٘روشن ابراہیم

روشن صاحب سے غائبانہ تعرف ان کے ایک گروپ میں ہوا جہاں سے وہ حسب روائت گروپ بنا کر غائب ہوگئے تھے۔ بہرحال، اس گروپ میں ایک سکھ موجود تھا، ایک پٹھان اور ایک اعوان۔ سو 4599681684_d5336aa0e4_zاتنا غل مچا کہ موصوف کو اپنی روایت توڑنے پر مجبور ہونا پڑا اور گروپ میں آنا پڑا۔ وہیں ایک اور حضرت ظفر عمران سے بھی ملاقات ہوئی۔ پھر ظفر عمران کے ایک گروپ آواز میں روشن صاحب کو اتنی آوازیں کسی کہ مجبور ہوکر انہوں نے اپنی فرینڈ لسٹ میں ڈال دیا کہ یہ بندہ کسی طرح تو چپ کرے۔ وہیں موصوف کا ایک انٹرویو بھی کیا گیا جو کہ اس گروپ میں کسی کا مذاق اڑانے کا ایک مہذب طریقہ تھا۔ پتہ چلا کہ موصوف ادیب ہیں۔ کالج کے زمانے میں ایک کتاب لکھی تھی روشنی کے پجاریوں کے متعلق، مگر پھر اللہ نے ان کو ہدایت دی اور ایسی مزید کوئی حرکت نہیں کی۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ اخیر عمر میں ایک سکول کھول کر بچے پڑھانے لگ گئے تھے اور یہ سوچا ہوگا کہ اگر بچوں اور ان کے والدین کو ایسی کوئی اور تحریر مل گئی تو کیا ہوگا۔ ممتاز مفتی پر بھی اپنی ماسٹری کے دور میں یہی افتاد گزری تھی اور اس کے بعد انہوں نے ماسٹری چھوڑ دی تھی۔  دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہمارے ممدوح جھنگ کے مردم کش خطے سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے عافیت اسی میں جانی ہوگی کہ ایسی غیر اسلامی اور غیر اخلاقی حرکت نہ کی جائے۔ داڑھی بھی شاید اسی سبب رکھی ہوگی ورنہ نظریات کے لحاظ سے تو ہمیں وہ اس گروہ سے متعلق نظر آتے ہیں جس کو مرحوم سوویت یونین کی زندگی میں سرخا کہا جاتا تھا۔ اس بھلے زمانے میں یا تو مولوی داڑھی رکھتا تھا یا سرخا، نارمل آدمی ریزر خرید لیا کرتا تھا۔ بہرحال، وجہ جو بھی ہو، یہ ہوگیا۔

ایک حساس دل و ذہن رکھنے والے شخص ہیں۔ قدرت کی تخلیق کی داد دینے سے بعض نہیں رہتے۔ روایت ہے کہ شادی کے بعد بھی جب ایک دو دفعہ ایسا کرتے ہوئے پکڑے گئے تو پھر دوبارہ کبھی ایسا نہ کیا۔ ان کو اندازہ ہوگیا کہ ایک عاشق محب شادی کے بعد کیوں عشق چھوڑ دیتا ہے۔ کیوں پرانے وقتوں میں بزرگ بگڑی ہوئی اولاد کو راہ پر لانے کے لیے اس کی شادی کردیتے تھے۔ ہر فرعون را موسی و ہر شوہر را بیگما کا محاورہ جو ان کے استاد کبھی ان کو سمجھا نہ پائے تھے ان کو سمجھ آگیا۔ صحیح کہتے ہیں کہ زمانہ سب سے بڑا استاد ہے۔  جھنگ کی خواتین نے تو سکھ کا سانس لیا ہی ہوگا، مگر سننے میں آیا ہے کہ علاقے کے باقی عشاق نے تو اس مقابل کے راہ سے ہٹنے کی خوشی میں دیگیں تقسیم کرائی تھیں۔

