موم بتی مافیا اور پیرس حملے

بہت سے لوگ حیرت ظاہر کر رہے ہیں کہ پیرس میں ڈیڑھ دو سو لوگوں کے مرنے پر اتنا شور کیوں مچا ہوا ہے جبکہ اس سے ہفت بھر پہلے ہی بیروت میں بھِی خودکش دھماکوں میں کئی درجن لوگ مارے گئے تھے اور اس پر میڈیا کا بس معمول کا نظرانداز کرنے کا ری ایکشن تھا۔ اسی طرح چند ہفتے پہلے پاکستان میں زلزلے میں کئی سو لوگ ہلاک ہوئے تھے لیکن اس واقعے کو بین الاقوامی میڈیا کیا، قومی میڈیا نے بھی نظرانداز کر دیا اور سارا زور ریحام اور عمران خان کی طلاق پر لگائے رکھا۔

کیا وجہ ہے کہ ایک طرف سینکڑوں لوگ مارے جاتے ہیں اور کوئی خبر نہیں بنتی ہے، اور دوسری طرف امریکہ میں ایک کالا بھی پولیس کے ہاتھوں مارا جائے تو دنیا اس پر فوکس کیے ہوتی ہے؟

فرق بس ایک ہے، جان کی حرمت کا۔ وہاں انسان کیا، کسی جانور کی جان بھی کسی حادثے میں چلی جائے تو لوگ صدمے میں آ جاتے ہیں۔ درد دل رکھنے والے کسی حادثے کی صورت میں بھی انسانی جان جانے کی صورت میں وہاں پھول رکھتے ہیں اور شمعیں جلاتے ہیں۔ اور نظریاتی اختلاف کی بنا پر کسی کی جان لینا تو ان کے لیے بہت بڑی اور حیرت انگیز حد تک المناک خبر ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ وہاں پولیس اگر کسی کو مار ڈالے تو شہر بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑتے ہیں۔ اور یہاں پولیس مقابلے معمول کی بات ٹھہرے ہیں جو اخبار کے کسی اندرونی صفحے میں چند لائنوں میں سمیٹ دیے جاتے ہیں۔ بلکہ لوگ خواہش کرتے ہیں کہ پولیس مقابلے میں انسان پار کر دیے جائیں تاکہ مجرم دہشت زدہ ہوں اور معاشرے میں امن آئے۔ وہاں اس کام کے لیے قانون کی عمل داری کی دہشت استعمال کرنے کا رواج ہے۔

پاکستان میں ابھی کل ہی ریل کے حادثے میں بیس لوگ مارے گئے ہیں اور زخمیوں کی تعداد ایک سو سے زیادہ ہے۔ اس پر کوئی آواز اٹھی ہے؟ جانیں جانے پر کہیں لوگ نکلے ہیں؟ کسی نے موم بتیاں جلائی ہیں؟ لیکن کسی کی یاد میں چراغ جلانا تو اب کفر اور مغرب زدگی کی نشانی ٹھہرا ہے، حالانکہ خوشی میں گھروں پر اور غمی میں قبروں پر چراغ جلانا تو صدیوں سے ہماری روایت رہی ہے۔ اور اب یہ خوشی غمی کا طریقہ ”موم بتی مافیا“ کا نشان بن گیا ہے جس سے سارے نیک لوگ نفرت کرتے ہیں۔ ادھر ہماری یہ بے حسی ہے اور ادھر کوریا میں ایک بحری جہاز کے الٹنے سے چند سو افراد کی ہلاکت ہوتی ہے، تو بدانتظامی کی ذمہ داری لیتے ہوئے ملک کا سربراہ حکومت چھوڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

PARIS, FRANCE - NOVEMBER 16:  People gather to observe a minute silence outside the Le Carillon restaurant
PARIS, FRANCE – NOVEMBER 16: People gather to observe a minute silence outside the Le Carillon restaurant

جب انسانی جان کی حرمت نہ رہے، تو علاقے کے لوگ بھی انسانوں کی موت کو خبر نہیں سمجھتے ہیں۔ مرنے والے، افراد کی بجائے بے نام اعداد و شمار بن جاتے ہیں۔ کراچی میں بیس افراد روز ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوتے ہیں، چار بوری بند لاشیں ملتی ہیں، وزیرستان میں پچاس افراد خودکش دھماکے میں ہلاک ہو جاتے ہیں، بلوچستان میں دس لاشیں ملتی ہیں، لاہور میں چار افراد ڈکیتی میں مارے جاتے ہیں اور دس ٹریفک حادثات میں، اور یہ سب اعداد و شمار اخبار کے اندرونی صفحات میں جگہ پاتے ہیں۔ شورش زدہ علاقوں میں اموات صرف انسانوں کی نہیں ہوتی ہیں، احساسات کی بھی ہوتی ہیں۔

جہاں جان کی حرمت ہوتی ہے، وہاں جان کا جانا خبر ٹھہرتی ہے۔ اور جہاں جان کی حرمت نہیں ہوتی ہے، وہاں آرمی پبلک سکول کے بچوں کی لاشوں کو دیکھ کر اور پھر اپنے بچوں پر نظر ڈال کر اپنے جیسے والدین کے غم میں شرکت کے لیے دیے جلا کر باہر نکلنے والے افراد کو ”موم بتی مافیا“کہہ کر ان کو امریکہ سے ڈالر لینے والا غلام قرار دیا جاتا ہے۔

بس یہی فرق ہے پشاور اور پیرس میں۔ بس یہی فرق ہے بیروت، لاہور، کراچی، بغداد، بصرہ، کوبانی، سروچ اور میڈرڈ میں۔

تو وہ بد خو کہ تحیر کو تماشا جانے
غم وہ افسانہ کہ آشفتہ بیانی مانگے

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.