لارا بابا

wisi baba Image-507-Funny-face-Man
گھریلو نام تو ان کا دلارے میاں تھا، لیکن اپنی پل پل بدلتی طبیعت اور ویسے ہی سے قول و قرار کے باعث چہار دانگ عالم میں لارے میاں کے نام سے مشہور ہوئے۔ پھر عمر بڑھتی گئی اور چالیس سال کی عمر میں اپنی حرکتوں سے ساٹھ سال کے سمجھے جانے لگے، تو پھر لوگوں نے ان کے سٹھیاپے کے احترام میں انہیں لارا بابا کہنا شروع کر دیا۔ گو کہ خود وہ اس کی وجہ اب خود یہ بتاتے ہیں کہ بچپن میں وہ برائن لارا کے سے بہترین بیٹسمین ہونے کی وجہ سے محلے بھر میں لارا کہلائے جانے لگے تھے اور پھر کرکٹ کا یہ لقب ان سے تازندگی چپک گیا حالانکہ اب وہ تاش کے علاوہ کچھ بھی کھیلنے سے قاصر ہیں اور وہ بھی اس صورت میں جب یہ پتے پھینٹنے کی ذمہ داری کوئی اور کھلاڑی اٹھائے۔

عربوں کے انداز بیان کا سہارا لے کر ان کی شخصیت کو بیان کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ وہ درجن بھر بندوں پر بھاری ہیں۔ اور یہ بات محض تمثیلاً ہی نہیں کہی جا رہی ہے۔ ان کا تن و توش ایسا ہے کہ ان کو دیکھنے والا اس پر مبالغے کا شائبہ تک نہیں کر سکتا ہے بلکہ اسے یقین ہو جاتا ہے کہ لارا بابا کا وزن کرنے کی ضرورت پیش آئے تو ہر عامی کی طرح ان کو باتھ روم سکیل پر نہیں تولا جاتا، بلکہ خواص کی طرح ٹرک اڈے پر لے جا کر کانٹے والے سے ریٹ مکانا پڑتا ہے۔

دوستوں کے حق میں نہایت دریا دل ہیں۔ ابھی کوئی تین مہینے پہلے کا واقعہ ہے کہ خاکسار کی کیمروں میں دلچسپی دیکھ کر پوچھنے لگے کہ کون سا کیمرہ خریدنا چاہ رہے ہو۔ انہیں بتایا تو کمال مہربانی سے گویا ہوئے کہ ” میں چین کے تجارتی دورے پر جانے سے پہلے پہلے اس پیر کو تمہیں ایک کیمرہ ضرور دوں گا”۔

ہمارا خوشی سے برا حال ہو گیا، حیرت سے پوچھا “ہیں؟ واقعی؟”۔
لارا بابا: واقعی۔ تمہاری ان پٹ، عقل و دانش اور راہنمائی کی وجہ سے ہی یہ تجارتی دورہ ممکن ہوا ہے۔
میں: اچھا کیمرہ کب تک ملے گا؟
لارا بابا: دو دن تک۔
چند دن بعد میں نے یاددہانی کرائی: بابا جی آٹھ دن گزر گئے ہیں۔
لارا بابا: بس اس پیر کو لازمی دے دوں گا۔
میں: اچھا۔

اس کے بعد کوئی ڈیڑھ دو مہینہ کچھ اس طرح کی گفتگو چلتی رہی۔

میں: بابا اب اگلا بدھ ہو گیا ہے۔
لارا بابا: بس اگلے منگل کو تو لازمی دے دوں گا۔ بے صبرے مت بنو۔
میں: بابا اگلا جمعرات آ گیا ہے۔ اب میں کیمرہ خود خریدنے لگا ہوں۔
بابا: ہرگز نہیں۔ بس ایک مہینے اور انتظار کر لو۔ پھر لازمی دے دوں گا۔ پکا وعدہ ہے۔ میں زبان سے کبھی نہیں پھرتا۔
تنگ آ کر ایک دن میں نے کیمرہ خود ہی خرید لیا اور لارا بابا کو بتایا: بابا میں نے کیمرہ خود ہی خرید لیا ہے۔

لارا بابا: بہت غلط کیا۔ تم لوگوں میں یہی خرابی ہے کہ ذرا سا انتظار نہیں کر سکتے ہو اور جلد بازی میں نقصان اٹھا بیٹھتے ہو۔ تمہیں دو مہینے سے کہہ رہا ہوں کہ ایک دو روز میں تمہیں یہ تحفے میں پیش کر دوں گا، مگر تم تو پیسے لٹانے پر تلے رہتے ہو۔ تمہیں میری بات کا اعتبار ہی نہیں ہے۔ اچھا اب میں اگلے مہینے کے پہلے پیر کو چین سے واپس آ کر تمہیں پروجیکٹر لے کر دوں گا۔ تمہاری عقل و دانش کی وجہ سے ہی یہ تجارتی دورہ ممکن ہوا ہے۔ بس اب دو دن تک انتظار کرو۔
میں: واقعی؟ لارا تو نہیں ہے؟
بابا: ہرگز نہیں۔ میری ایک زبان ہے۔ لارا بالکل نہیں ہے۔
میں: ہمیں یقین ہوا ہم کو اعتبار آیا
بابا: اچھا اب یہ بتاو کہ بیس روپے ہوں گے؟ چین کا ٹکٹ خریدنے ٹریول ایجنٹ کے پاس جانا ہے۔ پرس گھر رہ گیا ہے۔ اور ایک سگریٹ ہو تو وہ بھی دے دینا۔ ماچس اپنی ہے میرے پاس، صبح ہی خرید لی تھی۔

