اتفاقیہ دریافتوں کی کہانی

چند اتفاقیہ دریافتوں کی کہانی

icemintcream

[urdu size=”20″]

اتفاقیہ دریافتوں کی کہانی

آج صبح ان کا دیدار ہوا تو خلاف معمول وہ کافی خوش باش نظر آئے، ورنہ صبح سویرے ان کا موڈ اچھا نہیں ہوتا.

ہم نے چہرے پر نظر آنے والی تازگی کی تعریف کی اور اس کا سبب پوچھا.

پہلے تو وہ شرما گئے. پھر کچھ سوچتے ہوئے کہنے لگے.

تمہیں معلوم ہے کہ دنیا کی بڑی ایجادات اتفاقی حادثات اور مشاہدات کا نتیجہ ہوتی ہیں.

ارشمیدس خود نہانے کے لئے ٹب میں گھسا تو اشیا کا حجم نکالنے کا فارمولا ساتھ لے کر نکلا.

جیمز واٹ نے کیتلی میں چائے کا پانی ابالتے ابالتے سٹیم انجن بنا ڈالا.

فلیمنگ نے اتفاق سے برتن نہ دھوئے تو اینٹی بائیوٹک ایجاد کر لیں.

نیوٹن کے سر پر سیب آن گرا تو اس کے چودہ طبق روشن ہوئے اور اس نے علم طبیعیات کو دور جدید میں داخل کر دیا.

ایسا ہی کچھ اتفاق آج ہمارے ساتھ پیش آیا ہے. یہ عظیم دریافت ہمارے مقدر میں ہی لکھی تھی.

ہوا یوں کہ صبح سویرے بمشکل اٹھ کر نہائے اور ابھی آنکھیں تقریباً بند ہی تھیں کہ شیو کرنا شروع کی. سفید شیونگ کریم کو برش سے چہرے پر لگایا تو ایک دم آنکھ کھل گئی.

آپ نے بچپن میں وہ منٹ والی ٹھنڈی ٹھنڈی گولیاں تو خوب کھائی ہیں. بس ویسی ہی سی ٹھنڈی ٹھنڈی کیفیت پورے چہرے کی ہو گئی. ہماری شیونگ کریم بھی منٹ والی ہے. لیکن ٹیوب ختم ہونے کو آئی پر اتنی ٹھنڈ اس نے پہلے کبھی نہ ڈالی تھی.

سوچا کہ کل جو ایک سن بلاک لگایا تھا شاید اس کا ری ایکشن ہو گیا ہے. لیکن رات سونے سے پہلے اسے صابن سے دھو دیا تھا.

یہ سوچ بچار کرتے کرتے تیزی سے شیو کرنا پڑی کیونکہ چہرے کی ٹھنڈک اتنی بڑھ چکی تھی کہ ناقابل برداشت ہوتی جا رہی تھی.

شیو کر کے منہ دھویا. چہرہ ابھی بھی خوب ٹھنڈا تھا. آفٹر شیو اٹھانے کے لیے شیونگ کٹ میں ہاتھ مارا. ہاتھ میں منٹ فلیور کی شیونگ کریم کی ٹیوب آ گئی.

حیران ہو کر شیونگ برش کے آس پاس تحقیقاتی نظر ڈالی تو وہاں ٹوتھ پیسٹ کی ٹیوب نظر آئی.

آپ سب اپنے اپنے دور تحقیق میں ہر قسم کی ٹیوب اور لوشن آزما چکے ہوں گے۔ مگر بخدا، کبھی گمان تک نہ ہوا ہو گا کہ ٹوتھ پیسٹ سے بھی کسی بھی خونی کٹ کے بغیر اتنی بہترین شیو ہو سکتی ہے۔ اور آنکھیں الگ چوپٹ ہو جاتی ہیں۔

دریافت یہی ہے کہ بہترین شیو کے لیے آپ شیونگ کریم کے محتاج نہیں ہیں۔ ٹوتھ پیسٹ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ان کی اس طویل داستان ایجاد کو سن کر ہمیں وہ قصہ سنانا پڑا، جس میں ایک اور عظیم دریافت یونہی اتفاقی طور پر ہو گئی تھی۔

ایک پروفیسر صاحب نے اپنی حیاتیات کی کلاس میں اعلان کیا “میں آج تمہارے لیے تالاب سے پکڑ کر ایک مینڈک لایا ہوں۔ پہلے اس کے بیرونی خد و خال کا جائزہ لیں گے اور پھر اس کا آپریشن کر کے اندرونی نظامات کا مطالعہ کریں گے”۔

یہ فرما کر انہوں نے ہاتھ میں پکڑا ہوا پیکٹ کھولا۔ اندر ایک بہترین روسٹ چکن پیس رکھا ہوا تھا۔

پروفیسر حیران ہو گئے۔ کہنے لگے کہ چکن؟ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کچھ دیر پہلے ہی میں نے لنچ کر لیا ہے۔ ابھی تک منہ میں چکن کا ذائقہ موجود ہے۔

بہرحال، پروفیسر وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اتفاقیہ دریافت کیا کہ مینڈک کا ذائقہ چکن  جیسا ہوتا ہے۔
[/urdu]

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.