ایک بچہ فروش جج کی کہانی

ایک جج کی کہانی جو پیسے کمانے کے لیے بچے بیچتا تھا۔

[urdu size=”20″]

ایک بچہ فروش جج کی کہانی

اہلکار: با ادب، باملاحظہ، ہوشیار، جج شیاوریلا تشریف لا رہے ہیں۔ تمام مجرم بچہ لوگ اپنی اپنی خیر منائیں۔ پہلا مقدمہ پیش کیا جاتا ہے۔

جج: ہاں تو برخوردار، تم تو نہایت ہی شریر ہو اور معاشرے کے لیے ایک بڑا خطرہ ہو۔ ایسے جرائم کو بالکل بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ تمہیں وقت پر روکا نہیں گیا تو مستقبل میں تم تو مافیا میں شامل ہوتے نظر آ رہے ہو۔ تمہیں ایک مہینہ بچہ جیل میں گزانے کی سزا دی جاتی ہے

بچہ: لیکن جج صاحب میں تو۔۔۔

جج: خاموش۔ لے جاوَ اسے اور اسے چار ہفتے کے لیے بچہ جیل میں ڈال دو۔ انتہا ہے بدمعاشی کی۔ یعنی سوشل میڈیا پر اپنے سکول کے پرنسپل کے بارے میں ہی کمنٹ ڈال دیا؟ یہ نئی نسل تو بے تحاشا گمراہ اور بدمعاش ہے۔ اگلا کیس پیش کرو۔ ہاں جی کیا کیا ہے اس چھٹے ہوئے بدمعاش نے؟

اہلکار: جی یہ ایک ویران پڑی ہوئی خالی عمارت کے صحن سے گزرتے ہوئے پکڑا گیا ہے۔

جج: آہا۔ یعنی اس کا رجحان نقب زنی کی طرف ہے۔ اسے ایک دو مہینے کے لیے جیل بھیج دو۔

بچہ: مگر۔۔۔

جج: اگر مگر کوئی نہیں۔ تم ڈکیٹ بننے کی راہ پر گامزن ہو۔ اس سزا سے تمہیں سوچنے سمجھنے کا موقع ملے گا کہ جرائم کی اس راہ پر چل کر تمہارا مستقبل کیا ہو گا۔ اگلا کیس پیش کیا جائے۔

اہلکار: مائی لارڈ، اس بچے نے ایک دکان سے ڈی وی ڈی چرائی ہے۔

جج: ڈی وی ڈی چرا لی؟ یعنی پورے چار ڈالر کی ڈی وی ڈی جیب میں ڈال کر یہ چمپت ہو گیا؟ غضب خدا کا۔ یہ عمر اور یہ کرتوت۔ اسے تین مہینے کے لیے جیل میں بھیج دو۔ اور چپ رہو برخوردار۔ کچھ بولنے کی جرات مت کرنا۔ ایسا سنگین جرم کر کے بھی تم بالکل بھی شرمندہ نہیں ہو اور اپنی صفائی دینا چاہتے ہو؟ لے جاؤ اسے۔

چند سال بعد ایک اور عدالت کا منظر۔

اہلکار: مجرم پیش ہو۔

جج: تمہارے اوپر الزام ہے کہ تم نے اپنے ساتھی جج کوناہان سے مل کر ٹھیکے پر بچوں کی پرائیویٹ جیل چلانے والوں سے ساز باز کی، اور جج کے مقدس منصب کو بدنام کیا۔ اور بہت معمولی سی کوتاہیوں پر بچوں کو جیل میں بھیج کر جیل والوں سے کمیشن لیتے رہے ہو۔ اس طرح تم نے سینکڑوں بچوں کی زندگی تباہ کی ہے اور انہیں نفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔ ایک بچے نے تو ڈپریشن میں آ کر خودکشی بھی کر لی تھی۔ تم اپنی صفائی میں کیا کہنا چاہتے ہو۔

سابق جج شیاوریلا: جناب یہ ان کی بھلائی کے لیے ہی تھا۔ وہ بچہ جیل میں خوش رہتے تھے۔ ان کے کھیلنے کودنے کے لیے بہترین ماحول دستیاب تھا اور ویڈیو گیمز تک ان کو مہیا کی جاتی تھیں ان کو، اور اس سزا سے وہ مستقبل میں ایک اچھے انسان بن سکتے تھے۔ اب اگر وہ نفسیاتی مریض بن گئے ہیں تو یہ ان کی قسمت میں لکھا ہو گا۔

جج: استغاثہ نے بتایا ہے کہ تمہارے سے ڈیل ہو گئی ہے جس کی رو سے تمہارے اس جرم کو استغاثہ نے دیانت دارانہ سروس سے محروم رکھنے کے ہلکے جرم کے طور پر پیش کیا ہے، اور بدلے میں تم نے اس رشوت والی آمدنی کو حکومت سے چھپا کر اسے ٹیکس سے محروم کرنے کے جرم کا اعتراف کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت تمہیں سات سال کی جیل کی سزا سنائی جاتی ہے، جبکہ تمہیں جرمانہ بھی دینا ہو گا اور سر عام ان جرائم کی ذمہ داری قبول کرنا ہو گی۔

چھے مہینے بعد ہی یہ معاہدہ ختم ہو گیا کیونکہ سابق جج شیاوریلا معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میڈیا میں اپنی بے گناہی کے دعوے کرتا پایا گیا تھا۔ اس پر دوبارہ مقدمہ چلا، اور اسے 28 سال اور اس کے ساتھی جج کوناہان کو 17 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

بچوں کی جیلوں کو ریاست پینسیلوینیا نے نجی شعبے میں دے دیا ہے اور ہر بچے کو جیل میں تعلیم، خوراک اور کھیلوں کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ریاست فی بچہ پیسے دیتی ہے۔ اسی پیسے کے لالچ میں نجی جیل چلانے والوں نے ان ججوں سے کمیشن طے کر لیا تھا۔ جج نے بچوں کو نہایت سخت سزائیں سنائیں اور ان کو ان کے دفاع کے حق اور وکیل کی خدمات سے محروم رکھا۔

جرم بے گناہی پر سزا پانے والے یہ بچے مختلف نفسیاتی مسائل کا شکار ہوئے اور ایک بچے نے خودکشی بھِی کر لی تھی۔ ریاستی سپریم کورٹ نے جج شیاوریلا کی طرف سے سنائی گئی چار ہزار کے قریب سزاؤں کو منسوخ کرنے کا حکم دیا کیونکہ جج شیاوریلا نے بچوں کو ان کے آئنی حق سے محروم رکھتے ہوئے صفائی پیش کرنے کا مناسب موقع نہیں دیا تھا۔

امریکی ریاست پینسلوینیا کا یہ سکینڈل کڈز فار کیش کے نام  سے مشہور ہے۔

[/urdu]

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.