نمک حلال

نمک حلال

صبح کا وقت ہے۔ سیکرٹری، چیئرمین کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام کرتا ہے
article-1283212-09D97A2B000005DC-735_233x325سیکرٹری: سائیں، ہم کافی بری حالت میں ہیں۔ ویسے تو پورے ملک میں ہی امیدوار نہیں مل رہے ہیں، اور جو ملے ہیں وہ منہ چھپاتے پھر رہے ہیں، لیکن پنجاب میں بہت بری حالت ہے۔
چئیرمین: بھئی اس میں پریشانی کی کیا بات ہے۔ حالات کو دیکھ کر فیصلہ کرو۔ خود اکثریتی ووٹ لینا ضروری نہیں  ہے۔ دوسروں کے ووٹر کو خراب کرو۔ اپنا اقلیتی ووٹ بھی اکثریتی بن جائے گا۔ کیا کیا مسئلہ ہے؟
سیکرٹری: سائیں سب سے بڑا مسئلہ تو بجلی کا ہی ہے۔ لوگ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے بہت گرم ہیں۔ امیدوار ووٹ مانگنے جائیں تو منہ کھولنے سے پہلے ہی وہ منہ پر ایک رسید کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
چئیرمین: یار تم بھی جاہل ہی رہو گے۔ مثبت سوچ رکھا کرو۔ سب سے پہلے تو انجمن دندان سازاں سے رابطہ کرو۔ ان کو بتاؤ کہ ہماری وجہ سے ان کے کاروبار کو کتنی ترقی ہو رہی ہے۔ ان کے ووٹ تو پکے کرو۔
سیکرٹری: سائیں اب آپ کا دماغ تو صرف آپ کے پاس ہی ہے۔ کسی اور کو اتنی عقل کہاں ہے۔ واقعی، آپ سب پر بھاری ہیں۔ جہاں ہماری سوچ بھی نہیں جا سکتی آپ وہاں سے بھی ووٹ نکال لاتے ہیں۔
چئیرمین: اب بجلی کا مسئلہ دیکھتے ہیں۔ ہمارے وزیر اعظم کے دور میں بجلی کتنے گھنٹے جاتی تھی؟
سیکرٹری: سائیں یہی کوئی آٹھ دس گھنٹے۔
چیئرمین: بس؟ یار کچھ خود بھی عقل کیا کرو۔ لکڑ کا مادھو نہ بنا کرو۔ آسان سا حل ہے۔ ایک چشم دید واقعہ سنایا تھا کسی نے۔ ایک گاوؑں میں ایک کفن چور تھا۔ سارا گاوؑں اس پر لعنت ملامت کرتا تھا۔ وہ مرنے لگا تو اس نے اپنے بیٹے کو بلایا اور کہا کہ دیکھو، ساری زندگی لوگ مجھ پر لعن طعن ہی کرتے رہے ہیں۔ کچھ ایسا کرو کہ میرے مرنے کے بعد وہ میری تعریف کیا کریں۔ بیٹا بہت سعادت مند تھا۔ اس نے باپ کو یقین دلایا کہ وہ ایسا کچھ کرے گا کہ سارا گاوں اس کے ابے کے قصیدے پڑھنے لگ جائے گا۔ کفن چور فوت ہوگیا۔ اور اس کے بیٹے نے واقعی کچھ ایسا کیا کہ لوگ اس کے ابے کی تعریفیں کرنے لگے۔ اب بتاؤ، اس کے بیٹے نے کیا کیا ہوگا؟
سیکرٹری: اس نے جی لنگر وغیرہ کھلائے ہوں گے۔ نذر نیاز کیا ہوگا۔ درباروں پر دعائیں کرائی ہوں گی؟
چیئرمین: یار تم بالکل ہی کھوتے ہو۔ ان سب پر پتہ ہے کتنا خرچہ آتا؟ اور کام پھر بھی نہیں ہونا تھا۔ کفن چور کا بیٹا تمہاری طرح کوڑھ مغز ہوتا تو سارے پیسے بھی برباد کرتا اور کام بھی نہ ہوتا۔ اس نے عقل استعمال کی۔ خرچہ کرنے کی بجائے چار پیسے بھی کمائے اور کام بھی ہو گیا۔
سیکرٹری: سر جی، ایسا کیسے ممکن ہے؟
چیئرمین: دماغ استعمال کریں تو سب ممکن ہے۔ اس نے بھی کفن چوری جاری رکھی۔ اور اپنے باپ سے دگنی کفن چوری کی۔ ارد گرد کے علاقوں کا کوئی قبرستان اس سے نہ بچا۔ یہ حال دیکھ کر لوگ اس کے باپ کو یاد کرنے لگے کہ وہ بندہ بہت اچھا اور نیک تھا۔ کفن تو چراتا تھا لیکن مردہ واپس دفن کر دیتا تھا۔ اپنے بیٹے کی طرح کفن چرا کر مردہ  قبر سے باہر جانوروں کے کھانے کے لیے نہیں پھینک دیتا تھا۔ کچھ تو اسے جنتی بھی قرار دینے لگے۔ ہماری حکمت عملی بھی کچھ ایسی ہی ہوگی۔ لوگ ہمارا دور یاد کر کر کے آہیں بھرا کریں گے۔
سیکرٹری: سائیں ہم کیا کریں گے؟
چیئرمین: کچھ ایسا کرو کہ نگران حکومت کے دور میں یہ بجلی ہمارے دور سے دگنا جایا کرے۔ پھر ہمارے امیدوار اچھل اچھل کر دعوے کر سکیں گے کہ ہم نے بین الاقوامی اداروں کے بھرپور دباؤ کے باوجود اپنے عوام کو بساط سے بڑھ کر بجلی دی اور دباوؑ کو خاطر میں نہ لائے۔ ہم نہ ہوئے تو پھر دن میں دو چار گھنٹے ہی بجلی آیا کرے گی، اگر آئی تو۔
سیکرٹری: واہ واہ چیئرمین صاحب۔ کیا اچھوتی حکمت عملی ہے۔ میں کچھ کرتا ہوں۔

