راہنمائے مصنفان

dervish1

[urdu size=”20″]

شیخ طریقت جوہر القادری کچھ دیر تک تو اپنے مریدوں کو دیکھتے رہے اور پھر یوں گویا ہوئے:۔

تم مصنف بننا چاہتے ہو۔ اس کے لیے ایک اہم چیز یاد رکھو۔ انسان تین چار طرح کے موڈ کا شکار ہوتا ہے۔ جسطرح کا موڈ ہوتا ہے، اسی طرح کی تحریر لکھو۔ اگر وہ بس سے باہر ہو تو اس وقت کچھ نہ لکھو۔

اگر تم نہایت اداس ہو تو قوم کی موجودہ حالت کا نوحہ لکھو۔ بگڑتی ہوئی اقدار کا رونا روؤ۔ مستقبل کے بارے میں نا امیدی کا اظہار کرو۔ لوگوں کے غموں کے بارے میں لکھو۔

اگر تم دانشمند محسوس کر رہے ہو تو قوم کی موجودہ حالت پر تشویش کا اظہار کرو۔ مستقبل کا خوف ظاہر کرو۔ اور اپنی حکمت بیان کرو جس پر عمل کر کے قوم فلاح پا سکتی ہے اور ایک روشن مستقبل کی طرف جا سکتی ہے۔

اگر کسی سبب سے تم خوشی کا شکار ہو گئے ہو تو مزاح لکھو۔ لطیفے بیان کرو۔ قوم کی موجودہ گئی گزری حالت میں بھی اس کی خوبیاں بیان کرو اور انہیں  کی بنیاد پر قوم کو سب اقوام مشرق و مغرب سے بلند قرار دو۔ یاد رکھو کہ گاؤں کا چوہدری خواہ کوئی بنا پھرے، عقل و حکمت کے معاملے میں گاؤں کے میراثی کی بات ہی زبان زد عام ہوتی ہے۔

اور اگر تمہیں کسی نے رومانی موڈ کا شکار کر دیا ہے تو عشق پر لکھو۔ بتاو کہ جو قومیں عشقیہ داستانیں نہیں رکھتیں، ان کا حال کتنا عبرتناک ہوتا ہے۔ اپنے معاشقوں کو دوستوں کے معاشقے قرار دے کر لکھ ڈالو تاکہ اہل و عیال سے محفوظ رہ سکو۔ اور اگر جوانی میں معاشقوں سے محروم رہے ہو تو دوستوں کے معاشقے اپنے نام سے بیان کرو تاکہ بیگم کو یقین رہے کہ تم نے اس سے شادی کر کے اس پر بہت بڑا احسان کیا ہے ورنہ سارے شہر کی حسینائیں ٹوکن لے کر لائن بنائے کھڑی تھیں۔

اگر تم نہایت ناکارہ محسوس کر رہے ہو تو تنقید کا میدان پکڑو اور شروع ہو جاؤ۔

[/urdu]

Leave a Reply

Your email address will not be published.