پانچ بندر اور منحوس سیڑھی

پانچ بندروں کی کہانی، جو اپنی روایتوں کے اسیر ہو گئے تھے۔
[urdu size=”20″]
the-monkey-game-3-728
کہتے ہیں کہ کسی ملک میں ایک نفسیات دان کے ہاتھ چند بندر آ گئے۔ اس نے پانچ بندروں کو ایک پنجرے میں بند کر دیا، اور اندر ایک اونچی سیڑھی کے اوپر چند کیلے رکھ دیے۔ بندر کچھ دیر تو حیرت سے اسے دیکھتے رہے کہ کتنا احمق شخص ہے جو ڈائننگ ٹیبل اتنی اونچی بنوا دی ہے، لیکن پھر اس کی عقل پر لاحول پڑھ کر ایک بندر نے کیلے اٹھانے کے لیے سیڑھی کے اوپر چڑھنا شروع کیا۔ نفسیات دان نے یہ دیکھتے ہی باقی چار بندروں پر ٹھنڈا برفیلا پانی انڈیل دیا اور پھر پانچویں پر بھی یخ پانی کی تیز دھار مار کر اسے گرا دیا۔ وہ بچارے ہکے بکے رہ گئے کہ یہ کیا افتاد پڑی ہے۔ پانچوں ٹھنڈ سے کانپتے رہے۔ کچھ دیر بعد اوسان بحال ہوئے اور بھوک نے ستایا تو ایک دوسرے بندر نے سیڑھی پر چڑھنے کی کوشش کی۔ پھر وہی ماجرا ہوا اور ٹھنڈے پانی کی دھار نے سب کو ٹھنڈا کر دیا۔ تیسری بار بھی یہی ہوا۔

اب بھی معاملہ سمجھ میں نہ آیا اور بندروں نے اسے قدرتی آفت سمجھ لیا کہ شاید اس ملک میں آسمان سے برف کی بجائے ٹھنڈی بارش برستی ہے۔ اب ایک چوتھے بندر نے سیڑھی کا رخ کیا۔ باقی چار میں سے ایک سیانے بندر نے اسے سیڑھی کی طرف جاتے دیکھا تو باقیوں سے بولا ‘سجنو، میری عقل میں تو یہی آتا ہے کہ سیڑھی منحوس ہے اور اسے ہاتھ لگاتے ہی ہم پر آفتیں نازل ہوتی ہیں۔ اسے روکو ورنہ سب مارے جائیں گے”۔

سب بندروں نے یہ سن کر اس کی دانش مندی پر آفرین کہی اور  سارے بندر سیڑھی کی طرف بھاگے اور اس بندر کو مارتے پیٹتے واپس لے آئے۔ اب جو بھی بندر کیلوں کے لالچ میں سیڑھی پر چڑھنے کی کوشش کرتا، باقی بندر اسے مار پیٹ کر راہ راست پر لے آتے۔ نفسیات دان نے یہ دیکھ کر ایک بندر کو پنچرے سے نکال کر ایک نیا بندر پنجرے میں ڈال دیا۔ نئے بندر نے دیکھا کہ سارے بندر ایک کونے میں دبکے ہوئے ہیں، اور سیڑھی کے اوپر بہترین کیلے رکھے ہیں۔ اس نے سوچا کہ یہ سارے مہاشے مہمان نوازی کی وجہ سے مجھ پردیسی کے لیے کیلے رکھ کر انتظار کر رہے ہیں کہ میں کھانا شروع کروں تو یہ بھی شروع ہو جائیں گے۔ سو وہ سیڑھی کی طرف بڑھا اور باقی چاروں پرانے بندر اس پر جھپٹ پڑے اور مار پیٹ کر اسے بھی راہ راست پر لے آئے۔

نفسیات دان اسی طرح ایک ایک بندر بدلتا رہا اور نئے بندر اسی طرح سیدھے ہوتے رہے۔ آخر میں پانچوں پرانے بندر بدل گئے اور پنجرے میں چار ایسے بندر رہ گئے جن میں سے کسی پر برفیلا پانی نہیں ڈلا تھا۔ ایک نیا بندر پنجرے میں ڈالا گیا۔ وہ کیلوں کی سیڑھی کی طرف بڑھا اور سب بندر اس پر جھپٹ پڑے اور اس کے سوچنے کا انداز ٹھیک کر دیا۔ اس نے گھبرا کر پوچھا کہ کیا ہوا، مجھے کیوں مارتے ہو؟ چار بندروں کا سردار بولا “یہی ہماری روایت ہے، یہی ہماری پرم پرا ہے، یہی پرکھوں نے سکھایا ہے، کہ سیڑھی منحوس ہے، جو اس کی طرف بڑھے، اسے مار مار کر سیدھا کر دو”۔

[/urdu]

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.