سعودی تیل ختم تو فیصل آباد کو واپس لائلپور نہ کر دیں؟

Spread the love

1971 میں پاکستان دو لخت ہوا تو ایک بڑے معاشی بحران کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اس وقت تک عرب دنیا کے غیر متنازع لیڈر جمال عبدالناصر بھی وفات پا چکے تھے اور سعودی عرب کے شاہ فیصل مسلم اپنے ملک کو مصر کی جگہ مسلم دنیا کا لیڈر بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ تیسری طرف نوجوان انقلابی کرنل قذافی بھی کچھ کرنے کے خواہش مند تھے۔ ان سب کو ذوالفقار علی بھٹو نے راہنمائی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔

سنہ 1973 کی عرب اسرائیل جنگ اور تیل کے بحران کے بعد مشرق وسطی کے تیلی ممالک یکلخت بے تحاشا امیر ہو گئے۔ پاکستان نے تیزی سے سعودی عرب سے قربت بڑھا دی۔ بھٹو نے پاکستان میں انڈسٹری کو قومیانے کے علاوہ یہ کام بھی کیا کہ معیشت کو سنبھالنے کے لئے مشرق وسطی کے تیلی ممالک میں افرادی قوت بھیجنے کے معاہدیے کیے اور ہر شہری کے لئے پاسپورٹ کا حصول آسان بنا دیا۔ یوں وہ ہنرمند افراد جو کسی زمانے میں ان عرب ممالک میں مختلف منصوبوں کے قیام کے لئے ماہرین کی حیثیت سے جاتے تھے، ادھر ملازم ہو کر مستقل مقیم ہو گئے اور پاکستان میں کچھ پیدا کرنے کی بجائے مشرق وسطی میں پیدائش کے امور سرانجام دینے اور پاکستان میں کچھ پیسے بھیجنے لگے۔

جنرل ضیا جولائی 1977 میں تخت آرا ہوئے تو ان کے لئے ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ مشرق وسطی میں پاپولر بھٹو کے دوستوں کی حمایت کیسے حاصل کی جائے۔ یوں یکم ستمبر 1977 کو انگریز لیفٹننٹ گورنر جیمز لائل کے بسائے ہوئے شہر لائل پور کا نام سعودی بادشاہ شاہ فیصل کے نام پر فیصل آباد رکھ دیا گیا۔ اقتدار اور پیسہ بھی کیا کیا کروا دیتا ہے، لائلپوریوں کو فیصل آبادی تک کروا دیتا ہے۔

بہرحال اب خبریں آ رہی ہیں کہ تیل کا دیا گل ہو رہا ہے۔ سعودی عرب کے پاس دنیا کا ایک چوتھائی تیل باقی ہے۔ نکالنے کی موجودہ شرح کے مطابق یہ نوے سال تک چل سکتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ دنیا میں تیل اب سونے کے بھاؤ نہیں بکتا۔ اتنا سستا ہو گیا ہے کہ سعودی عرب نہ صرف اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کرنے اور دس دن کی بچت کے لئے ہجری سے عیسوی کیلنڈر پر منتقل ہونے پر مجبور ہو گیا ہے، بلکہ اس نے بجٹ کا خسارہ پورا کرنے کے لئے دو چار درجن سعودی شہزادے بھی اندر کر دیے ہیں کہ پیسہ دو اور رہائی پاؤ۔ اس سے بھی بڑھ کر اب سعودی عرب وہ بیس ارب ڈالر بچانے کی کوشش کر رہا ہے جو سعودی شہری ہر سال دبئی اور یورپ میں جا کر فلمیں دیکھنے، گانے سننے اور ساحل سمندر پر گوریاں دیکھنے وغیرہ پر خرچ کرتے ہیں۔ اب سعودی عرب میں مقامی طور پر یہ سب کچھ دستیاب ہوا کرے گا۔

پیسے بچانے کے لئے اب وہ غیر ملکیوں کو بھی نکال رہے ہیں۔ لاکھوں پاکستانی دیس واپس سدھار چکے ہیں۔ حالات خراب سے خراب تر ہی ہوں گے کیونکہ ترقی یافتہ ممالک اگلے دس سے بیس سال میں اپنی گاڑیوں کو تیل سے ہٹا کر متبادل توانائی کے ذرائع پر منتقل کر رہے ہیں۔ اب وہ بجلی اور ہائیڈروجن پر گاڑیاں چلائیں گے اور تیل کی حیثیت ان کے نزدیک بلیک گولڈ کی نہیں بلکہ بلیک واٹر کی ہو جائے گی۔ اسے درست طریقے سے سمجھنے کے لئے آپ پہلے ایک چکر لاہور کے گولڈن پانی والی نہر کا لگائیں اور دوسرا اس سے کچھ دور بہنے والے بلیک واٹر والے گندے نالے کا۔

جب 20 اکتوبر 2011 کو لیبیا میں کرنل قذافی کی حکومت ختم ہوئی تھی تو تین دن بعد 23 اکتوبر کو پاکستان کرکٹ بورڈ کو اجلاس طلب کر کے غور کرنا پڑا تھا کہ کیوں نہ قذافی سٹیڈیم کا نام تبدیل کر دیا جائے۔ پنجاب اولمپک ایسوی ایشن نے بھی اسی ہفتے پنجاب حکومت کو درخواست ارسال کر دی تھی کہ کرنل قذافی کا پروفائل اتنا ولولہ انگیز نہیں ہے کہ ہمارے کرکٹ سٹیڈیم سے نتھی کیا جائے۔

قذافی سٹیڈیم تو نہ جانے کیوں وہی رہا۔ لیکن صاحبو، فیصل آباد پر غور کر لیں۔ یہ بات اب تو بالکل واضح ہے کہ سعودی تلوں میں تیل باقی نہیں رہا۔ مناسب ہے کہ فیصل آبادیوں کو دوبارہ لائلپوریا کر دیا جائے۔

لیکن ہماری دور اندیش قیادت یہ بھی سوچ سکتی ہے کہ پائے گدا لنگ نیست ملک خدا تنگ نیست۔ یعنی فقیر لنگڑا نہیں ہے اور خدا کی دنیا وسیع ہے۔ ایک گیا تو دوسرا ان داتا آتا ہی ہو گا۔ لاہور کا ایک انڈرپاس تو بیجنگ انڈر پاس کا نام پا چکا ہے، سابقہ لائل پور حال فیصل آباد کو دو سال بعد چنگ چی پور ہی نہ کر دیں؟ عفیفاؤں اور ہمارے شہروں کے نام ہر نئے مجازی خدا سے تعلق کے بعد بدل جاتے ہیں۔ لائلپوریے سے چنگچی پوریے تک کا سفر چالیس سال میں تمام ہو جائے گا۔

Comments

comments