کراچی کا پانچواں سوار

Don-Quixote-Windmillکراچی کے حالیہ الیکشن کے تناظر میں وہاں موجود ایک جماعت کا تذکرہ، جو کہ مصر ہے کہ وہ بھی پانچ سواروں میں شامل ہے۔

کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں ایک گاؤں میں ایک کمہار رہتا تھا۔ کمہار میاں کا بزنس اچھا چلتا تھا۔ اپنا گدھا تھا، اپنا چاک تھا، اپنی دکان تھی ، لیکن انہیں بس یہ غم کھائے جاتا تھا کہ ان کی گاؤں میں کوئی عزت نہیں کرتا ہے۔ کمہار میاں نہایت صالح اور نیک شخص تھے لیکن  دن رات وہ یہی سوچتے رہتے تھے کہ کب وہ وقت آئے گا جب لوگ اس کی سواری کو آتے دیکھ کر دور سے اشارے کر کر کے ایک دوسرے کو بتایا کریں گے کہ اعلٰی حضرت کمہار صاحب اپنے مرکب پر تشریف لا رہے ہیں۔

ایک دن اسی سوچ میں غلطاں و پیچاں وہ اپنے گدھے پر سوار دریا کنارے کی چکنی مٹی لینے جا رہے تھے کہ سڑک پر انہیں چار سوار نظر آئے۔ گھوڑے ان کے ایسے تھے کہ ان پر سے نظر نہ ہٹے۔ کپڑے دھول مٹی میں اٹے ہونے کے باوجود اپنی شان دکھا رہے تھے۔ تلواریں میان میں لٹک رہی تھیں اور نیزے ہاتھوں میں چمک رہے تھے۔ کمہار میاں نے یہ دیکھ کر اپنا ڈنڈا گدھے کو رسید کیا اور ان سواروں کے قریب پہنچ کر بولے “حضور آپ کون ہیں اور کدھر کا قصد ہے؟”۔

ایک سوار بولا “رہنے والے تو ہم دہلی کے ہیں لیکن اب دکن کے نواب کی ملازمت کے لیے جا رہے ہیں۔ سنا ہے کہ ان سے بڑھ کر شاہسواروں کی قدر کرنے والا کوئی اور نہیں ہے اور ان کے سپاہیوں کی خوب عزت ہوتی ہے”۔

کمہار میاں نے یہ سن کر فوراً ان سے درخواست کی کہ وہ بھی ان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں اور راستے میں ان کی خدمت کریں گے، بس ان کو دکن کے نواب کی سپاہ میں شامل ہونے کا موقع چاہیے۔ وہاں پہلی پوزیشن تو ظاہر ہے کہ ان سواروں کی ہو گی، لیکن دوسری پوزیشن کمہار میاں کو اپنی نظر آ رہی تھی۔

شاہسوار ان کی درخواست سن کر مسکرائے اور ان کو ساتھ شامل ہونے کی اجازت دے دی۔ اب پانچوں چل پڑے۔ راستے میں جو بچہ بوڑھا جوان بھی نظر آتا، کمہار میاں اپنا ڈنڈا نیزے کی مانند لہراتے اور چیخ کر اسے بتاتے “میاں ہم بھی ہیں پانچ سواروں میں۔ دوسری پوزیشن ہماری پکی ہے۔ تمہیں تیسری ہی ملے گی”۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.