بھانڈوں کا انقلاب

Spread the love

 آئس لینڈ کے ایک عوامی انقلاب کی کہانی جسے برتن بھانڈوں کے انقلاب کا نام دیا گیا

constitutional council iceland 465466_343764132328945_1849546772_o
سنہ دو ہزار آٹھ میں دنیا بھر میں طاقت پکڑنے والے معاشی بحران نے آئس لینڈ کو بھی اپنی گرفت میں لے لیا۔ اکتوبر میں  ہوردر طورفاسون نامی ایک شخص نے اس پر کچھ کرنے کی ٹھانی۔ اس نے ایک مائیکروفون پکڑا، اور ایک سڑک پر کھڑے ہو کر لوگوں کو معاشی صورت حال پر اپنے خیالات ظاہر کرنے کے لیے کہا۔ ہر ہفتے کے دن  ہونے والا یہ احتجاج منظم ہوتا گیا، اور احتجاجیوں نے حکومت کے استعفے کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا۔

جنوری دوہزار نو تک مظاہروں نے شدت پکڑ لی اور فساد شروع ہو گیا۔  پالیمنٹ کے ارد گرد دو ہزار تک کی تعداد رکھنے والے مظاہرین کا پولیس سے ٹکراو ہونے لگا اور پولیس کی طرف سے پیپر سپرے اور آنسو گیس کا استعمال کیا جانے لگا۔  مظاہرین نے پارلیمنٹ کا اجلاس خراب کرنے کے لیے اور اپنے معاشی حالات پر احتجاج کرنے کے لیے اپنے باورچی خانوں سے برتن لا کر بجانے شروع کر دیے اور کچھ دوسرے اپنی گاڑیوں کے ہارن بجانے لگے۔  کچھ مظاہرین نے پارلیمنٹ ہاوس کے شیشے توڑ ڈالے اور کچھ نے اس پر دہی پھینکنی شروع کر دی۔ کچھ نے سنو بال کو ہتھیار بنایا اور کچھ نے سموک بم بنا کر فضا کو دھواں دھار کر دیا۔ انہی برتنوں اور کچن آئٹموں کی وجہ سے اس احتجاج کو “برتن بھانڈوں کا انقلاب” کا نام دیا گیا۔

وزیراعظم گائر ہارڈے کی کار کو انڈوں، سنو بال اور مشروبات کے ڈبوں کا نشانہ بنایا گیا۔ مظاہرین وزیراعظم کے استعفی کا مطالبہ کر رہے تھے۔   حکومتی دفاتر کو تین ہزار افراد نے گھیر لیا اور ان پر رنگ اور انڈے پھینکنے شروع کر دیے۔ پھر یہ مظاہرین پارلیمنٹ کی طرف بڑھے۔  ایک شخص پارلیمنٹ کی دیوار پر چڑھ گیا اور ایک بینر لگا دیا جس پر لکھا تھا “لاپرواہی کی وجہ سے ہونے والی غداری بھی غداری ہی ہوتی ہے”۔

SONY DSC
ہوردر طورفاسون: ایک تنہا شخص جس نے ایک حکومت گرا دی

دو دن بعد کیے جانے والے مڈ ٹرم الیکشن کے حکومتی اعلان  اور وزیر اعظم کی طرف سے کینسر کے مرض کے باعث الیکشن میں حصہ نہ لینے کے اعلان کے باوجود مظاہرے جاری رہے۔  مظاہرین فوری انتخابات کا مطالبہ کر رہے تھے۔  تین دن بعد وزیر اعظم نے جلد ہی استعفی دینے کا اعلان کر دیا۔ نئی مخلوط حکومت بنائی گئی۔ اور پچھلی حکومت کی ایک وزیرجوہانا سگرورداتر وزیراعظم بن گئیں۔ مخلوط حکومت میں شامل جماعتیں ایک آئین ساز اسمبلی منتخب کرنے پر بھی متفق ہو گئیں۔

پچیس اپریل کو عوام کے شدید دباو پر نئے انتخابات ہوئے۔ گزشتہ اٹھارہ سال سے حکومت میں رہنے والی آزادی پارٹی اپنے ایک تہائی ووٹروں کو کھو بیٹھی۔   عوامی احتجاج  اور عوامی تنظیموں کے دباو پر حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ آئس لینڈ کے شہری ہی نیا آئین بنائیں گے۔   شہری گلی گلی تک پھیلے ہوئے تھنک ٹینکوں میں مباحثے کرنے لگے۔  نومبر دو ہزار نو میں   بارہ سو عوامی اراکین پر مشتمل ایک شہری فورم بنایا گیا۔   فورم کا مقصد دو ہزار گیارہ میں قائم ہونے والی آئین ساز اسمبلی کے لیے راہ ہموار کرنا تھا اور اسے انٹرنیٹ کے ذریعے شہریوں تک رسائی دی گئی۔   پندرہ سو لوگوں کو فورم میں شرکت کی دعوت دی گئی جن میں سے بارہ سو کو ووٹر لسٹ سے قرعہ اندازی کے ذریعے منتخب کیا گیا تھا اور تین سو کو مختلف کمپنیوں، تنظیموں، اداروں اور گروہوں کے نمائندے کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔ یہ مختلف علاقوں اور عمر کے طبقات سے چنے گئے تھے اور اس کا خیال رکھا گیا تھا کہ خواتین اور مردوں کو متناسب نمائندگی ملے۔

چھبیس اکتوبر دو ہزار دس کو پچیس ایسے لوگ آئنی کونسل کے لیے چنے گئے جن کی کوئی سیاسی وابستگی نہیں تھی۔   نئے آئین کو جولائی دو ہزار گیارہ میں پیش کیا گیا۔   پارلیمنٹ نے اس آئین کو پندرہ کے مقابلے میں پینتیس ووٹوں کی اکثریت سے ریفرینڈم کے لیے پیش کر دیا۔ اس نان بائنڈنگ ریفرینڈم میں نئے آئنی ڈھانچے کو دو تہائی حمایت ملی گئی۔ لیکن اس کے بعد سے یہ نیا آئین ابھی تک پارلیمنٹ میں پھنسا ہوا ہے۔

پارلیمنٹ نے تیس کے مقابلے میں تینتیس ووٹ کی اکثریت سے وزیراعظم کے محاسبے کی قرارداد منظور کر لی اور حکومت کے بدانتظامی پر مقدمہ چلانے کے لیے انیس سو پانچ میں بنائے گئی عدالت، لیندس دومور، کو تاریخ کا پہلا کیس بھیجا گیا۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published.