روشن صاحب کے کمال فن پر ہم ہرگز حیران نہیں ہیں۔ جھنگ کا خطہ تو اپنی داستانوں کی وجہ سے سدا سے ہی عالم میں ممتاز ہے۔  یہ داستان گو زمانہ قدیم میں تو رومانویت کے شکار تھے۔ اب اللہ نے ان کو ہدایت دی ہے تو رجحان مذہب کی طرف ہوگیا ہے اور اس طرف اب داستان طرازی کی جاتی ہے۔ اس بات کی داد نہ دینا زیادتی ہوگی کہ اس کل یگ میں بھی روشن صاحب اس رنگ میں نہیں رنگے گئے۔ رومانیت کی طرف جانا بھی بہرحال کافی خطرناک راستہ ہی دکھا ہوگا کہ اگر باہر مولوی نے چھوڑ بھی دیا تو گھر میں بچے اور خاص طور پر بیگم تو ہرگز نہیں چھوڑیں گی۔ اسی لیے وہ علامتی افسانے کی طرف نکل گئے اور اس سخن میں وہ مقام حاصل کیا کہ مولوی، بیگم اور بچے تو کیا ان کے پڑھنے والے بھی نہیں سمجھ پاتے کہ وہ کیا کہہ گئے ہیں۔ اس فن میں ان کی شاگردی اختیار کرنے کی بہت سے لوگوں نے کوشش کی مگر کوئی استاد کا صحیح جانشین نہ بن پایا۔

آج کل ان کا زیادہ وقت کھانے پکانے اور مکانے میں صرف ہورہا ہے۔ فن افسانہ نگاری کی طرح یہاں بھی ان کی مشکل پسند طبع نے نئی راہیں نکالی ہیں۔ ویسے تو ان کے کئی خوان مشہور ہوئے ہیں لیکن شہرت دوام ان کی اونٹ بریانی اوربیگر بروسٹ نے پائی ہے۔ اونٹ بریانی کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے گوجرانولے میں کچھ وقت گزارا اور اس دوران انہوں نے مشاہدہ کیا کہ پانچ چھ بندوں  کے لیے دو تین دیگ کھانا بہت کم پڑ جاتا ہے۔ مرغ تو بہت ہی چھوٹا پرند ہے، وہاں تو بکرا بھی داڑھ گرم ہی کرسکتا ہے اور سالم بھینس بھی لوگوں کا پیٹ نہیں بھر پاتی۔ اسی اثنا میں چولستان میں چند عرب ان کے مہمان ہوئے۔ اب عزت کا معاملہ تھا، کھانا کم ہونے کا خوف ان پر اتنا سوار ہوا کہ بڑے جانور کی تلاش شروع کی۔ وہیل دستیاب نہیں ہوئی۔ ہاتھی کے بارے میں کچھ تحقیق نہیں ہوپایا کہ حلال ہے یا نہیں۔ ویسے بھی اسے لاہور کے چڑیا گھر سے اٹھانے کا منصوبہ کچھ اتنا کامیاب نہیں ہوپایا تھا۔ آخر صلاح اونٹ پر ٹھہری۔ ایک اونٹ کوچار من چاول میں ڈالا گیا اور یہ کھانا پکایا گیا۔ موصوف کے عرب مہمان خوشی سے بے حال ہوگئے۔ پندرہ منٹ میں سارا کھانا چٹ کرگئے اور برملا کہا کہ پہلی دفعہ پاکستان میں پیٹ بھر کر کھانا ملا ہے اور وہ بھی اتنا عمدہ۔ جاتے ہوئے وہ تینوں مہمان روشن  صاحب کو اپنی سوزوکی مہران کی چابیاں دے گئے اور ان کے خانساماں کو اپنے ساتھ ابو ظہبی لے گئے۔ سنا ہے کہ وہ روشن صاحب کی اس نرالی ترکیب کی بدولت وہاں خوب مشہور ہوا ہے اور  آج کل سیون سیریز کی بی ایم ڈبلیو چلاتا ہے۔