ایک گھنٹے کے بعد سیکرٹری واپس آتا ہے۔

سیکرٹری: سائیں سب نے نظریں پھیر لی ہیں۔ طوطا چشم نکلے ہیں سارے۔ نگران وزیر پانی بجلی کچھ نہیں سن رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ وقت بہت کم ہے۔ حکومت کے کچھ دن ہی باقی رہ گئے ہیں۔ کچھ کرنے دو۔ چیئرمین واپڈا نے بھی اب رائیونڈ کی طرف دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ پہچانتا ہی نہیں ہے۔ کام نہیں ہو سکتا۔
چیئرمین: تم کھوتے رہو گے۔ وزیر بجلی یا چیئرمین واپڈا کے پاس کیا لینے گئے تھے۔ کام کرنے کی تمہیں تمیز ہی نہیں ہے۔ اپنے ایوان صدر کے واپڈا لائن مین کو بلاو۔ کیا نام ہے اس کا؟
سیکرٹری: فضل ربی سائیں۔
چیئرمین: جاؤ فوراً بلاؤ اسے۔

لائن میں آتا ہے اور سلام کرتا ہے۔

چیئرمین: آئیے فضل ربی صاحب۔ بال بچے سب ٹھیک ہیں؟ گھر میں سب خیریت ہے؟ اپنی فیکٹری سے کچھ رقم آئی تھی غریبوں میں تقسیم کے لیے۔ فضل صاحب، بخدا ذہن میں سب سے پہلے آپ کا ہی نام آیا کہ آپ سے بڑھ کر کس کا حق ہو سکتا ہے اس پر۔ سارے ملک میں بجلی جاتی ہے۔ پر یہاں ایک سیکنڈ کے لیے بھی اندھیرا نہیں ہوتا۔ یہ لفافہ رکھیں۔
لائن مین لفافہ لیتا ہے اور کہتا ہے: سائیں آپ کی غریب پروری کی وجہ سے ہی اپنی روزی روٹی چل رہی ہے۔ ورنہ ہم غریبوں کو کون پوچھتا ہے۔ کبھی ہمیں بھی خدمت کا موقعہ دیں۔ کوئی حکم کریں سائیں۔
چیئرمین: فضل صاحب ایک مسئلہ تو پھنسا ہوا ہے۔ لیکن خیر۔

چیئرمین صاحب اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگ جاتے ہیں۔ چہرے سے پریشانی ظاہر ہے۔

لائن مین نظریں بچا کر لفافہ کھول کر دیکھتا ہے اور پھر خوش ہو کر اسے جیب میں رکھ کر کہتا ہے: حکم سائیں۔ مسئلہ بتائیں۔ شاید بندہ کچھ کر سکے۔
چیئرمین: سیکرٹری صاحب، آپ مسئلہ بتائیں۔
سیکرٹری: مسئلہ یہ ہے کہ لوگ بہت احسان فراموش ہیں۔ سائیں نے کس کس پر کیا کیا احسان نہیں کیا ہے۔ لیکن لوگ دیکھ رہے ہیں کہ سائیں کی حکومت ختم ہو رہی ہے اور دو ہفتے میں نیا وزیر اعظم آجائے گا۔  وہ نمک حرام بجلی کے مسئلے پر سائیں کی بات نہیں مان رہے ہیں اور پریشان کیا ہوا ہے۔
لائن مین: سائیں بجلی کا کیا مسئلہ ہے؟ حکم کریں سائیں۔ اپنی بھی کچھ سلام دعا ہے۔ لوگ عزت کرتے ہیں۔ ممکن ہے کچھ خدمت کر سکوں۔
سیکرٹری: سائیں چاہتے ہیں کہ ملک میں بیس گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہو تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ سائیں کی حکومت میں وہ کتنے آرام میں تھے۔
لائن مین: سائیں میں کچھ کرتا ہوں۔ آپ فکر نہ کریں۔ اب اجازت دیں۔ دیکھتا ہوں کہ مسئلے کو کہاں سے پکڑنا ہے۔

