منٹو، جاوید چوہدری اور الٹی شلوار

sadat-hasan-manto-1

منٹو، جاوید چوہدری اور الٹی شلوار

صبح صبح جاوید چوہدری صاحب کا کالم “الٹی شلواریں، ٹھنڈے گوشت” پڑھ کر ابھی ہم مسکرا ہی رہے تھے کہ ایک دھماکے سے دروازہ کھلا اور بھیا ڈھکن فسادی ہاتھ میں اخبار پکڑے نمودار ہوئے۔ جوش سے ان کا چہرہ تمتما رہا تھا۔ ہمیں دیکھتے ہی بولے “تم ہمیشہ منٹو کی تعریف کرتے ہو اور ہماری صائب رائے کو کوئی اہمیت نہیں دیتے ہو۔ یہ دیکھو جاوید چوہدری جیسے بڑے صحافی نے بھی آج ہماری بات کی تائید کر دی کہ منٹو ایک فحش نگار تھا اور ایک نہایت ہی صالح اور متقی شخص نے اس کی تحریروں پر فحاشی کے مقدمے چلائے تھے”۔

ہم: لیکن چوہدری صاحب نے تحریر کے شروع میں ہی یہ بھی تو فرمایا ہے کہ “اگر کوئی شخص اس زبان کو بے ادب کرنا چاہے تو یہ اس سے سعادت حسن منٹو کو خارج کر دے، اردو کا دو تہائی ادب دم توڑ جائے گا”۔

بھیا: چوہدری صاحب وضعدار شخص ہیں۔ کڑوا سچ بیان کرنے سے پہلے اسے شوگر کوٹ کر کے گوارا بناتے ہیں۔

ہم: چوہدری محمد حسین صاحب کو تو انہوں نے تقریباً ولی اللہ بنا دیا ہے حالانکہ وہ ایک متنازع شخصیت رہے ہیں۔

بھیا: جاوید چوہدری صاحب لکھتے ہیں کہ “وہ پنجاب کی پریس برانچ میں ملازم تھے، وہ منٹو کو فحش نگار سمجھتے تھے اور وہ ہر اس رسالے پر پابندی بھی لگا دیتے تھے جس میں منٹو کا افسانہ چھپتا تھا لیکن اس میں چوہدری صاحب کا کیا قصور تھا؟”

ہم: چوہدری صاحب نے تو اس بات پر ان کی ادب فہمی کی داد دی ہے کہ محمد حسین صاحب، علامہ اقبال کے بچوں کے گارڈین تھے اور جاوید اقبال مرحوم کو انہوں نے بچپن میں دیوان غالب پڑھایا تھا۔ اور اس وجہ سے جاوید چوہدری صاحب ان کو فحاشی ناپنے کا پیمانہ قرار دیے بیٹھے ہیں۔ حالانکہ دیوان غالب کی شرح کرتے ہوئے غالب پر منٹو سے کہیں زیادہ فحاشی اور الحاد وغیرہ کے الزامات لگ سکتے ہیں۔

بھیا: تو آپ کیا چاہتے ہیں کہ محمد حسین مرحوم، غالب کو قبر سے نکال کر اس پر مقدمہ چلا دیتے؟

ہم: بھیا غالب کو قبر سے مت نکالتے، لیکن ایسے نیک شخص کے لیے دیوان غالب کو بھی ننھے منے بچوں کو پڑھانے کی بجائے اس پر بھی پابندی لگا کر اسے قبر میں دفن کرنا مناسب ہوتا۔

بھیا: آپ کٹ حجتی پر اترے ہوئے ہیں۔ جاوید چوہدری صاحب ہماری اقدار و روایات کو سمجھنے والے شخص ہیں اور ان کے خلاف اٹھنے والی آوازوں پر اپنے قلم سے ضرب لگاتے ہیں۔ ہم تو جاوید چوہدری صاحب سے متفق ہیں کہ “چوہدری محمد حسین نے منٹو کی جن کہانیوں پر پابندی لگائی، آپ یقین کیجیے وہ کہانیاں آج بھی رسائل اور اخبارات میں شایع نہیں ہو سکتیں، آپ الٹی شلوار یا ٹھنڈا گوشت نکالیے اور اپنی بہن اور بیٹی کو پڑھنے کے لیے دے دیجیے، آپ اگر ایسا نہ کر سکیں تو آپ جان لیں چوہدری محمد حسین ولن نہیں، ہیرو تھے اور آپ اگر آسانی سے ایسا کر گزریں تو میں چوہدری صاحب کو ولن مان لوں گا، ایک ایسا ولن جس نے سعادت حسن منٹو کو شراب کے لیے کہانیاں نہیں لکھنے دیں اور جو اس ملک کو الٹی شلواروں اور ٹھنڈے گوشتوں کا ملک نہیں دیکھنا چاہتا تھا، اسے علامہ اقبال کا پاکستان دیکھنا چاہتا تھا، اس علامہ اقبال کا پاکستان جس کے شہری خودی بیچنے کے بجائے غریبی میں نام پیدا کرنے کا ہنر جانتے ہوں۔”

ہم: بھیا ہم نے سنا ہے کہ جاوید چوہدری صاحب نے کوئی ریسرچ ڈیپارٹمنٹ بھی بنایا ہوا ہے جو ان کو تحقیق کر کر کے ایسا مواد فراہم کرتا ہے؟

