قصور کے ٹوٹے ہوئے برتن

Kasur Protest

قصور کے ٹوٹے ہوئے برتنوں پر ایک تحریر۔ پنجاب حکومت کا موقف اور ایک پرانی حکایت۔

[urdu size=”20″]

قصور کے شرمناک واقعے کی بازگشت ہر طرف سنی جا رہی ہے اور اس پر افسوس کیا جا رہا ہے۔ لیکن پنجاب حکومت اور قصور پولیس کا موقف ظاہر کر رہا ہے کہ اسے روٹین کی بھینس چوری کے درجے کا معاملہ قرار دے کر اسے کمیشن کی صورت میں ٹھنڈا کر کے مٹی ڈالنے کی تیاری جاری ہے۔

رانا ثنا اللہ نے اس واقعے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اسے زمین کے جھگڑے کا شاخشانہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انکوائری میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ایسا کوئی معاملہ ہوا ہی نہیں ہے۔ بس زمین کے جھگڑے میں فریق مخالف کو مشکل میں مبتلا کرنے کے لیے اس پر جعلی کیس ڈال دیا گیا ہے۔ وہ کمال مہربانی سے آٹھ سال پہلے اس طرح کا واقعہ ہونے کو مان گئے ہیں۔ ممکن ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ آٹھ سال پہلے پنجاب پر ن لیگ کی حکومت نہیں تھی، سو یہ پچھلی حکومت کی کوتاہی ٹھہری ہے۔

دوسری طرف پنجاب پولیس کے آر پی او شہزاد سلطان اور ڈی پی او رائے بابر سعید صاحبان فرماتے ہیں کہ مظلومین کو بچے قرار دینا غلط تھا کیونکہ وہ ٹین ایجر تھے اور ان کی عمر پندرہ سال سے کم تھی۔ سولہ سال سے کم عمر کے قتل کے مجرم کو بھی سزائے موت نہیں ہوتی ہے کیونکہ قانون اسے بچہ مانتا ہے، لیکن قانون پر عمل درآمد کے یہ نہایت سینئیر ذمہ داران پندرہ سال سے کم عمر کو بھی بچہ ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ لیکن بہرحال ان صاحبان کی مہربانی ہے کہ وہ رانا صاحب کی طرح اس واقعے سے یکسر انکاری نہیں ہیں اور ایسی ویڈیو کے وجود کو بھی مانتے ہیں۔ وہ یہ بھی قبول کرتے ہیں کہ یہ جرم کم از کم سات سال سے ہو رہا ہے، اور بچوں کے والدین نے اس جون سے اسے رپورٹ کرنا شروع کیا ہے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ ایسے صرف سات کیس رپورٹ ہوئے ہیں، تین سو کا نمبر غلط ہے۔

پولیس کا موقف یہ بھی ہے کہ جی ہم نے تو مساجد سے بھی اعلان کروائے تھے، کوئی سامنے ہی نہیں آیا۔ اور دوسری طرف وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ جعلی کیس ہے۔ عقل حیران ہے کہ اگر یہ جعلی کیس ہے تو مساجد میں اعلان کی کیا ضرورت پیش آ گئی تھی؟