لائن مین سلام کر کے رخصت ہوتا ہے۔ چیئرمین صاحب سیکرٹری کو بھی رخصت ہونے کا اشارہ کرتے ہیں اور کسی سوچ میں گم ہو جاتے ہیں۔

رات ساڑھے دس بجے سیکرٹری واپس آتا ہے۔ اس کے چہرے پر جوش کے آثار ہیں۔

سیکرٹری: سائیں سارے ملک میں ہا ہا کار مچی ہوئی ہے۔ بڑے شہروں میں ہر پانچ گھنٹے کے بعد ایک گھنٹہ بجلی آرہی ہے۔ ہر کام رک گیا ہے۔ لوگ پانی تک کو ترس گئے ہیں۔ ہر چینل اسی مسئلے کو لے کر بیٹھا ہوا ہے۔ لوگ جلسے جلوس نکال رہے ہیں۔
چیئرمین: گڈ۔ اتنی سی بات تھی جو تم کر نہیں سک رہے تھے۔ اس لائن مین کو ابھی کھانے پر بلاؤ۔ کیا نام تھا اس لکڑ کا؟
سیکرٹری: فضل ربی سائیں۔ ابھی بلاتا ہوں۔

لائن مین آتا ہے۔

چیئرمین: آئیں آئیں بھائی فضل۔ آپ نے تو کمال کر دیا ہے۔ آپ کو دیکھ کر ڈھارس ہوئی ہے کہ ابھی نمک حلال اور وفادار باقی ہیں جہاں میں۔ کھانے کی میز پر چلتے ہیں۔ ساتھ ساتھ باتیں بھی ہوتی رہیں گی۔
لائن مین: سائیں آپ کا تابعدار ہوں۔

کھانے کی میز پر سب بیٹھتے ہیں۔ چیئرمین صاحب اپنے ہاتھوں سے لائن مین کی پلیٹ میں اصرار کر کر کے کھانا ڈالتے ہیں۔

سیکرٹری: آپ نے تو کمال کر دیا فضل صاحب۔ کیسے کیا یہ سب کچھ؟
لائن مین: سائیں بس اللہ نے عزت دی ہے۔ لوگ بات نہیں ٹالتے۔ عزت رکھ لیتے ہیں۔ سینٹرل کنٹرول روم کے ایک جونئیر کلرک سے سلام دعا ہے۔ بہت خیال کرتا ہے آپ کے خادم کا۔ چیئرمین صاحب نے غریبوں کے لیے جو دیا تھا، اس میں سے کچھ اپنی ضرورت کے لیے رکھ کر باقی اس کو دے دیا۔ ساتھ بتا بھی دیا کہ چیئرمین صاحب نے دیا ہے اور باتوں باتوں میں ان کی پریشانی کا بھی ذکر کر دیا۔ اس نے اپنی ضرورت کا رکھ کر باقی اپنے افسران کو دے دیا۔ وہ سب پہلے ہی اپنی پریشانی میں پھنسے ہوئے تھے۔ آج کل تنخواہ ٹکے کی ہوتی ہے اور خرچہ روپے کا۔ ہر ایک زندگی سے تنگ ہے۔ وہ بھی چیئرمین صاحب کی پریشانی کو دیکھ کر غم سے مزید دلگرفتہ ہو گئے۔ اپنا ہی غم کم تھا جو یہ بھی سننا پڑا۔ کسی کو ہوش ہی نہیں رہا کہ بجلی کو آف کرنے کے بعد آن بھی کرنا ہے۔ سب بیٹھے بس افسوس ہی کرتے رہے کہ کیسا زمانہ آگیا ہے۔ لوگ حق نمک ہی نہیں ادا کرتے۔ اب غمگین بندہ کیا ڈیوٹی کرے گا اور اس کا دماغ کیا کام کرے گا۔ شکر ہے کہ چیئرمین صاحب کو اتنے رحم دل لوگوں کی ہمدردی حاصل ہے۔

چئیرمین: فضل صاحب، یہ سب مولا کا کرم ہے۔ ابھی دوسری فیکٹری سے بھی غریبوں کے لیے رقم آئی ہے۔ ان لوگوں کی پریشانی کا سن کر بہت افسوس ہوا۔ آپ ان کی مزید مدد کریں۔ ان کی پریشانیاں دور کرنے کا وسیلہ آپ ہی بنے ہیں۔ اور ان کی محبت اور وفاداری ہماری پریشانی دور کرتی ہے۔ یہ لیں، یہ مرغا اور لیں۔ آپ بہت تکلف کرتے ہیں۔ ہماری حکومت میں مرغوں کی کمی نہیں ہے۔ اور لیں۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.