انقلاب اور روٹی

free-2210402519030385869

تیس پینتیس سالہ تندرست و توانا باپ روٹی کا ایک ٹکڑا ہاتھ میں تھامے دھاڑیں مار مار کر رو رہا ہے اور اس کا چار پانچ سالہ بچہ اسے تسلی دلاسہ دے کر چپ کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دونوں شامی ہیں۔ وہ شام جو کئی سال سے انقلاب کی آگ میں جل رہا ہے۔

اور یہ تصویر صرف شام ہی کی نہیں ہے۔ یہ تصویر افغانستان کی بھی ہے جو تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے یہی بے کسی دیکھ رہا ہے۔ یہ تصویر صومالیہ کی بھی ہے۔ یہ لیبیا کی بھی ہے۔ اور یہ ایران کی بھی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ ہمارے ملک کے قبائلی علاقوں کی بھی ہے۔

ان کے علاقوں میں جنگ و جدل سے وہ تباہ کاری ہوئی ہے کہ خوشحال اور عزت دار گھرانے روٹی کے ایک ایک ٹکڑے کو ترس گئے ہیں۔ وہ فقیروں سے بھی بری حالت میں بے سر و سامانی کے عالم میں کھلے آسمان کے نیچے، یا ٹوٹے پھوٹے جھونپڑوں میں بے کسی کی تصویر بنے پڑے ہیں۔

ہم اپنے گرم اور محفوظ گھروں میں بیٹھنے والے، جب انقلابات کی بات کرتے ہیں، اور بتاتے ہیں کہ بندوق کے زور سے ہی ہمارا من پسند نظام آئے گا، یا ہمارا ناپسند حکمران گولی سے ہی جائے گا، تو اس تصویر پر نظر ضرور ڈال لیں۔ شاید ہم عبرت پکڑ سکیں۔

جو ملک بھی خونی انقلاب کی راہ پر چلے ہیں، وہ ہمیشہ تباہ ہوئے ہیں۔ بے شمار جانیں گئی ہیں۔ بے شمار عزت دار لوگ بے عزت ہوئے ہیں۔ کھاتے پیتے لوگ روٹی کے ایک ٹکڑے کو ترس گئے ہیں۔ بندوق کو دلیل بنانے والی قوموں کا ہمیشہ یہی انجام ہوا ہے۔ لیکن جو ملک اس یکلخت خونی انقلاب کی بجائے اپنے ملک کی بہتری کے لیے دلیل سے اپنے ہم وطنوں کو قائل کر کے بتدریج ذہنی انقلاب لائے ہیں، اور وہ ذہنی انقلاب ان کے ملکی نظام میں جھلکا ہے، وہ اپنے لوگوں کی زندگی کو پہلے سے کہیں زیادہ بہتر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہو گی کہ ایک معاشرے میں کبھی بھی تمام لوگ کسی ایک بات پر مکمل طور پر متفق نہیں ہو سکتے ہیں۔ کہیں مذہب کا اختلاف آڑے آ جاتا ہے، کہیں معاشی نظام کا اختلاف مار دیتا ہے، اور کہیں سیاسی نظام پر بات نہیں بنتی ہے۔ اس کا ایک ہی حل ہے، کہ سب لوگ ان اختلافات کو اپنی ذات تک محدود رکھتے ہوئے مخالف گروہوں کے ساتھ مل کر امن و عافیت سے ملک چلانے کا نظام بنانے پر بات کریں۔ اپنی رائے رکھتے ہوئے دوسرے کو اس کی رائے رکھنے دیں۔ اپنا مسلک و مذہب رکھیں، اور دوسرے کو بھی ایسا کرنے کی اجازت دیں۔ ایک متفقہ قاعدہ قانون لائیں جو سب کو تحفظ دے۔

جو قومیں اختلافات کو حدود میں رکھ کر متحد ہو جاتی ہیں، وہی کامیاب ہوتی ہیں۔ جو نفرت، تشدد اور قتل و غارت کی راہ پر چل پڑتی ہیں، ان کے لیے اس تصویر میں ایک سبق ہے۔

آئیے اس تصویر سے عبرت پکڑیں۔  اور کم از کم اپنے ملک پر تو رحم کریں۔ قتل و غارت اور نفاق کو برا جانیں۔ ایک دوسرے پر دشنام طرازی کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی عادت ڈالیں۔  ورنہ کل ہم اور آپ بھِی روٹی کے ایک ٹکڑے کو ترستے ہوئے ایسے ہی نہ روتے ہوں جیسے یہ شامی رو رہا ہے۔ یا جیسے ہمارے اپنے وطن کے قبائلی مہاجرین رو رہے ہیں۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.