پنجاب میں مردوں کا یوم حساب

پنجاب حکومت کی طرف سے قبرستانوں کے فنڈ روک لیے گئے ہیں۔ بہت مغز ماری کر کے ہم نے اس کی وجہ دریافت کر لی ہے۔

graveyard encroachment

[urdu size=”20″]

پنجاب میں مردوں کا یوم حساب

آج صبح اخبار پڑھتے ہی دل دھک سے رہ گیا۔ لاہور شہر کے صفحے کی شہ سرخی تھی کہ حکومت پنجاب نے قبرستانوں کے ایک ارب روپے روک لیے۔ خوب غور کر کے یہی سمجھ آیا کہ ان علاقوں کے مکینوں نے شاید انکم یا پراپرٹی ٹیکس وغیرہ ادا نہیں کیا ہو گا۔ خود ہمارے محلے میں ہمارے ایک ہمسائے نے پراپرٹی ٹیکس ادا نہیں کیا تھا، بلکہ ستم یہ کہ ان صاحب نے سرکاری ٹیکس کے علاوہ چائے پانی کا ٹیکس بھی ادا نہیں کیا تھا۔ ایکسائز والے پولیس کی گاڑی بھر کر لائے تھے اور گھر بھر کو باہر نکال کر سرکاری تالا ڈال دیا تھا۔ ڈھائی لاکھ کا چیک دے کر اور چائے پانی کا تیل ڈال کر بمشکل وہ تالا کھلوا پائے۔

گمان ہوا کہ یہی وجہ ہوئی ہو گی۔ قبرستان کے مکینوں نے بھی ٹیکس اور چائے پانی نہیں دیا ہو گا اور گرفت میں آ گئے۔ لیکن پھر غور کیا کہ تو خیال گزرا کہ وہاں کے باشندوں کی رہائش گاہوں کا رقبہ بمشکل تین ضرب چھے فٹ ہوتا ہے، اس سائز کی جائیداد کو پراپرٹی ٹیکس سے چھوٹ ہوتی ہے۔ سوچا کہ ممکن ہے کہ ان قبروں کے نیک مکینوں کے جنت میں موجود وسیع و عریض محلات پر ٹیکس لگا دیا گیا ہو، لیکن پھر یہ خیال بھی لغو لگا۔ بھلا پراپرٹی ٹیکس والوں کا بھی جنت میں داخلہ ممکن ہے جو وہ وہاں کے اعداد و شمار حکومت پنجاب کو بھیج سکیں اور وہ ٹیکس نوٹس جاری کر سکے؟

پھر گمان گزرا کہ ان کو انکم ٹیکس والوں نے پکڑا ہو گا۔ کئی مزارات کی آمدنی ایسی بے شمار ہوتی ہے کہ سال کے کروڑوں دے جاتی ہے اور صاحب مزار کی سات کیا، ستر نسلیں گھر بیٹھ کر کھا سکتی ہیں۔ حکومت نے سوچا ہو گا کہ کروڑوں کی اس آمدنی سے ٹیکس کی وصولی نہیں ہو رہی ہے تو ان کو پکڑا جائے۔ پھر سوچا کہ ایسے مزارات کے متولی تو خود وزیر کبیر ہوتے ہیں، ان سے کون سرکاری ملازم ٹیکس مانگ کر اپنی دنیا و عاقبت برباد کرے گا؟ اور یہ کثیر آمدنی والے خواص عام قبرستانوں میں دفن ہوتے بھی نہیں ہیں۔ ویسے بھی عام قبرستانوں والے تو خود کچھ کمانے کی بجائے عام طور پر کفن چوروں کی کمائی کا ذریعہ ہی بنتے ہیں۔

معاملہ کافی ٹیڑھا ہوتا جا رہا تھا۔ پریشان ہو کر خبر کے متن پر نظر ڈالی۔ لکھا تھا کہ ضلعی حکومتوں کو آبادی کے تناسب سے ترقیاتی فنڈز جاری کیے جانے تھے۔ سمجھ یہی آئی کہ ضلعی حکومتوں کی تمام تر کوشش کے باوجود قبرستان کی آبادی میں زندہ آبادی کے تناسب سے خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو پایا ہے اور زندوں مردوں کا تناسب بگڑ گیا ہے۔ شاید اسی لیے صوبائی حکومت نے ان کی کارکردگی پر خفا ہو کر فنڈ روک لیے ہیں کہ پہلے تناسب ٹھیک کرو تو پیسے ملیں گے۔ لیکن ٹریفک حادثات، حالات سے تنگ آ کر خودکشی کرنے والوں اور دہشت گردی میں مرنے والوں کے اعداد و شمار پر غور کیا تو قبرستان کی آبادی بڑھانے کے ضمن میں حکومت کی کارکردگی متاثر کن لگی۔ فنڈ روکنے کی یہ وجہ نہیں ہو سکتی تھی۔

لیکن پھر خبر کا ایک جملہ سارا عقدہ حل کر گیا۔ سارا مسئلہ پانی ہو گیا۔ لکھا تھا کہ “تمام اضلاع میں قبرستان کی سکیموں پر کام شروع ہونا تو دور ان کی نشاندہی تک نہ ہو سکی”۔ واللہ یہی وجہ ہے۔ اب حکومتی اہلکار قبرستان کی نشاندہی کرنے جاتے ہوں گے تو معلوم ہوتا ہو گا کہ سرکاری کاغذات میں جہاں جہاں قبرستان تھے، وہاں اب قبروں کا نام و نشان تک نہیں ہے اور مقرب بارگاہ قبضہ گروپ پوری کالونی بسائے بیٹھے ہیں۔

سرکاری فنڈ قبرستان کے مردوں کے لیے ہوتے ہیں، کالونیوں کے زندوں کے لیے نہیں۔ اچھا کیا کہ فنڈ روک لیے۔

[/urdu]

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.