بابا دوپیازہ گولڑوی نے کاروبار کیا

Dervish,_1913

جنوری کے ایک سرد دن ملا دوپیازہ گولڑوی ہانپتے کاپنتے ہمارے پاس آئے، اور پوچھنے لگے کہ یا شیخ، میں ایکسپورٹ کا کام شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ مجھے پتہ چلا ہے کہ یورپ امریکہ میں سب سے زیادہ خریداری کرسمس پر ہوتی ہے۔ یہ کرسمس کا کیا قصہ ہے؟

ہم مسکرائے، اور شفقت سے ان کو اپنے پاس بٹھا کر ان کو فرمایا “کرسمس کا تہوار پچیس دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ عیسائی مانتے ہیں کہ حضرت عیسی خدا کے بیٹے ہیں، اور وہ پچیس دسمبر کو پیدا ہوئے تھے، اور وہ زمین پر بنی نوع انسان کے اس گناہ کو معاف کرانے کے لیے قربان ہونے کے لیے آئے تھے جو عیسائی عقیدے کے مطابق حضرت آدم کے جنت میں خدا کی نافرمانی کے سبب ہر انسان کے ساتھ لگ گیا تھا۔ اس قربانی کی وجہ سے سب انسان اس گناہ سے پاک ہو گئے۔”

بابا دوپیازہ گولڑوی کچھ دیر تک ہمارا رخ پرنور دیکھتے رہے، اور پھر یہ کہہ کر ہمارا شکریہ ادا کر کے چل دیے کہ “دسمبر تک میں کافی مصروف رہوں گا، پھر آپ کی خدمت میں حاضری دوں گا۔”

عرصے تک وہ ہماری خدمت میں حاضری دینے سے محروم رہے، لیکن پھر اچانک وہ یکم دسمبر کو اس درویش کی کٹیا میں وارد ہوئے اور بولے “یا شیخ، میں نے آپ کی حضرت عیسی کی قربانی والی بات پلے سے باندھ لی تھی۔ اب میں نے ایکسپورٹ کے لیے مال تیار کر لیا ہے۔ لیکن بھیجنے میں کچھ دقت پیش آ رہی ہے۔ کوئی خریدار نہیں مل رہا ہے۔ علی بابا، ای بے وغیرہ کئی جگہ اشتہار ڈال چکا ہوں، لیکن جواب میں وہاں کے لوگ آفر کی بجائے استہزائیہ کمنٹ دیتے ہیں۔ معاملہ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے۔ میرے لیے دعا کریں کہ کرسمس میں اب تھوڑا ہی وقت باقی رہ گیا ہے۔”

ہم کچھ حیران ہوئے اور بابا دوپیازہ گولڑوی سے پوچھا “کیا ایکسپورٹ کرنے کی تیاری کی ہے؟”

بابا دوپیازہ گولڑوی نے ہمارے رخ روشن کی طرف دیکھتے ہوئے عرض کیا “یا شیخ، آپ کی قربانی والی بات اس ناچیز نے پلے باندھ لی تھی۔ دو سو اونٹ ایک سال سے پال رہا ہوں۔ اپنی مسلمانوں والی عید قربان پر وہ عرب شریف میں اچھی قیمت دے جاتے ہیں، تو امریکہ میں قربانی پر تو وہ کافی زیادہ پیسے چھوڑ دیں گے، اور وہ بھی ڈالروں میں۔”

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.