روزنامہ دنیا کے میاں عامر محمود صاحب لکھتے ہیں کہ میڈیا کی تحقیقات کے مطابق یہ سلسلہ دس سال سے جاری ہے۔ بہت سے افراد نے ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی لیکن اسے ریکارڈ میں نہیں آنے دیا گیا۔ درجنوں افراد ایف آئی آر لکھوانے کی کوشش کر چکے ہیں لیکن پولیس انہیں خاطر میں نہیں لا رہی ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ زمین کا جھگڑا اس طرح اتنا لمبا نہیں چل سکتا ہے اور ایک بہت بڑے علاقے کی آبادی عورتوں اور بچوں سمیت اس طرح کا مظاہرہ نہیں کر سکتی ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ جس دو رکنی انکوائری کمیشن کی تحقیق کا نام لے کر رانا ثنا اللہ اس معاملے سے انکاری ہیں، اس کے ممبر کمشنر لاہور عبداللہ خان سنبل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اُنھوں نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ اِس معاملے کی مکمل اور جامع تفتیش ہونی چاہیے۔ کمشنر لاہور کا کہنا ہے کہ گاؤں حسین والا میں اِس طرح کے واقعات گذشتہ سات آٹھ برسوں سے مبینہ طور پر ہو رہے ہیں لیکن کسی قسم کی شکایت درج نہ کروانے کے باعث پولیس کی جانب سے کوئی کاروائی عمل میں نہ آ سکی۔ عبداللہ خان سنبل کے بقول واقعے میں ملوث ملزم اور جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے اکثر بچے نابالغ تھے لیکن بعد میں وہ خود اس جرم میں ملوث ہو گئے۔ عبداللہ خان سنبل کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث افراد اِن بچوں کے ساتھ کی گئی جنسی زیادتی کی ویڈیوز بنا کر اُن کو بلیک میل بھی کرتے تھے۔ کمشنر لاہور کے مطابق اب تک ساٹھ سے زائد ویڈیوز کا ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔

یوں اب تک پنجاب کی حکومتی مشینری کے تین موقف سامنے آئے ہیں۔

پہلا یہ کہ ایسا واقعہ ہوا ہی نہیں ہے اور یہ جعلی کیس ہے۔
دوسرا یہ کہ ایک چھوٹے پیمانے پر یہ واقعہ ہوا ہے اور ظلم کا شکار افراد “بچے نہیں تھے” بلکہ پندرہ سال سے چھوٹے ٹین ایجر تھے۔
اور تیسرا یہ کہ ایسے واقعات سات آٹھ برسوں سے ہو رہے ہیں اور ساٹھ سے زیادہ ویڈیو کا ریکارڈ حاصل کیا جا چکا ہے۔

چلیں اب اس امر پر کیا سر کھپانا کہ پنجاب حکومت کا موقف کیا ہے۔ وہ شیر لوگ ہیں، جنگل کا بادشاہ جنگل میں جو مرضی کرے، اسے روکنے ٹوکنے والا کون ہے۔ ن لیگ اپوزیشن میں ہوتی یا ایسا واقعہ خیبر پختونخوا میں ہوا ہوتا تو خواجہ آصف اسمبلی کے فلور پر اسے اٹھا اٹھا کر شرم و حیا کے بھاشن دیتے۔ ہم شرم و حیا کے متعلق خواجہ صاحب جیسے بیان کی قدرت نہیں رکھتے ہیں۔ ہاں ایک پرانی حکایت ضرور ہمارے علم میں ہے۔ وہی بیان کر دیتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ راجھستان میں ایک رانا صاحب کے ہمسائے نے شکایت کی کہ رانا صاحب، آپ نے جو برتن مجھ سے استعمال کے لیے لیے تھے، وہ آپ نے توڑ پھوڑ کر واپس کیے ہیں۔ رانا صاحب اس پر شدید ناراض ہوئے۔ نہایت غصے سے بولے کہ یہ بہتان طرازی آپ کو روا نہیں ہے۔ ایک معزز شخص پر ایسا الزام لگاتے ہوئے آپ کو شرم آنی چاہیے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ نے کیا راجھستان کے ایک معزز اور مان مریادا والے رانے کو کوئی گرا پڑا فقیر سمجھا ہوا ہے جو آپ سے برتن ادھار لے گا؟ اور دوسری بات یہ کہ جب آپ نے وہ گھٹیا برتن ادھار دیے تو وہ پہلے سے ہی ٹوٹے ہوئے تھے۔ اور تیسری بات یہ کہ جب رانا جی کی سرکار نے آپ کو برتن واپس کیے تو وہ بالکل ثابت سالم تھے۔

نوٹ: معلومات کا ماخذ ڈان نیوز، بی بی سی اردو، ٹریبیون اور دا نیوز میں گزشتہ دنوں شائع ہونے والی خبریں ہیں۔

[/urdu]

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.