جلیبیاں کھانا جرم تو نہیں ہے

Spread the love
پیٹرول کی قلت پر ایک متعصبانہ صوبائی پوسٹ۔
editorial-cartoon-petrol-price
پھر یہ ہوا کہ سنہ سینتالیس میں ملک آزاد ہو گیا۔ تہتر میں آئین بن گیا۔ پھر این ایف سی ایوارڈ سائن ہو گیا اور اٹھارہویں ترمیم ہو گئی۔ اور پھر نہ جانے کیا ہوا کہ پنجاب میں کبھی گیس کی شارٹیج ہو گئی، کبھی بجلی کی اور اب پٹرول کی بھی۔ چلو بجلی اور گیس تو اٹھارہویں ترمیم کی زد میں آ کر سمجھ آتے ہیں کہ جو صوبہ وسائل پیدا کرے گا، وہی پہلے استعمال کرے گا۔ پنجاب میں اب گیس اور ڈیم نہیں ہیں تو اس کی قسمت اور عواقب پر غور کیے بغیر اس ترمیم پر متفق ہونے والے پنجابی سیاست دانوں کو ووٹ دینے والوں کی عقل۔ لیکن پیٹرول؟ گزشتہ چار دن سے پنجاب میں پیٹرول نایاب ہے۔ اور اطلاع ہے کہ اگلے چار دن بھی یہی ہو گا۔ وجہ کیا ہے؟

زمانہ قدیم سے اصول رہا ہے کہ لوگ سامنے کی بات پر خود غور کرنے کی بجائے وجہ پوچھنے کے لیے دوڑے دوڑے کسی دانا کے پاس چلے جاتے تھے اور وہ اتنی ڈھیر ساری توجہ دیکھ کر فوراً سیدھی سیدھی بات بتانے کی بجائے پہلے ایک لمبی سی کہانی سناتا تھا۔ پھر اس سے نتیجہ نکال کر وجہ بتاتا تھا۔ تو اس لیے اپنی دانائی ثابت کرنے کے لیے خاکسار پر کہانی سنانا فرض ہے۔

تو صاحبو، ہوا یوں کہ ممتاز مورخ اور محقق جناب شوکت تھانوی صاحب دور غلامی کا ایک قصہ بیان کرتے ہیں کہ ایک نیک شخص حلوائی کی دکان پر کھڑا لڈو تلوا رہا تھا تو اسے وہیں جلیبیاں کھاتا ہوا شیطان مل گیا۔ نیک شخص نے شیطان سے شکوہ کیا  “اے راندہ درگاہ، اے نابکار۔ ساری دنیا میں تو نے بہت فساد برپا کیا ہوا ہے۔ کچھ شرم حیا کر۔ توبہ کر”۔

اس پر شیطان نہایت غمگین ہوا۔ کہنے لگا “مجھے تو تم لوگوں نے ناحق بدنام کیا ہوا ہے۔  لفڑا کہیں اور ہوتا ہے پکڑا میں جاتا ہوں۔ کام تم کرتے ہو، نام میرا لیتے ہو”۔

نیک شخص نے کہا “ابے گیدی، سارا فساد تیرا ہی ہے۔ ورنہ یہاں اس ملک میں تو نہایت نیک لوگ رہتے ہیں”۔

شیطان نے کہا، ذرا میں ہاتھ صاف کر لوں، پھر اپنی بے گناہی کا ثبوت دیتا ہوں”۔ یہ کہہ کر اس نے جلیبیوں کے شیرے میں لبڑے ہوئے ہاتھ صاف کرنے کے لیے ادھر ادھر دیکھا۔ پھر اس کی نظر نیک شخص کے کپڑوں پر جم گئی۔ نیک شخص شیطان کی نیت بھانپ کر ذرا دور ہو گیا۔ ناچار شیطان نے ایک سرد آہ بھر کر دیوار سے ہاتھ پونچھ کر صاف کر لیے۔ نیک شخص شیطان کی طرف دیکھنے لگا کہ اب وہ کیا ثبوت پیش کرتا ہے۔ شیطان نے اسے نظر انداز کیا اور نہایت انہماک سے دیوار کو دیکھنے لگا جہاں شیرے پر مکھیاں بیٹھنے لگی تھیں۔

مکھیوں کو دیکھ کر ایک چھپکلی آئی اور ان کو کھانے لگی۔ چھپکلی کو دیکھ کر حلوائی کی بلی اس پر لپکی۔ پاس سے ہی ایک گورا ٹامی فوجی وردی ڈانٹے چھڑی لہراتا اپنے کتے کو لے کر گزر رہا تھا۔ کتے نے بلی کو دیکھا تو زنجیر چھڑا کر حلوائی کی بلی پر جھپٹا اور اسے منہ میں پکڑ کر بھنبھوڑ ڈالا۔ حلوائی نے اپنی پیاری بلی کو اس طرح ایک غیر ملکی کتے کے ہاتھوں مرتے دیکھا تو جلیبیاں تلنے کا کڑچھا ہی کتے پر کھینچ مارا اور کتا وہیں ڈھیر ہو گیا۔

