پیرس تا پشاور

paris terror 2

پیرس میں جس طرح تھیٹر پر حملہ کر کے لوگوں کو یرغمال بنانے، اور پھر چن چن کر مارنے پر فرانس کے جو جنگی جرائم گنوائے جا رہے ہیں اور ان کی بنا پر اس دہشتگردی کو جائز قرار دیا جا رہا ہے، کیا یہ حمایتی لوگ ان دلائل کو ایک مہینے بعد پشاور آرمی سکول کے معاملے پر بھی چسپاں کریں گے جہاں ہمارے بچوں کو اسی طرح یرغمال بنا کر چن چن کر مارا گیا تھا؟

یا پھر سولہ دسمبر نزدیک ہونے کی وجہ سے، پیرس کے نام پر پشاور کو سنایا جا رہا ہے؟

دہشتگردی قابل مذمت ہے۔ خواہ ہمارے ملک میں دہشت گردی کر کے ستر ہزار افراد کو مار دیا جائے، یا کسی دوسرے ملک میں ایسا کیا جائے۔ خواہ خودکش حملے سے عوام کر مارا جائے، یا پھر شہری ٹارگیٹ پر بمباری کر کے ایسا کیا جائے، ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

ایک طرف سے صدا بلند ہوتی ہے کہ یہ مکافات عمل ہے۔ فضا سے ھزاروں ٹن بارود برسا کر بستیوں کی بستیاں ملیا میٹ کردینے والوں کو نتیجہ تو بھگتنا ہو گا۔

حضور یہی دلیل پشاور کے معاملے میں طالبان بھی دیتے ہیں۔ وہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے بچے امریکی ڈرون حملوں میں مارے گئے تھے اس لیے ہم نے پاکستانی بچوں کو مار دیا۔ بس اب پشاور کے سانحے کی تصاویر دیکھ لیں اور دل پر ہاتھ رکھ کر یہ سوچ لیں کہ آپ کہاں کھڑے ہیں۔ آپ ابھی یہ سوچیں گے یا خدانخواستہ کل آپ کے بچے کے سکول پر بھی حملہ ہو گیا، یا آپ کے اہل خاندان کو اسی طرح کسی جگہ یرغمال بنا کر قتل کیا گیا، تو پھر آپ یہ بات سوچیں گے؟

جو کہتے ہیں کہ داعش اور القاعدہ ان مغربی ممالک ہی کی پیداوار ہے، تو پھر وہ یہ بھی یاد کر لیں کہ داعش کا سب سے بڑا سپورٹر سعودی عرب تھا اور اس معاملے میں اس نے اپنی برسوں کی کوشش سے ملنے والی سلامتی کونسل کی نشست تک چھوڑی تھی، اور اب وہی داعش سعودی عرب میں بھی حملے کر رہی ہے۔

لیکن بنیادی سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا کفار اور مسلمان اخلاقی معاملے میں ایک ہی ہیں؟ ویسے تو ہم اچھل اچھل کر اپنی برتری جتاتے ہیں کہ صلیبیوں نے بیت المقدس فتح کیا تو مسلمانوں کا ایسا قتل عام کیا کہ گلیوں میں ٹخنوں تک خون بھر گیا اور جب صلاح الدین ایوبی نے اسے فتح کیا تو اس نے جان کیا صلیبیوں کو اپنا مال تک لے جانے کی اجازت دی۔ غالباً ایوبی کے زمانے میں مکافات عمل نہیں ہوتے تھے۔ یا شاید اس کی عقل میں کلام تھا جو وہ انتقام کا قائل نہیں تھا۔ یا شاید وہ ایک اسلام کو سمجھنے والا مسلمان تھا جو اس بات سے آگاہ تھا کہ خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کیا ہیں۔

صحیح احادیث سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ شب خون مارتے ہوئے کفار کے عورتیں اور بچے مارے جانے کا معاملہ پیش آیا کہ اندھیرے میں ان کی شناخت ممکن نہیں تھی، تو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بھی انہیں میں سے ہیں۔ یعنی بلا ارادہ مارنے کی صورت میں اجازت ہے۔ لیکن بعد کی احادیث میں ممانعت ملتی ہے۔ امام زہری نے کہا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرما دیا۔ احادیث مبارکہ میں واضح احکامات ہیں کہ عورتوں، بچوں، بوڑھوں، غیر حربیوں، اور خدمتگاروں کو مارنے کی متواتر اور سختی سے ممانعت فرمائی گئی ہے۔ کیا مسلمانوں کو اب اپنے نبی کے حکم کی تقلید کرنے کی بجائے، کفار کا طرز عمل محبوب ٹھہرا ہے اور اسی طرز عمل کے پیروکاروں کی وہ صفائی دیتے ہیں؟

اس پر بھی غور کریں کہ اسلام دشمنوں کے شدید احتجاج کے باوجود جرمنی اور فرانس، مشرق وسطی کے مسلمان مہاجرین کی انسانی ہمدری کی بنیاد پر یورپ آمد کے شدید حامی تھے۔ اب ان کی پوزیشن کمزور ہو گئی ہے۔ جنگ سے بھاگنے والے مسلمان مہاجرین اب کہاں جائیں گے؟ فرانس کے بارے میں یہ بات بھی ذہن میں رکھی جانی چاہیے کہ یہ یورپ کا وہ ملک ہے جس میں سب سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں۔ وہاں مسلم آبادی پچاس لاکھ کے قریب ہے۔ اب ان پر بھی، اور مغرب میں تمام مسلمانوں پر نفرت کا نیا باب کھلے گا۔ یہ حملہ، اسلامو فوبیا کے حامیوں کے ہاتھ میں ایک طاقتور ہتھیار دینے کے مترادف ہے۔

اس معاملے میں ہم اپنے استاد جناب عامر ہاشم خاکوانی صاحب کے الفاظ سے متفق ہیں کہ “پیرس والی دہشت گردی سانحہ پشاور کی طرح قابل مذمت یے۔ سوائے سفاک خارجیوں کے کوئی پیرس کی دہشت گردی کا جواز پیش نہیں کر سکتا۔ اس دہشت گردی کی غیر مشروط مذمت کرنی ہوگی”۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.