پورس کا گھوڑا

horse_war_between_elephant_horse_rider

پنجاب سے تعلق ہے۔ خود کو پنجابی قوم پرست کہتے ہیں۔ لیکن ان کو پنجاب کے مشہور راجہ پورس کا ہاتھی کہنا قطعی غلط ہو گا، کہ پورس کے ہاتھی گھبرا کر اتنی تیز رفتار سے پلٹ کر اپنی صفیں نہیں الٹتے تھے جتنی تیز رفتار سے یہ اپنا موقف دینے کے بعد مخالفین کی جمعیت دیکھ کر پلٹتے ہیں اور اپنی ہی صفوں کو روند کر میدان جنگ سے فرار ہوتے ہیں۔

عالم آدمی ہیں۔ دنیا بھر کا ادب پڑھ ڈالا ہے۔ پاکستان سے باہر کے مشاہیر عالم کے کتابی بھائی ہیں تو پاکستانی مشاہرین میں سے اکثر سے ان کا ذاتی تعلق رہا ہے جو کہ متعلقہ مشہور شخصیت کی تعزیتی پوسٹ میں یہ ظاہر کرتے ہیں۔ اپنے ممدوح کی زندگی میں نام و نمود سے نفرت کی وجہ سے ہرگز بھی یہ انتہائی قریبی تعلق ظاہر کرنے سے احتراز کرتے ہیں۔

طبیعت میں بلا کا تلون ہے۔ کبھی فیصلہ کرتے ہیں کہ پنجابی کے ساتھ بہت زیادتی ہو رہی ہے۔ کہتے ہیں کہ پنجاب کے نمایاں سپوتوں اقبال، فیض، امام دین گجراتی وغیرہ نے اردو کی بجائے اپنی مادری زبان میں لکھا ہوتا تو آج پنجابی کا ادبی مقام نہایت بلند ہوتا۔ لیکن میں ان کی طرح نہیں کروں گا۔ میں آئندہ صرف پنجابی میں ہی لکھا پڑھا کروں گا۔ اور واقعی وہ ایسا کرتے بھی ہیں۔ کبھی کبھی تو پورے چوبیس گھنٹے تک اپنے عزم صمیم پر قائم رہتے ہیں اور اگلے دن ہی دوبارہ سے صرف اور صرف اردو میں کچھ لکھتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ میں آئندہ فیس بک کا فلاں گروپ سنبھال لوں گا۔ اس کی انتظامیہ ایک طرف ہو جائے، میں اس تن مردہ میں نئی زندگی پھونک دوں گا۔ ان کے احترام میں انتظامیہ ایک طرف ہو جاتی ہے تو یہ سارا راج پاٹ چھوڑ کر خود دوسری طرف سے نکل لیتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ میں ایک کتاب لکھنے لگا ہوں، اور بس اب اور کچھ نہیں کروں گا جب تک کہ یہ کتاب مکمل نہ ہو جائے۔ اور اگلے گھنٹے ہی کچھ اور کرنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ غرض کہ رنگا رنگ کے مشاغل میں الجھے رہتے ہیں۔

فیس بک پر شروع شروع میں ہر روز کم از کم ایک نیا گروپ بنا دیتے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ ہر موضوع کے لیے ایک الگ گروپ ہو۔ کبھی کبھی یہ خاکسار سوچتا تھا کہ وہ ضرور سو کمروں کے قصر عالیشان میں رہتے ہوں گے۔ ایک کمرہ سونے کے لیے۔ دوسرا جاگنے کے لیے، تیسرا کھانے کے لیے، چوتھا کھانسنے کے لیے، پانچواں چھینکنے کے لیے، علی ہذا القیاس۔ ان کی مصروفیت ہی یہی ہوتی تھی کہ گروپ بنا کر یا دریافت کر کے اپنے دوستوں کو ان میں ٹھونستے رہتے تھے۔ الحمدللہ اب ان کی ضروریات کچھ کم ہوتی نظر آ رہی ہیں اور اب کچھ سکون ہے۔

