ایک برگزیدہ حکمران جنرل ضیا الحق شہید

چل دیے سوئے حرم کوئے بتاں سے مومن
جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا

zia 1

[urdu size=”20″]

ایک برگزیدہ حکمران جنرل ضیا الحق شہید

مجاہد اعظم جنرل غازی محمد ضیا الحق شہید نے تاریخ کے ایک نازک موڑ پر پاکستان کی باگ دوڑ سنبھالی۔ اس وقت ایک طرف پاکستان میں لیفٹ کے دین دشمن نظریات رکھنے والا ذوالفقار علی بھٹو قوم کو گمراہی اور فسق و فجور کی طرف لے جا رہا تھا، اور دوسری طرف افغانستان میں بے دین کمیونسٹ حکمران ہو چکے تھے۔ اور تیسری طرف ملک شدید داخلی انتشار کا شکار ہو چکا تھا۔

بھٹو نے نو ستاروں کے قومی اتحاد میں شامل علمائے کبار کو دھوکہ دینے کی خاطر ان سے معاہدہ کر لیا تو بھٹو کی عیاری کو بھانپتے ہوئے امیر لشکر پاکستان غازی ضیا الحق شہید نے ملک کو بچانے کی خاطر خود اقتدار سنبھالنے کے سوا کوئی چارہ نہ دیکھا اور بھٹو کی لادین فاشسٹ حکومت کا تختہ الٹ دیا۔

بھٹو عہد کی بے حیائی دور کرنے کے لیے صدر مملکت اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے غازی ضیا شہید نے نظام صلوٰۃ کو پورے ملک میں رائج کر دیا۔ ٹی وی پر بے پردہ، پر کٹی، گیسو بریدہ، حیا باختہ عورتوں کی بجائے ہماری مشرقی روایات کی امین باپردہ اور عصمت ماب خواتین کے نورانی چہرے جگمگانے لگے۔ غیر اسلامی پارلیمنٹ کی بجائے عین اسلامی مجلس شوری نے اہم امور پر اسلامی حکومت کے سربراہ کی معاونت شروع کر دی۔

بہرحال یہ بات درست ہے کہ شہید جنرل کو اپنے مختصر سے گیارہ سالہ دور مطلق اقتدار میں اتنی مہلت نہ مل پائی کہ وہ مملکت خدا داد میں شرعی حکومت نافذ کر پاتے اور شریعت کے نفاذ کو روکنے کی خاطر ہی دشمنوں نے ان کا جہاز تباہ کر کے ان کو شہید کر دیا۔

غازی ضیا الحق شہید وہ پہلے مسلم حکمران تھے جنہیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرنے کا موقع ملا تو انہوں نے جنرل اسمبلی میں تقریر سے پہلے تلاوت قرآن پاک قوم کو سنائی۔ اور ہم سب نہایت نازاں ہوئے کہ اللہ نے غازی کو اقوام متحدہ کے ایوانوں میں تلاوت قرآن پاک کی گونج سنانے کی سعادت بخشی۔ حالیہ دنوں میں چند ضیا دشمن عناصر ایک جھوٹا چرچا کر رہے ہیں کہ ایسا کچھ نہیں ہوا اور یہ تلاوت جنرل اسمبلی میں نہیں بلکہ صرف پی ٹی وی کی نشریات میں ہوئی تھیں۔

غازی کے عہد مبارک میں ایوان اقتدار کی غلام گردشوں میں مغرب کے غلام براوَن صاحبوں کی بجائے علما کی مبارک صورتیں نظر آنے لگیں۔ عظیم برادر اسلامی ملک سعودی عرب سے برادرانہ رشتہ اس حد تک مضبوط ہوا کہ غازی جنرل نے اقتدار سنبھالتے ہی جو پہلے قدم اٹھائے ان میں سے ایک پاکستان کے تیسرے سب سے بڑے شہر لائلپور کا نام سعودی بادشاہ شاہ فیصل کے نام پر فیصل آباد رکھنا تھا۔ غازی ضیا الحق شہید بے شمار مرتبہ عمروں پر سعودی عرب گئے۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ میں اپنی بیٹری چارج کرانے کے لیے بیت اللہ شریف جاتا ہوں۔

دوسری طرف سعودی برادران نے بھی محبت کا جواب بھرپور محبت سے دیا۔ جب غازی ضیا الحق شہید نے خدا دشمن سوویت یونین کے خلاف مقدس جہاد شروع کیا تو ہر امریکی ڈالر کے بدلے ان کو سعودیوں نے ایک سعودی پیٹرو ڈالر دیا۔ سعودی بادشاہوں سے شہید جنرل کی دانت کاٹی دوستی تھی۔ یہ تفریق کرنا ہی مشکل ہو جاتا تھا کہ پاکستان کا حاکم کون ہے۔