ایک دن ایسے ہی لاروں پر دلگرفتہ ہو کر میں نے شکوہ کیا کہ آپ بلا فرمائش خود ہی وعدہ کرتے ہیں اور پوچھو تو پھر عدالت سے زیادہ تاریخیں ڈال کر دل توڑ دیتے ہیں۔
تو لارا بابا کہنے لگے: پھانسی بھی لے لوں لیکن تم نے کون سا مطالبات چھوڑ دینے ہیں اگلی باری ہاتھی کا اانڈہ مانگ لیا تو ہاتھی کو کون راضی کرے گا۔
خاکسار نے بلاتکلف کہہ دیا کہ یہ تو ہاتھی کے انڈے کا لارا دینے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا کہ ہاتھی سے مذاکراتی ٹیم کے اراکین کون ہوں گے۔
پھر کچھ عرصے کے لیے غائب ہو گئے۔

ان یادگار مکالموں اسے آپ کو لارا بابا کی شخصیت کے ایک پہلو کا کچھ اندازہ ہو گیا ہو گا۔ لیکن موصوف ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں، اور ان کی شخصیت کے ایسے بے پناہ پہلو سامنے آتے رہتے ہیں۔ لیکن سب سے دلچسپ ان کی مخبریاں اور تجزیے ہوتے ہیں۔ کمال کے قصہ گو ہیں۔ نہایت باخبر ہیں، عالم بالا تک کی پکی خبریں نکال لاتے ہیں۔ میڈیا کی ہر اہم اور غیر اہم شخصیت سے قریبی تعلق کا دعوی رکھتے ہیں، اور بتاتے رہتے ہیں کہ کہاں کہاں ان کی راہنمائی کے باعث ان شخصیات نے اپنی تحریروں یا پروگراموں میں اہم انکشافات کیے ہیں لیکن ان کو کریڈٹ نہیں دیا۔ پھر وہ اپنے تجزیات پیش کرتے ہیں اور غلط ہونے پر وہ وضاحت سے بیان کرتے ہیں کہ بین الاقوامی حالات میں ہونے والی کس اچانک تبدیلی کی وجہ سے کسی مقامی سیاسی حلقے کے حالات بدل گئے ہیں اور وہاں کی انتخابی نتائج ان کی پیش گوئی سے مختلف نکلے ہیں اور پھر کمال خود اعتمادی سے نیا تجزیہ پیش کر دیتے ہیں۔

غضب کے قصہ گو ہیں۔ درجن بھر قصے ایک ہی نشست میں سنا ڈالتے ہیں۔ بندہ حیرت میں پڑ جاتا ہے کہ لارا بابا کی معلومات کتنی زیادہ ہیں، ان کا انداز بیان کتنا دلچسپ ہے اور ان کے دوستوں کے حالات کیسے عجیب ہیں۔ ان کے میڈیا کے دوستوں کا ذکر تو ہو ہی چکا ہے۔ زیادہ حیرت ان کے پہلی جماعت سے بڑھاپے تک کے دوستوں کے حالات زندگی پر ہوتی ہے جو پہلی جماعت سے بڑھاپے تک عشق کے ہاتھوں برباد ہوئے یا درے اور افغانستان میں جنگ کرنے گئے۔ شروع میں تو یقین ہی نہیں آتا کہ یہ سب کچھ سچ ہو سکتا ہے۔ لیکن پھر جب سو پچاس ملاقاتوں میں تواتر سے وہی درجن بھر قصے بار بار سناتے ہیں تو کچھ کچھ یقین ہونے لگتا ہے کہ سب سچ ہی ہو گا، ورنہ کوئی بندہ غلط واقعات کو اس طرح رٹے رٹائے انداز میں بھلا کب تک بیان کر سکتا ہے۔

بہرحال، نہایت محترم و مکرم شخصیت ہیں اور اس عالم فانی میں اپنے لاروں سے اپنے دوستوں اور ملنے والوں کے دلوں میں امیدوں کی جوت جلائے رکھتے ہیں۔ خدا ان کی پرواز تخیل اور شیریں بیانی ایسے ہی برقرار رکھے اور افریقی لارے کی طرح یہ دیسی لارا بابا بھی لاروں کے ڈھیر لگاتا رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.