سیاست اور مونچھیں

Spread the love

سیاست اور مونچھوں کے تعلق پر ایک نظر

[urdu size=”20″]

turkish moustache
بلاد ترکیہ سے ایک دلچسپ خبر موصول ہوئی ہے۔ ترک راہنما عام طور پر پاکستان آتے ہیں تو ایک بات ضرور کہتے ہیں کہ پاکستان اور ترکی دو ملک لیکن ایک قوم ہیں۔ واللہ آج کی یہ خبر پڑھ کر تو واقعی یقین ہو گیا کہ ایسا ہی ہے۔

خبر یہ آئی ہے کہ ترک افسر شاہی نے الیکشن کے نتائج آنے کے بعد گزشتہ تیرہ برس کی پالی پوسی مونچھیں قربان کر دی ہیں۔ اے کے پارٹی کے تمام بڑے لیڈروں میں ایک بات مشترک تھی، اور وہ تھا ان کی مونچھوں کا سٹائل جسے ترک بادامی مونچھ کہتے ہیں۔ تو اے کے پی کی حکومت آنے پر افسر شاہی بھی اسی طرح اے کے پی کے بڑوں کے رنگ میں رنگی گئی جیسے کہ پاکستان میں جنرل ضیا کے مارشل کے بعد تھری پیس پاکستانی بیوروکریسی بھی راتوں رات شلوار واسکٹ اور سر پر نمازی ٹوپی کا رنگ اپنا کر پیا رنگ رنگی گئی تھی۔

تو ہوا یوں کہ اب جب کہ تیرہ برس کے بعد افسر شاہی نے یہ دیکھا کہ اے کے پی اب اکیلی حکومت نہیں بنا سکتی ہے، تو اس نے بادام کو خداحافظ کہا۔ اب یا تو وہ مونچھیں منڈوانے لگے ہیں، یا پھر سائیکل کے ہینڈل کی طرح کی مونچھیں رکھنے لگے ہیں جو کہ انتہائی دائیں بازو کی ایم ایچ پی کی لیڈرشپ کے چہروں پر سجی نظر آتی ہے۔

بھیا دیس دیس کا رواج ہے۔ ہمارے یہاں تو پارٹیوں کے لیڈر رنگ برنگے دوپٹوں سے پہچانے جاتے ہیں، کوئی لال اور ہرا دوپٹہ پہنے ہوتا ہے،کوئی لال ہری اور کالی چنی سلیقے سے اوڑھے ہوتا ہے، اور کوئی ہرے رنگ کا دوپٹہ زیب تن کیے ہوتا ہے۔ مگر لگتا ہے کہ ترکی میں ہر پارٹی اپنی مونچھ سے پہچانی جاتی ہے۔ تعجب نہیں ہو گا اگر وہاں کا الیکشن کمیشن سیاسی پارٹیوں کو انتخابی نشان کے علاوہ مونچھ کا انداز بھی الاٹ کرتا ہو۔

لیکن یہ ہرگز مت سمجھیں کہ صرف مونچھ ہی بدلی ہے۔ نہیں جناب، حکومت بدلتے ہی انداز تکلم بھی بدل گیا ہے۔ گزشتہ تیرہ برس سے جو افسر ساڑھے گیارہ سو کمروں کے ایک محل کے مکین کی پیروی میں ازراہ عزت “استات” یعنی استاد کہلاتے تھے، اب وہ کچھ بے تکلف ہو کر تیرہ سال پہلے کے رواج کے مطابق آرکاداش یعنی دوست کہلانے لگے ہیں۔

اور اپوزیشن تو خوشی سے نہال ہے۔ موسم بدلا ہے تو مونچھیں اور الفاظ ہی نہیں بدلے، انداز و اطوار بھی بدل گئے ہیں۔ وہ افسران جواپوزیشن کے ممبران پارلیمنٹ کا فون اٹھانا بھی گوارا نہیں کرتے تھے، اب ان کا نامہ دیکھنے اور خود سے فون کرنے کی چاہ میں دیوانے ہوئے جا رہے ہیں۔

ابھی کچھ واضح نہیں ہے کہ حکومت کس کی بنے گی۔ سو چند ہفتے کے اندر اندر افسر شاہی ایک مکمل نئے روپ میں بھی سامنے آ سکتی ہے۔ منتظر رہیے کہ افسر شاہی کا آسمان کیا کیا رنگ بدلتا ہے۔

[/urdu]

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published.