ناکامی کا شکنجہ

nakami-chained elephant

ناکامی کا شکنجہ

حوصلے کی کمی بہت سوں کو ناکام بنا دیتی ہے۔ کہنے والے ایک حکایت بیان کرتے ہیں کہ ایک سیاح چھٹیاں گزارنے ہندوستان آیا تو اس نے ایک جگہ چند ہاتھی بندھے دیکھے۔ ہاتھیوں کے پیروں میں معمولی سی زنجیریں بندھی تھیں اور وہ انہیں بآسانی توڑ کر فرار ہو سکتے تھے۔ لیکن وہ ایسی کوئی کوشش نہیں کر رہے تھے۔

سیاح نے حیران ہو کر مہاوت سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ اتنے سارے ہاتھی موجود ہیں، لیکن ایک بھی زنجیر توڑ کر آزاد ہونے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔

مہاوت مسکرایا اور بولا کہ جب ہم انہیں سدھانا شروع کرتے ہیں تو یہ چھوٹے بچے ہوتے ہیں، اور یہ زنجیر توڑنا ان کے بس سے باہر ہوتا ہے۔ وہ کوششیں کرتے ہیں اور ناکام ہو کر مایوس ہو جاتے ہیں کہ یہ زنجیر توڑنا ان کے بس سے باہر ہے۔ پھر یہ خود تو بڑے اور طاقتور ہو جاتے ہیں لیکن زنجیر کو توڑنا اپنی طاقت سے باہر جانتے ہیں۔

سیاح دنگ رہ گیا۔ حوصلے کی کمی نے کیسے ان شہزوروں کو غلام بنایا ہوا تھا۔ وہ ایک ایسا کام کرنے کو ناممکن جانتے تھے جو ان کے لیے نہایت آسان تھا۔

انسانوں کا بھی یہی ماجرا ہوتا ہے۔ وہ بہت سے کاموں کو مشکل جان کر کوشش ہی نہیں کرتے ہیں حالانکہ وہ ان کے بس میں ہوتے ہیں۔ یہ لوگ زندگی بھر ناکامی کے شکنجے میں پھنسے رہتے ہیں۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.