خوشی کا نسخہ

ایک زندگی بیزار شخص کی کہانی، جو ہر شے سے نالاں رہتا تھا۔ اور پھر ایک دن اس نے خوشی کو پا لیا۔

happy old man

خوشی کا نسخہ

کہتے ہیں کہ ایک گاؤں میں ایک بابا جی رہا کرتے تھے۔ وہ ہر وقت اداس رہتے اور دنیا کو کوستے رہتے۔ انہیں ہر چیز سے شکایت تھی۔ سورج نکل آتا تو ان کو شکایت ہوتی کہ دھوپ سے جلا جا رہا ہوں، اور بادل چھا جاتے تو کہتے کہ آسمان کالا ہو گیا ہے، منحوس دن لگتا ہے۔ گرمی کا موسم آتا تو گرمی دانوں کی شکایت کرتے، اور سردی آتی تو زکام کے اندیشے میں مبتلا رہتے۔ غرض کہ ہر چیز سے پریشان رہتے۔ ہر ملنے جلنے والے سے شکایت کرتے کہ ساری زندگی میں کوئی خوشی انہیں نصیب نہیں ہوئی ہے۔

اور ان کی یہ پریشانی چھوت کی بیماری جیسی تھی۔ جو بھی ان کے پاس چند گھڑی کو بیٹھ جاتا، وہ کچھ دیر میں ہی شدید اداسی کا شکار ہو جاتا تھا اور اس کا سارا دن برا ہی گزرتا تھا اور وہ بھی دنیا کی ہر چیز سے شاکی ہو جاتا تھا۔

برس گزرتے رہے اور بابے کی عمر اسی سال ہوئی تو ایک دن ایسا ہوا کہ گاؤں میں خبر پھیل گئی کہ آج زندگی میں پہلی بار بابا جی مسکرا رہے ہیں اور کافی خوش ہیں۔ اس ناقابل یقین خبر کو سن کر پورا گاؤں اپنا سارا کام کاج چھوڑ کر ان کے پاس پہنچ گیا کہ ایسی کیا خوش خبری ہے جس نے بابا جی جیسے زندگی بیزار شخص کو بھی مسکرانے پر مجبور کر دیا ہے۔

لوگوں نے پوچھا کہ بابا جی، کیا ہوا ہے؟

بابا جی کہنے لگے کہ کچھ نہیں ہوا۔ بس آج میں فارغ بیٹھا سوچ رہا تھا کہ میری عمر اسی سال ہو گئی ہے، اور ساری زندگی میں خوشی تلاش کرتا رہا، لیکن اپنے گرد دکھ ہی پاتا رہا۔ آج میں نے سوچا کہ خوشی کی تلاش ترک کر دوں، اور جو کچھ میرے نصیب میں آیا ہے، اسی پر راضی ہو جاؤں۔ اور اب اپنے نصیب دیکھ دیکھ کر خوشی سے برا حال ہے کہ مجھے خدا نے کس کس نعمت سے نوازا ہے اور اس پر جتنا شکر ادا کروں وہ کم ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.