دوسرا کھانا، بیگر بروسٹ خاص اپنے لیے تخلیق کیا۔ ایک مرغ دن کھانے کا موڈ ہوا۔ ہر اچھے شاعر یا ادیب کی طرح سست تو ہیں اور جانوروں پر رحم بھی ان کو بہت آتا ہے۔ سو مرغ کو بوٹی بوٹی کرنے پر خود کو آمادہ نہ کرپائے۔ محض اسے حلال کر کے اس کی گردن اور پنجے الگ کیے اور پروں سمیت اسے بھٹی میں ڈال دیا اور خود فکر سخن میں مشغول ہوگئے۔ گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے بعد کچھ شور سا محسوس ہوا تو فکر سخن سے نکلے۔ ہر طرف کھانے کی سوندھی سوندھی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ چولہا بند کیا اور شور کی وجہ جاننے کے لیے دروازہ کھولا۔ سامنے محلے بھر کے لوگ جمع تھے۔ ہر ایک اپنے ہاتھ میں کھانے کا برتن اٹھا کر کھڑا تھا۔ خوشی سے بے حال ہوگئے۔ ہر بندہ اپنے گھر کا سب سے بڑا برتن اٹھائے ہوئے تھا۔ لیکن وضع دار لوگ تھے۔ خالی برتن نہیں لائے تھے۔ ہر برتن میں کچھ نہ کچھ تھا جس کی وجہ سے اسے اٹھانا مشکل ہواجارہا تھا۔ ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ جس کھانے کی خوشبو اتنے لوگوں کو کھینچ لائی ہے وہ کتنا لذیز ہوگا،  اور وہ چھوٹا سا مرغ اتنے لوگوں میں کس طرح تقسیم ہوگا، کہ ہمسائے کے ایک بزرگ آگے بڑھے۔ دونوں ہاتھوں میں موجود بالٹی کے وزن سے وہ بمشکل سیدھے کھڑے ہوپارہے تھے۔ ہانپتے کانپتے بولے “روشن میاں، آگ کہاں لگی ہے۔ چاروں طرف دھوان پھیلا ہوا ہے۔ کچھ بچا بھی ہے گھر میں یا خالی جان عزیز کو ہی سلامت رکھا ہے خدائے بزرگ و برتر نے۔”

اتنے میں دور سے فائربریگیڈ کی گاڑیاں غل مچاتی ہوئی نمودار ہوئیں۔ اب روشن صاحب پر انکشاف ہوا کہ محلے بھر کے لوگ کھانا لینے کے لیے نہیں بلکہ آگ بجھانے کے لیے برتنوں میں پانی بھر کر لائے تھے۔ خوب خفیف ہوئے اور محلے بھر کے ان جاہل لوگوں کو صلٰواتیں سنائیں کہ انہیں کھانے کی تمیز نہیں ہے۔   فائر بریگیڈ والے بہت ہی خبیث نکلے۔ کہتے تھے کہ مقدمہ کریں گے محلے بھر کو حراساں کرنے پر۔ ان کو رام کرنے کے لیے پانچ سو دیے اور ساتھ میں بھنا ہوا مرغ بھی پیش کیا۔ پیسے تو انہوں نے لے لیے مگر مرغ کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھاتے ہوئے چلے گئے۔ محلے دار بھی اسے کھانے پر آمادہ نہ ہوئے تو ان سے جان چھڑا کر روشن صاحب نے بعد میں مرغ خود کھانے کی کوشش کی مگر پہلے لقمے پر ہی ذائقہ کچھ عجیب سا محسوس ہوا۔ اتنے میں باہر کسی نے کنڈی کھڑکائی۔ دیکھا تو فقیروں کا ایک ٹولہ کھڑا تھا اور اس آفت عظیم سے بچ جانے پر ان سے صدقے کا طالب تھا۔ ان کو وہ مرغ دیا تو وہ مزے لے کر کھا گئے۔ اس دن سے اس ڈش کا نام بیگر روسٹ پڑ گیا جو کہ کثرت استعمال سے بالآخر بیگر بروسٹ کہا جانے لگا۔

اب دیکھیں ان کی ایجاد پسند طبیعت کیا ظہور میں لے کر آتی ہے۔ کوئی نیا کھانا یا نیا افسانہ۔ زمانہ منتظر ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.