کہانی نانی کیتلی اور کنور اودے بھان کی

ایک محترمہ کا ایک اڑتا خاکہ، جن کا دل جوان ہے، گو کہ عمر اس دل جواں کا ساتھ دینے سے قاصر ہے۔

kettle-steam-cartoon-illustration-37614833[urdu size=”20″]
ماں باپ کا دیا نام تو ماہ و سال کی دھول نے چھپا لیا، لیکن جب وہ ہمیں ملیں تو جگت نانی تھیں۔ ہر بچہ بوڑھا انہیں نانی کیتلی کے نام سے ہی پکارتا تھا۔ شروع شروع میں ان سے نیاز حاصل ہوئے تو ہرگز اندازہ نہیں ہوا کہ اتنی عمر رسیدہ ہوں گی۔ اپنے پروفائل پر بائیس سال پرانی تصویر لگاتی تھیں اور باتیں اس سے بھی آدھی عمر کی ننھی منی بچیوں جیسی کرتی تھیں۔ پھر رفتہ رفتہ معلوم ہوا کہ سال میں ایک آدھ بار عقل کی بات بھی کر سکتی ہیں۔

ورنہ ہمیشہ وہی عشق عاشقی کے قصے۔ ہر ایک کو اپنی چاہ میں دیوانہ سمجھنا۔ دوپٹے رنگوانے ، سوٹ سلوانے، مہندی سجانے، چونا لگوانے کی باتیں۔ کسی وجہ سے افسانہ نگار مشہور ہو گئی تھیں اور شاعروں ادیبوں کا حال تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ ان کی محبوبہ بننے کا معیار نہایت ہی سخت ہے۔ ہر ایری غیری پر غزل نہیں کہتے اور افسانہ نہیں لکھتے یہ اللہ کے بندے۔ پہلے ہی کڑی شرط لگا دیتے ہیں کہ شکل چاہے جسی ہو، وزن چاہے جتنا ہو، عمر بے شک سو سال ہو، لیکن نبض چلتی ہونی چاہیے ورنہ محبوبہ کے درجے پر فائض نہیں کریں گے۔ شاید انہیں حلقوں میں بتائے ہوئے ماہ و سال نے کبھی ان کو احساس ہی نہیں دلایا کہ اب چاند ڈوبنے کا وقت ہے۔

بلا کی خوش گفتار ہیں۔ کہانیاں سنانے پر آئیں تو سناتی ہی رہتی ہیں اور رکتی نہیں۔ ایک دن بتانے لگیں کہ ایک بلا انہوں نے پال لیا تھا۔ گھر والے لڑ پڑے کہ یہ بلا گھر میں نہیں رہے گا۔ وہ بھی بلا کی ضدی نکلیں، کہنے لگیں کہ جب تک میں اس گھر میں ہوں، یہ بلا بھی یہیں رہے گا۔ اگلے ہی ہفتے ان کی شادی ہو گئی۔ چٹ منگنی پٹ بیاہ ہوا۔ بلکہ منگنی کہاں، سیدھی شگن کی مٹھائی کھلائی گئی اور ابھی منہ میٹھا ہی تھا کہ نکاح کے لڈو بھی کھانے پڑ گئے۔ میاں کی ماشا اللہ برتنوں کی ایک بڑی دکان تھی اور غلے پر بیٹھنے کی وجہ سے وہ کنور اودے بھان کے نام سے جانے جاتے تھے۔ مشہور تھا کہ سارے بازار میں اگر نوٹ کا چُھٹا نہ مل رہا ہو، تو بے کھٹکے کنور بھیا کی دکان پر چلے جاؤ، وہاں سے ضرور بھان ملے گا۔ اسی سبب اس بازار میں بہت عزت کمائی ہے۔ اودے بھان اودے بھان کی آوازوں سے بازار گونجتا ہے۔

ایک دن کہنے لگیں کہ پتہ ہے کیوں میرا نام کیتلی پڑا؟ ہم کچھ سٹپٹائے کہ کہیں یہ نہ کہہ دیں کہ تم میری ذات میں دلچسپی نہیں لیتے ہو، بہت کتراتے ہو، ابھی تک یہی نہیں پتہ ہے کہ میں نانی کیتلی کیوں کہلاتی ہوں۔ ذہن پر خوب زور دے کر بھی کچھ یاد نہ آیا تو ناچار ان کی صورت پر غور کر کے بولے انگریزی محاورہ ہے کہ دیگچی کیتلی کو کالا کہتی ہے، ممکن ہے کہ آپ کی کسی نند سے چشمک چل گئی ہو اور اس نے بھانڈ ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے آپ کو کیتلی بنا ڈالا ہو۔ حالانکہ اب تو میک اپ بھِی کمال کے آ گئے ہیں۔ اچھِی فاونڈیشن لگا لیں تو کوئی آپ کو کیتلی نہیں کہے گا۔

کہنے لگیں کہ نہیں، ایسی بات نہیں ہے۔ تمہیں تو پتہ ہی ہے کہ میرا دل نہایت حساس ہے۔ شہر میں بلا گاڑی کے نیچے آ جائے، چالیس گھر دور کے پڑوسی کی بکری مر جائے، گھر کے اوپر سے چڑیا گزر جائے اور منڈیر پر نہ بیٹھے تو میں رو رو کر برا حال کر لیتی ہوں۔ شادی کے بعد شروع شروع کے دنوں میں تو وہ بہت خیال کرتے تھے اور بہت تسلی دیتے تھے۔ لیکن دو سال بعد بھی جب چڑیا نے اپنے طور طریقے نہ بدلے تو ایک دن وہ پھٹ پڑے۔ کہنے لگے کہ یہ کیا تم ہر وقت چائے کی ابلتی کیتلی کی طرح سسکیاں لیتی رہتی ہو اور سیٹیاں بجاتی رہتی ہو۔ ہر وقت آنسو، آہیں، چیخ پکار۔ اور جب دیکھو وہی رونا دھونا۔ چائے کی ابلتی کیتلی کی ٹونٹی سے اتنی آہیں سسکیاں اور بھاپ نہیں نکلتے ہیں جتنا تمہاری آنکھوں اور ناک سے نکلتے ہیں۔ اور بخدا اپنے وزن کا بھی کچھ خیال کرو۔ سیرت کے علاوہ اب تو تمہاری فگر بھی کیتلی جیسی ہو گئی ہے۔ بخدا ہنڈیا کی ڈوئی کا اب دیگ کا کفگیر بن چکا ہے۔

وہ تو یہ کہہ کر چل دیے مگر مثل مشہور ہے کہ ہونٹوں نکلی کوٹھوں چڑھی۔ محلے بھر میں میرا نام ہی چاچی کیتلی پڑ گیا۔ پھر جب عرصہ گزرا، بچے ہوئے اور ان کے بچے ہوئے تو چاچی کی بجائے نانی کہلائی جانے لگی۔ نانی کیتلی۔ لیکن اب برا نہیں لگتا ہے۔ حالانکہ اب میں نے اپنا دل سخت کر لیا ہے، لیکن وہ بارہ بجے سے پہلے دکان سے واپس نہیں آتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ وہاں رکھی چمچماتی دیگیں زیادہ بہتر فگر والیاں اور لش پش ہیں اور وہ اتنی دکھیاریاں بھی نہیں ہیں۔

[/urdu]

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.