پیپل کا پوتر پیڑ

پیپل کا پوتر پیڑ۔ ایک درخت کی کہانی جس کو اپمان سے بچانے والے بہت تھے۔

jai-bhetala-legend-of-chandravarna

[urdu size=”20″]

یہ پیپل کا پیڑ پوتر ہے۔ بھگوان کا روپ ہے۔ اس کی پوجا کرو گے تو سورگ میں جاو گے۔ اور اس سنسار کے سارے دکھوں سے بھی مکتی پا جاو گے۔ پنڈت بولا اور گاوں کے بیچوں بیچ چوپال میں لگے پیڑ کے گرد چبوترہ بنا کر اس پر دھونی رما کر بیٹھ گیا۔

گاؤں والے پیڑ کے گرد اکٹھے ہو کر چڑھاوے چڑھانے لگے۔ پنڈت کے گرد چڑھاووں کا ڈھیر لگ گیا لیکن وہ آنکھیں بند کیے گیان دھیان کرتا رہا۔ کبھی کوئی ضرورت مند زیادہ آہ وزاری کرتا تو آنکھیں کھول کر اسے دیکھتا، ایک نظر چڑھاووں پر ڈالتا اور دوسری مجمعے کی تعداد پر، اور آشیر باد دے کر دوبارہ گیان دھیان کرنے لگتا۔

کچھ دن بعد پنڈت کو یہ لگا کہ لوگ کم ہونے لگے ہیں۔ اس نے سر اٹھا کر درخت پر نظر ڈالی تو منت کے نئے باندھے گئے دھاگے بھی کم لگے۔ اس کی نظریں درخت پر بیٹھے ایک گدھ پر پڑیں۔ وہ غصے سے چلا اٹھا “اپمان، بھگوان کا اپمان۔ یہ گدھ دکھن والے گاوں میں برگد کے نیچے بیٹھے ناستک بدھ بھکشو نے بھیجا ہے۔ اسے درخت سے دور رکھو۔ ورنہ گاوں پر بھگوان کا کرودھ ہو گا اور اس کا ستیاناش ہو جائے گا”۔

پورا گاوں درخت کے نیچے اکٹھا ہو گیا۔ سب ڈھول تاشے پیٹ کر گدھ کو اڑانے کی کوشش کرنے لگے۔ ایک دو جذباتی نوجوانوں نے گدھ کو پتھر مارنے یا درخت پر چڑھ کر اسے پکڑنے کی کوشش کی لیکن پنڈت نے منع کر دیا کہ مقدس پیڑ کی بے حرمتی ہو گی۔ دو تین دن بعد گدھ اڑ گیا۔ لیکن گاوں والے دوبارہ درخت کے گرد جمع ہونے لگے۔ اور پھر آہستہ آہستہ ان کی تعداد دوبارہ کم ہونے لگی۔

پنڈت نے آنکھیں کھولیں، مجمع کم ہوتے دیکھ کر چلا اٹھا “یہ کوا پیپل بھگوان پر کیوں بیٹھا ہے؟ یہ گدھ دکھن والے گاوں میں برگد کے نیچے بیٹھے ناستک بدھ بھکشو نے بھیجا ہے۔ بھگوان پیپل کا اپمان ہوا ہے۔ گاوں پر بھگوان کا کرودھ ہو گا اور اس کا ستیاناش ہو جائے گا”۔

گاؤں والے یہ نعرہ سنتے ہی جمع ہونے لگے۔ ہر طرف نعرے گونجنے لگے۔ لوگ غصے سے پبھر گئے۔ ڈھول تاشے پیٹے جانے لگے۔ کوا گھبرا کر اڑ گیا۔

کچھ دن بعد پنڈت کو یہ لگا کہ لوگ پھر کم ہونے لگے ہیں۔ اس نے سر اٹھا کر درخت پر نظر ڈالی تو منت کے نئے باندھے گئے دھاگے بھی کم لگے۔ اس کی نظریں درخت پر بیٹھے ایک کبوتر پر پڑیں۔ وہ غصے سے چلا اٹھا “اپمان، بھگوان کا اپمان۔ یہ کبوتر دکھن والے گاوں میں برگد کے نیچے بیٹھے ناستک بدھ بھکشو نے بھیجا ہے۔ اسے درخت سے دور رکھو۔ ورنہ گاوں پر بھگوان کا کرودھ ہو گا اور اس کا ستیاناش ہو جائے گا”۔

گاؤں والے یہ خبر سنتے ہی جمع ہونے لگے۔ ہر طرف نعرے گونجنے لگے۔ لوگ غصے سے پبھر گئے۔ ڈھول تاشے پیٹے جانے لگے۔ لیکن کبوتر نے گھونسلہ بنا لیا تھا اور اڑنے پر تیار نہیں تھا۔ ہفتے بھر مجمع لگا رہا لیکن کبوتر کو نہ اڑایا جا سکتا۔ آخر پنڈت نے گاوں والوں سے کہا کہ وہ یہاں ایک ہفتے تک مرن جاپ کرے گا جس کے بعد بھگوان کوئی اپائے بتائے گا جس سے یہ راکھشس کبوتر مر جائے گا۔ اس دوران گاوں والے روز آ کر چڑھاوے چڑھائیں اور ماتھے ٹیکیں۔ ہفتے بھر تک گاوں والے یہی کرتے رہے۔ آخر شنی وار کو جاپ ختم ہوا اور صبح سویرے گاوں والے درخت کے پاس پہنچے تو پنڈت کے پاس پٹاری میں ایک ناگ دیکھا۔

بھگوان خود ناگ دیوتا کے روپ میں آئے ہیں اور اس پاپی کبوتر کو نرکھ میں پہنچائیں گے۔ پنڈت نے یہ کہہ کرپٹاری درخت پر رکھ دی اور اس کا ڈھکنا ہٹا دیا۔ ناگ دیوتا پٹاری سے نکلے، پاس ہی اوپر والی ڈال پر کبوتر نظر آیا تو اس کو چٹ کر گئے۔ سارے گاوں میں جے جے کار ہو گئی اور پہلے سے کہیں زیادہ تعداد میں چڑھاوے چڑھنے لگے۔ پورب، اتر اور پچھم کے گاوں سے بھی لوگ آنے لگے۔

پھر ایک دن صبح سویرے لوگ پیپل کے پیڑ کے پاس پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ پنڈت جی کا بدن نیلا پڑ گیا ہے اور وہ بیکنٹھ چلے گئے ہیں۔ اور درخت پر اب ناگ دیوتا کا پورا قبیلہ موجود ہے۔

رفتہ رفتہ پیپل کے آس پاس اتنے ناگ ہو گئے کہ گاوں کے لوگوں کو گاوں چھوڑنا پڑ گیا اور وہ دکھن کے گاوں میں جا کر رہنے لگے اور برگد کے درخت پر منت کے دھاگے باندھنے لگے۔

[/urdu]

800px-Vijayanagar_snakestone

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.