horse_sketch_3___horse__s_head_by_anitalou-d4lvauz

لکھنے پڑھنے کے شوقین ہیں۔ تحریر و تحقیق کے بادشاہ سمجھے جاتے ہیں۔ اپنے تحقیقی مضامین اکثر پوسٹ کرتے رہتے ہیں۔ ان کے بدخواہ  کردارکشی کی نیت سے ناحق  الزام لگاتے ہیں کہ یہ کاپی پیسٹ کیے گئے ہیں، لیکن یہ تنگ ذہن لوگ یہ نہیں جانتے کہ علم کسی کی میراث نہیں ہوتا ہے۔ جہاں سے بھی ملے، لے کر آگے پھیلانا چاہیے، خواہ ایسا اپنے نام سے ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

پنجابی قوم پرست ہیں، اور اس وقت تک رہتے ہیں جب تک سرائیکی قوم پرستوں یا اردو زبان کے حامیوں سے واسطہ نہ پڑ جائے۔ جیسے ہی ان کی مخالفت میں کوئی صدا بلند ہو تو سر بلند کر کے فریق مخالف پر نظر تحقیر ڈالتے ہیں، ایک مسکراہٹ ان کے لبوں پر آتی ہے، اور پھر سرپٹ بھاگ کر غائب ہو جاتے ہیں اور کچھ عرصے بعد ایک نئے مقصد یا نظریے کے ساتھ نمودار ہوتے ہیں۔ ان کی اسی دوڑ بھاگ کی عادت کو دیکھ کر ایک دن خاکسار نے کچھ یوں سارا منظر بیان کیا: یہ صاحب مستقل بنیادوں پر اپنے آپ کو ریس کا وہ گھوڑا ثابت کرنے کی نہایت کامیاب کوشش کرتے رہتے ہیں جو کہ فائر ہونے سے پہلے ہی بھاگ جاتا ہے، اور پھر جیسے ہی چند گز آگے پہنچتا ہے تو ریس شروع ہونے کے فائر کی آواز سن کر یہ سمجھ کر وہیں ڈھیر ہو جاتا ہے کہ فائر اس پر کیا گیا ہے اور کاری رہا ہے۔

مسلکی طور پر اپنے آپ کو صوفی بتاتے ہیں، اور وہ بھی ملامتی صوفی۔ ملامتی صوفیا بظاہر گناہوں میں آلودہ زندگی گزارتے ہیں تاکہ خلقت کے اژدھام سے محفوظ رہ کر ذکر خدا میں اپنا وقت بتا سکیں۔ لیکن لگتا ہے کہ اس سلسلے میں ان حضرت نے کوئی اونچا مقام پا لیا ہے، کیونکہ بمشکل کوئی دن ہی گزرتا ہے جب وہ کچھ عبرتناک بیان دینے کے بعد ملامت کرتی ہوئی خلقت کے اژدھام کے آگے آگے بھاگتے نظر نہ آ رہے ہوں۔ خاکسار نے دنیا کی ملامت حاصل کرنے میں اتنی کامیابی سلسلہ ملامتیہ کے کم افراد کو ہی حاصل کرتے دیکھا ہے۔ ملامت پانے کے طرائق میں عجب جدت و اختراع کرتے رہتے ہیں۔ ملامت پانے کی مہم میں ان کا سب سے دلچسپ مقام وہ دیکھنے میں آتا ہے جب وہ کٹر سلفیوں کے سامنے صوفیانہ تبلیغ کر بیٹھتے ہیں اور من کی مراد پاتے ہیں۔

گمان غالب ہے کہ پورس کے لشکر میں یہ شامل ہوتے تو آج لوگ اس جنگ کے حوالے سے پورس کے ہاتھیوں کی بجائے پورس کے گھوڑے کو ہی یاد کرتے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.