پینشنروں کی قطاریں

پینشن پانے والوں کی لائنوں پر ایک تحریر۔ ان کا ذکر جن سے ملاقات مسیحا و خضر سے ملاقات سے بہتر بیان کی گئی ہے۔

[urdu size=”20″]

pensioners

پینشنروں کی ملاقات مسیحا و خضر

نیشنل بینک کے باہر ضعیف العمر پینشنروں کی لائینیں دیکھ کر کافی رحم آتا ہے کہ اس عمر میں سرکار نے انہیں کس مشکل میں ڈالا ہوا ہے۔ کوئی طریقہ ایسا ہونا چاہیے کہ خود بخود پینشن ان کے اکاونٹ میں جمع ہو جائے اور وہ آرام سے اسے نکال سکیں۔

اب تو موبائل بینکنگ کے ذریعے بھی ان کو آسانی سے محلے کی دکان سے یہ پیسے مل سکتے ہیں۔ جس طرح قدرتی آفات کے متاثرین کو کارڈ دیے جاتے ہیں، ویسے کارڈ بھی دیے جا سکتے ہیں۔ لیکن اس میں فراڈ کو کنٹرول کرنا بھی ایک مسئلہ ہو گا۔

اس معاملے پر ایک مرتبہ نیشنل بینک کے ایک مینیجر سے بات چیت ہو رہی تھی۔ موصوف نے بتایا کہ انہوں نے ایک کافی زیادہ پڑھے لکھے بزرگ پینشنر کو مشورہ دیا کہ آپ اتنی دور ہماری برانچ میں آتے ہیں، آپ کے نزدیک فلاں برانچ پڑتی ہے جو کہ آپ کے گھر کے بالکل ساتھ ہی ہے۔ آپ کہیں تو آپ کا اکاونٹ ادھر ٹرانسفر کر دوں، آپ اس بیس میل کے سفر سے بچ جائیں گے۔

وہ بزرگ اس حد تک ناراض ہوئے کہ ان مینیجر صاحب کی موقع پر قرار واقعی گوشمالی کرنے کے بعد ان کے بڑوں کو بھی شکایت کی کہ یہ مینیجر چاہتا ہی نہیں ہے کہ اس کی برانچ میں میرا اکاونٹ ہو، اور یہ مجھے یہاں سے جانے پر مجبور کر رہا ہے۔ یہ پینشنر دشمن شخص ہے جسے بڑے بوڑھوں کا ذرا بھی احساس نہیں ہے۔

پھر وہ نیک دل مینیجر صاحب اپنے اوپر والوں کو ایکسپلے نیشن دیتے رہے کہ بندے کی نیت نیکی کی تھی، بدی کی نہیں۔ اس کے بعد انہیں کان ہوئے اور کسی پینشنر سے آئندہ انہوں نے ایسی ہمدردی نہیں کی، ہاں ان کے بیٹھنے وغیرہ کے لیے انتظامات بہتر کرنے پر توجہ دیتے رہے۔

ان سے معلوم ہوا کہ ان کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ یہ لائنیں، ان بہت سے بوڑھوں کے لیے وہ واحد سوشل ایکٹیوٹی ہے جس کا وہ مہینے بھر سے انتظار کرتے ہیں کہ اپنے ہمجولیوں سے مل سکیں اور گئے وقتوں کی باتیں کر سکیں۔ اور اس کا وہ مہینے بھر شدت سے انتظار کرتے ہیں۔ صبح سویرے بینک پہنچ جاتے ہیں۔ پینشن جلدی مل بھی جائے تو سہ پہر تک بیٹھے رہتے ہیں۔ اور مہینے بھر کی  فرسٹریشن نکال کر اگلے مہینے تک کے لیے جدا ہو جاتے ہیں۔ ان کے لیے تو یہی پرانے رفیق مسیحا ہیں۔

اے ذوق کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا
بہتر ہے ملاقاتِ مسیحا و خضر سے

ہمارے ہاں ماضی میں تھڑا کلچر ہوتا تھا جس میں کسی تھڑے پر محلے کے بوڑھے جوان کچھ وقت اکٹھے گزار لیتے تھے۔ وہ اب ختم ہوا۔ اب ٹی وی اور اس کے بعد موبائل نے ہر شخص کو اپنی دنیا میں مصروف کر دیا ہے۔

قبرص، ترکی اور یونان وغیرہ میں ابھی بھی قہوہ خانوں کا کلچر ہے۔ ایک دو چھوٹی سی قہوے کی پیالیاں خرید کر یہ بوڑھے لوگ اپنی شامیں وہاں اکٹھے گزار لیتے ہیں۔ کچھ شطرنج وغیرہ کھیلتے ہیں۔ اپنی باتیں سناتے ہیں، دوسروں کی باتیں سنتے ہیں، اور شام ڈھلے خوش خوش گھر واپس چلے جاتے ہیں۔

ہمارے ہاں اب ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ بس اب ان بوڑھوں کا ایسا اجتماع پینشن والے دن ہی ہوتا ہے۔ شفیق الرحمان صاحب کی کتابوں میں ماضی میں شہر میں مختلف کلبوں کا ذکر بھی ملتا ہے جہاں لوگ شام گزارنے جاتے تھے۔ بات چیت کرتے تھے، کھیلتے تھے، اور بچے بوڑھے سبھی وہاں جاتے تھے۔ یعنی معززین شہر کے لیے وقت گزارنے کا ایک طریقہ تھا۔

اب ایسے کلب آبادی کے لحاظ سے بہت کم ہیں۔ اور جو ہیں، ان کی ممبرشپ فیس ایسی ہے کہ اس کو بھرنا ہر ایک کے لیے ممکن ہی نہیں ہے۔ ایک شریف آدمی اتنے پیسوں میں ایک گھر تعمیر کر سکتا ہے جتنے کی وہ ممبرشپ ہے۔ ماضی میں ایک نمایاں ترین نام لاہور کے پاک ٹی ہاوس کا ہوا کرتا تھا جہاں پچھلی نسل کے اکابرین اکٹھے بیٹھتے تھے، اور نئی نسل کے جوان ان سے سیکھنے کا موقع پاتے تھے، اور ایک چائے کی پیالی پر شام گزر جاتی تھی۔

کیا ہی اچھا ہو اگر شہری حکومتیں ہر آبادی میں مل بیٹھنے کے لیے کمیونٹی سینٹر بنانے پر توجہ دیں۔ ابھی تو بس نیشنل بینک کی لائن ہے یا نزدیکی مسجد ہے جہاں یہ بزرگ جا سکتے ہیں۔ ان بزرگوں کو جیتے جی تو نہ ماریں حضور۔

[/urdu]

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.