بھیا: چوہدری صاحب تحقیق کے بغیر کچھ نہیں لکھتے ہیں۔ مکمل چھان پھٹک کر کے پھر ہی وہ کچھ تحریر میں لاتے ہیں۔ لکھا ہوا لفظ ایک انمٹ حقیقت بن جاتا ہے۔

ہم: درست فرمایا۔ ہماری رائے میں تو جاوید چوہدری صاحب کو چاہیے کہ منٹو کے افسانوں یا دیوان غالب کو دفن کرنے کی بجائے اپنے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ کو دفن کرنے کے بارے میں غور فرمائیں۔ جس “الٹی شلوار” نامی افسانے پر انہوں نے یہ کالم بعنوان “الٹی شلواریں، ٹھنڈے گوشت” لکھ مارا ہے، اور منٹو کو یہ فحش ادب لکھنے پر خوب مطعون کیا ہے، وہ “الٹی شلوار” نامی افسانہ سعادت حسن منٹو کی نہیں، بلکہ فرحانہ صادق صاحبہ کی تحریر ہے جو انہوں نے منٹو کی وفات کے کوئی ساٹھ برس بعد لکھا ہے۔ اور اس پر چوہدری صاحب نے منٹو پر مقدمہ قائم کر دیا ہے۔ منٹو بچارے نے تو “کالی شلوار” لکھا تھا جسے چوہدری صاحب کے دفتری فرشتوں کی ریسرچ سے گذر کر “الٹی شلوار” ہونا پڑ گیا۔ اس فاسق فحش نگار غالب کا ہی ایک شعر یاد آ گیا ہے

پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا؟

اب جاوید چوہدری صاحب کے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ کے فرشتوں نے لکھ دیا اور سعادت حسن منٹو بلاوجہ پکڑے گئے۔ ویسے چوہدری صاحب کے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ کی چند سوغاتیں آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ چوہدری صاحب فرماتے ہیں کہ

“فرعونوں نے مصر پر تین ہزار تین سو سال تک حکومت کی تھی. تاریخ میں 33 فرعون گزرے ہیں. ہر فرعون کو تقریبا سو سال تک اقتدار ملا تھا. حضرت موسیٰ کے ساتھ آخری فرعون کا مقابلہ ہوا، یہ پانی میں ڈوبا اور اس کے ساتھ ہی فرعونوں کا اقتدار بھی ڈوب گیا. فرعون ختم ہو گئے اور ریت نے ان محلات کو ڈھانپ لیا. یہ ریت کے چھوٹے بڑے ٹیلے بن گئے. ان ٹیلوں کے ارد گرد لکسر کا شہر آباد ہو گیا”۔

واللہ جاوید چوہدری صاحب کے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ کی برکت سے پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ فرعون بنتے ہی یکلخت بندے کی عمر میں سو سال کا اضافہ ہو جایا کرتا تھا۔ خواہ بندہ ایک سال کی عمر میں فرعون بنے یا شہزادہ چارلس کی طرح ستر اسی سال کی عمر میں، اسے سو سال مزید زندہ رہ کر حکومت کرنی پڑتی تھی۔ اور ایک اور کالم میں وہ فرعون کے بارے میں مزید انکشاف فرماتے ہیں کہ
“سائنس کا دعویٰ ہے انسان کے بال اور ناخن انتقال کے بعد بھی بڑھتے رہتے ہیں لیکن یہ عمل ایک خاص مدت تک جاری رہتا ہے، یہ اس مدت تک پہنچنے کے بعد خود بخود ختم ہو جاتا ہے‘ تاریخ میں صرف فرعون کی ممی واحد نعش ہے جس کے بال اور ناخن ہزاروں سال گزرنے کے باوجود بڑے ہو رہے ہیں۔ فرعون کی ممی کو چند سال بعد مصر سے یورپ لایا جاتا ہے اور وہاں اس کے ناخن اور بال تراشے جاتے ہیں، یہ گروتھ بہت معمولی ہے لیکن یہ بہر حال موجود ہے”۔

ہمارے ہاں تو آنٹیوں کے لیے بیوٹی پارلر ہوا کرتے ہیں جو انہیں پچاس سالہ مائی کی بجائے پچیس سالہ دوشیزہ بنا دیتے ہیں لیکن بخدا چوہدری صاحب نے تو ممیوں کے لیے بھی بیوٹی پارلر کھول ڈالے ہیں۔ اور طرفہ تماشا یہ کہ ہم شہیدوں کی میتوں کے بارے میں کیا کہیں گے جن کے بارے میں بہت سے لوگوں کا عقیدہ ہے کہ ان کی لاش خراب نہیں ہوتی ہے۔ کیا ان کے ناخنوں اور بالوں میں بھی ایسے ہی بڑھوتری ہو رہی ہو گی؟

جاوید چوہدری صاحب کو منٹو اور فرعونوں کی بجائے اپنے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ کے فرشتوں کا کچھ بندوبست کرنا چاہیے جو تاریخ، ادب اور سائنس سمیت ہر علم کو ہی نئے سرے سے لکھنے پر مصر ہیں۔

بھیا: تم ہو ہی نہایت فاسق شخص۔ کسی نیک بندے کو جھٹلانے کو ہر دم تیار رہتے ہو۔ تمہارے سامنے حق بات کرنا تو اپنا دماغ خراب کرنے والی بات ہی ہے۔ اس وقت شدید بھوک نہ لگی ہوتی تو یہاں پل بھر نہ بیٹھتا بلکہ فوراً چلا جاتا۔ ذرا لونڈے کو کہو کہ لپک کر بازار سے سری پائے اور درجن بھر کلچے توپکڑ لائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.