ٹامی نے ملکہ برطانیہ کے کتے کو اس طرح میدان جنگ میں ایک دیسی کے ہاتھوں ڈھیر ہوتے دیکھا تو اسے غدر جانا اور اپنی چھڑی اٹھا کر حلوائی پر پل پڑا۔  بازار میں لوگوں نے جب ایک دیسی بھائی کو غیر ملکی حملہ آور کی بربریت نشانہ بنتے دیکھا تو سب اس حملہ آور پر پل پڑے اور اسے اس طرح پیٹا جیسے اس کا پیچھے کوئی تھا ہی نہیں۔ لیکن ایسا نہیں تھا۔ پاس سے ہی ایک اور ٹامی سائیکل پر گزر رہا تھا۔ اس نے ملکہ برطانیہ کے خلاف بغاوت دیکھ کر سیٹیاں بجاتے ہوئے سائیکل دوڑائی اور چند ہی منٹوں میں چھاؤنی سے گوروں کی پلٹن لے کر پلٹا۔ پلٹن کے کماندار نے تاج برطانیہ کے ٹامی کو میدان جنگ میں گرا دیکھ کر اسے مارنے والوں پر فیر کھولنے کا حکم دے دیا۔ پندرہ لوگ مارے گئے۔ بے شمار زخمی ہوئے۔

شیطان اور نیک شخص حلوائی کے چبوترے کے پیچھے دبکے ہوئے تھے۔ شیطان نے کہا “دیکھ بھائی، تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ دنگے فساد وغیرہ میں قصور میرا نہیں ہوتا۔ اب دیکھ، میں نے تو بس اپنے ہاتھ ہی صاف کیے ہیں۔ فساد سارا تم لوگوں کا ہے۔ نام میرا بدنام کرتے ہو”۔

تو صاحبو، اب واپس لاہور چلتے ہیں جہاں پیٹرول نہیں ہے اور خاکسار نے دفتر سے چھٹی کی ہوئی ہے۔ تو بھائیو، کہتے ہیں کہ پی ایس او کے پاس سرکلر ڈیبٹ کی وجہ سے پیسہ نہیں ہے۔ اس نے پیٹرول نہیں خریدا۔ پیٹرول نہیں خریدا تو پھر پیٹرول پنجاب کو نہیں دیا۔ بلوچستان میں تو ایرانی پیٹرول مل جاتا ہے۔ سندھ میں اس کے گزارے لائق پیٹرول نکل آتا ہے جسے وہاں موجود ریفائنری صاف کر کے وہاں کام چلا لیتی ہے۔ خیبر پختونخواہ میں بھی اللہ کوئی سبب بنا دیتا ہے۔ لیکن پنجاب بچارہ گیس کی مستقل شکایت کے بعد اب پیٹرول کو بھی ترس گیا ہے۔

اور پی ایس او کے پاس پیسہ نہ ہونے کی کیا وجہ بیان کی جاتی ہے؟ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اسے اس پیٹرول کے پیسے نہیں دیتیں جس سے وہ بجلی بناتی ہیں۔ وہ پیسے کیوں نہیں دیتیں؟ کیونکہ پنجاب میں تو بجلی کے لائن لاسز، یا آسان زبان میں چوری، پندرہ فیصد کے قریب ہے۔ لیکن دوسرے صوبوں میں یہ پینتالیس فیصد تک بیان کی جاتی ہے۔ جب ان صوبوں میں بجلی کی کمپنیوں کو لوگ بل نہیں دیں گے، تو وہ پی ایس او کو پیٹرول کے پیسے کیسے دیں گی؟ جب پی ایس او کو ان صوبوں سے پیسے نہیں ملیں گے، تو وہ ظاہر ہے کہ وہ پنجاب کو پیٹرول دینے سے قاصر ہو گا۔

تو جناب، قصور شیطان کا نہیں ہے۔  اگر لوگ بجلی چوری کرتے ہیں اور حکومت چور کو نہیں پکڑتی تو قصور شیطان کا تو نہیں ہے۔ عواقب پر غور کیے بغیر اٹھاہویں ترمیم کرتے ہوئے شیطان تو بس اپنی جلیبیاں ہی کھا رہا تھا۔ اسے ناحق بدنام مت کریں۔ جلیبیاں کھانا جرم تو نہیں ہے۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published.