کراچی کے الیکشن کا “حساب جوں کا توں، کنبہ ڈوبا کیوں”

Spread the love

جماعت اسلامی نے اپنا امیدوار بٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔ اس نے 1970 سے اب تک کا حساب جوڑ کر اپنے ووٹوں کو تحریک انصاف سے بہت زیادہ جانا
15328564-A-drowning-man-doesn-t-realize-that-he-is-a-step-away-from-safety--Stock-Photoتھا۔ اسی حساب کتاب پر ایک تحریر۔

کہتے ہیں کہ بہت ہی پرانے زمانے میں ایک نہایت ہی صالح شخص ہوا کرتا تھا۔ کرنا خدا کا یوں ہوا کہ اس نے علم ریاضی میں اتنا کمال پایا کہ اوسط نکالنی سیکھ گیا۔ بس پھر کیا تھا، اپنے علم سے خوب فائدہ اٹھانے لگا۔ بازار جاتا تو کئی خوانچہ فروشوں سے آلو کی قیمت دریافت کرتا، پھر اوسط قیمت نکال کر اندازہ کرتا کہ مناسب بھاؤ کیا ہے اور جو خوانچہ فروش اس کے قریب بیچ رہا ہوتا، اس سے خرید لیتا۔ سارے گاؤں میں اس کے علم اور دانش مندی کی دھاک بیٹھ گئی اور اسے بھی یقین ہو گیا کہ اوسط کا قاعدہ کبھی دھوکہ نہیں دے سکتا۔

کچھ دن بعد اس صالح شخص کو دریا پار ایک شادی میں شرکت کا سندیسہ آیا۔ اب صالح بھائی ایک عیالدار آدمی تھے۔ پورا کنبہ لے کر چلے۔ دریا کنارے ملاح سے نیا پار لگانے کا ریٹ پوچھا تو اس نے فی بندہ دس روپے بتا دیا۔ صالح بھائی نے ترنت حساب جوڑا کہ ان کے چودہ رکنی کنبے کے ایک طرف جانے پر ہی ایک سو چالیس روپے اٹھ جائیں گے۔ انہوں نے بھاؤ تاؤ کرنے کی کوشش کی لیکن ملاح نہ مانا اور پھر مسلسل چک چک سے تنگ آ کر کہنے لگا کہ میاں ایسا ہی پیسے بچانے کا شوق ہے تو پیدل دریا پار کر جاؤ۔ اب صالح میاں کو تیرنا تو آتا نہیں تھا، اس لیے پیدل چل کر ہی جا سکتے تھے۔

ملاح سے پوچھنے لگے کہ میاں کنارے پر دریا کتنا گہرا ہے؟ ملاح نے بتایا دو فٹ۔ اور درمیان سے؟ آٹھ فٹ۔ اور دوسرے کنارے پر؟ دو فٹ۔

صالح میاں نے ترنت اوسط نکالی۔ دریا اوسطاً چار فٹ گہرا نکلا۔ انہوں نے فیتہ نکال کر اپنے کنبے کے قد ناپے۔ سب کی اوسط لمبائی چار فٹ سے زیادہ تھی۔ انہوں نے سارے کنبے کو دریا پار کرنے کا حکم دے دیا۔ جب کنبہ درمیان میں پہنچا تو غوطے کھانے لگا۔ ملاح اور لوگوں نے آ کر ان کی جان بچائی اور حماقت پر بہت لعن طعن کی۔

صالح صاحب نے دوبارہ حساب کتاب جوڑا اور اوسط نکالی۔ اوسط پھر چار فٹ نکلی۔ صالح میاں پریشان ہو کر بولے “حساب جوں کا توں، کنبہ ڈوبا کیوں” ؟

امید ہے کہ کراچی کے صالح بھائی اس وقت اوسطیں نکال نکال کر اس سوال پر خوب غور کر رہے ہوں گے۔

 اوسط کے قاعدے سے تو الیکشن میں جماعت اسلامی کا یہ حال نہیں ہونا چاہیے تھا۔ وہ جو اپنا 1970 سے اب تک کا اس حلقے کا ریکارڈ دکھا رہے تھے، اس کی اوسط کے حساب سے تو فتح یقینی تھی۔ لیکن ان کا فتح کا نعرہ سرداروں کے ” واہگرو جی کا خالصہ، واہگرو جی کی فتح” والا نعرہ ہی نکلا جو کہ سردار لوگ کوئی عظیم کارنامہ کرنے سے پہلے لگاتے ہیں۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published.