دوسری طرف امریکیوں سے بھی شہید جنرل کی خوب دوستی رہی اور دونوں نے ملک کر خدا دشمن سوویتوں کا خوب مقابلہ کیا۔ افغانستان میں بے شمار کفار کو انہوں نے بم دھماکے اور جہادی کاروائیاں کر کے ہلاک کیا۔ سوویت گرم پانیوں کی تلاش میں آئے تھے، یہاں ان کو غازی ضیا الحق شہید کی صورت میں خدا کی راہ میں لڑنے والا ایک گرم خون والا مجاہد ٹکرا گیا اور ان کے خواب پاش پاش کر دیے۔ بخدا غازی ضیا الحق شہید پر اس مقدس جہاد کے لیے آسمانوں سے ڈالر اور ہتھیار اترتے تھے جن کے سوٹ کیس بھر بھر کر افغان مجاہدین میں تقسیم کیے جاتے تھے۔

غازی ضیا الحق شہید پاکستان کے وہ پہلے حکمران تھے جنہوں نے مذہب کو سیاست میں داخل کیا اور ان کی بیشتر تصاویر میں وہ مغربی لباس کی بجائے اسلامی شرعی حلیے یعنی شیروانی میں نظر آتے تھے۔ انہوں نے فوج کے میس کو شراب سے پاک کیا اور وہاں حلال مشروبات کا چلن عام ہوا۔ بے شمار فوجیوں کے چہروں پر داڑھی کا نور نظر آنے لگا اور بیوروکریٹ بھی متشرع صورت ہوئے۔ دفاتر میں نماز کا وقفہ ہونے لگا۔ ٹی وی پر اذان سنائی دی جانے لگی۔ انہوں نے بہت سے اسلامی احکام کا نفاذ کیا۔ حدود آرڈیننس کے تحت ہر تفریح گاہ اور ریستوران میں جوڑوں کو پکڑ پکڑ کر ان سے نکاح نامے طلب کیے جانے لگے تاکہ بے راہ روی کا خاتمہ ہو جائے۔ امتناع شراب میں اتنی سختی ہوئی کہ راہ چلتوں کے منہ سونگھ سونگھ کر عادی شراب نوشی پکڑے جانے لگے۔

ہر طرف غازی جنرل ضیا الحق شہید کی دینداری کے چرچے ہونے لگے۔ علما کو جنرل شہید نے نہایت اہمیت دی اور علما کرام نے بھی ان کی مذہب دوستی کا تذکرہ کرنے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا۔ بے شمار مدارس کو شہید جنرل نے دل کھول کر چندے، زمینیں اور مراعات دیں۔

یہ ہوتا ہے ایک نیک حکمران جس کے اعمال و افعال کا ذکر ہو تو خدا یاد آئے۔

چل دیے سوئے حرم کوئے بتاں سے مومن
جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا

zia-2

دوسری طرف، ایک عیار و چالاک حکمران کو دیکھنا ہو، جو کہ چانکیہ کا پیروکار ہو، تو ارتھ شاستر کو دیکھ لیتے ہیں۔ فریب، چالاکی اور دھوکے کا امام چانکیہ کہتا ہے کہ حکمران کو رائے عامہ بنانے پر توجہ دینی چاہیے اور امیج بلڈنگ کرنا چاہیے۔

چانکیہ کہتا ہے کہ حکمران مندر کی مورتی میں چھپے اپنے جاسوس کارندے سے گفتگو کرے تاکہ لوگ خیال کریں کہ مورتی حکمران سے ہمکلام ہے۔ پانی سے ورونا دیوتا کا سوانگ رچا کر نکلنے والے جاسوس کو سلام پیش کرے۔ پانی پر چلنے کا مظاہرہ کر کے رعیت کو حیران کر دے۔ لیکن اصلیت یہ ہو گی کہ پانی میں سطح آب سے چند انچ نیچے تختے لگوا دے اور ان پر چلے۔ شعبدہ بازوں سے سیکھے ہوئے چند پانی کے شعبدے عوام کو دکھا کر اپنی کرامات ظاہر کرے۔ پانی میں تیرتی کنیاوَں سے جو ورونا دیوتا کی کنیزوں کا روپ دھارے ہوں، حکمران باتیں کرے۔ جب حکمران انتہائی غضبناک ہو کر بولے تو اس کے منہ سے دھواں نکلتا دکھائی دے، جس کا سبب کوئی خاص دوا ہو گی جو حکمران نے پہلے سے منہ کے اندر لگا رکھی ہو گی۔

دست شناس، نجومی، قصہ گو، جاسوس وہ خصوصاً وہ لوگ جو حکمران کے ان حیرت انگیز کمالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہوں، ہر طرف حکمران کی ان خداداد اور غیر معمولی قوتوں کا ذکر چھیڑ دیں۔ اس کے علاوہ وہ دیوتاؤں سے حکمران کی گفتگو اور تعلق کو بھی خوب بڑھا چڑھا کر بیان کریں۔ اور دیگر ممالک میں یہ بات اچھی طرح پھیلا دیں کہ حکمران کے سامنے دیوتا ظاہر ہوتے ہیں اور آسمان سے اس پر ہتھیاروں کے علاوہ دولت بھی نازل ہوتی ہے۔ جاسوس مشہور کر دیں کہ حکمران جانوروں کی زبان جانتا ہے اور خوابوں کی تعبیر بتانے میں اس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ ان تمام باتوں کی خوب تشہیر کی جائے۔

مذہب کو اس طرح استعمال کرنے والے چانکیائی حکمران سے خدا کی پناہ ہو۔
[/urdu]

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.