹیک کو اپنی کمپین کی بنیاد بنایا ہے۔ یہی کام 2014 کے الیکشن میں راہل گاندھی اور کانگریس نے کیا تھا اور وہ ہار گئے تھے۔

سنہا کے اس نتیجے پر پتہ نہیں کیوں ہمیں اپنی ایک مقبول عام سیاسی پارٹی یاد آ گئی ہے جو کہ اپنے کام بتانے کی بجائے دوسرے کی کردارکشی پر مہم چلانے کی قائل ہے۔ شاید ایسی مہم کا نتیجہ ہر ملک میں ایک سا ہی نکلتا ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.