رسول پاکؐ نے فرمایا۔۔۔

bara rabi alawal

بارہ ربیع الاول کی مناسبت سے چند احادیث مبارکہ۔ ان کا انتخاب صحاح ستہ سے کیا گیا ہے۔ ان پر ہم عمل کریں تو یہ دنیا ہی جنت بن جائے گی۔

آپؐ نے فرمایا کہ سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے والدین پر لعنت کرے، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ! آدمی اپنے ماں باپ پر کس طرح لعنت کرسکتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی دوسرے کے باپ کو گالی دے تو وہ اس کے ماں اور باپ کو گالی دے گا۔

مسلمان کا ایک دوسرے کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے۔

جب دو آدمی آپس میں گالی گلوچ کریں تو گناہ ابتداء کرنے والے پر ہی ہوگا جب تک کہ

مظلوم حد سے نہ بڑھے (یعنی زیادتی نہ کرے) ۔

۔تم لوگ میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارو

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا ہم میں مفلس وہ آدمی ہے کہ جس کے پاس مال اسباب نہ ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن میری امت کا مفلس وہ آدمی ہوگا کہ جو نماز روزے زکوة و غیرہ سب کچھ لے کر آئے گا لیکن اس آدمی نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی اور کسی پر تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا مال کھایا ہوگا اور کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا تو ان سب لوگوں کو اس آدمی کی نیکیاں دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں ان کے حقوق کی ادائیگی سے پہلے ہی ختم ہو گئیں تو ان لوگوں کے گناہ اس آدمی پر ڈال دئے جائیں گے پھر اس آدمی کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

آپس کی عداوت سے بچو کیونکہ یہ تباہ کن چیز ہے۔

کیا میں تمہیں نماز، روزہ اور زکوۃ سے افضل درجے کا عمل نہ بتاؤں؟ صحابہ نے عرض کیا کیوں نہیں؟ نبی نے فرمایا جن لوگوں میں جدائیگی ہو گئی ہو، ان میں صلح کروانا ، جبکہ ایسے لوگوں میں پھوٹ اور فساد ڈالنا مونڈنے والی چیز ہے (جو دین کو مونڈ کر رکھ دیتی ہے) ۔

دو بھوکے بھیڑیوں کو کسی بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا جائے تو وہ اسے اتناخراب نہیں کریں گے جتنا مال اور عزت کا لالچ انسان کے ذہن کو خراب کردیتا ہے۔

مال خرچ کرو اور گن گن کر نہ رکھو کہ اللہ بھی گن گن کردے گا اور بند کرکے نہ رکھ ورنہ اللہ بھی تم سے روک لے گا۔

تکبر یہ ہے کہ انسان حق بات قبول کرنے سے انکار کر دے اور لوگوں کو حقیر سمجھے۔

نہیں نظر کرے گا اللہ قیامت کے روز اس شخص کی طرف جو اپنا تہ بند لٹکائے تکبر کے طور پر ۔

تم بدگمانی سے بچو اس لئے کہ بدگمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے اور کسی کے عیوب کی جستجو نہ کرو اور نہ اس کی ٹوہ میں لگے رہو اور (بیع میں) ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو اور نہ حسد کرو اور نہ بغض رکھو اور نہ کسی کی غیبت کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہوجاؤ۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا گیا کونسا آدمی افضل ہے؟ آپ نے فرمایا صاف دل زبان کا سچا لوگوں نے کہا زبان کے سچے کو تو ہم پہچانتے ہیں لیکن صاف دل کون ہے؟ آپ نے فرمایا پرہیز گار پاک صاف جس کے دل میں نہ گناہ ہو نہ بغاوت نہ بغض نہ حسد۔

بغاوت اور قطع رحمی ایسے گناہ ہیں کہ کوئی گناہ دنیا اور آخرت دونوں میں ان سے زیادہ عذاب کے لائق نہیں۔
مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ غیبت کیا ہے فرمایا تو اپنے بھائی کے بارے میں ایسی بات کرتے جس کو وہ ناپسند کرتا ہے عرض کیا اگر وہ عیب واقعی اس میں موجود ہو تو آپ نے فرمایا اگر تم اس عیب کا تذکرہ کرو جو واقعی اس میں ہے تو غیبت ہے ورنہ تو نے بہتان باندھا۔

نحوست بد اخلاقی کا نام ہے۔

منافق کی تین پہچانیں ہیں جب بولے تو جھوٹ بولے اور جب وعدہ کرے تو خلاف کرے جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔

جو آدمی لوگوں کو سنانے کے لئے کوئی کام کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی ذلت لوگوں کو سنائے گا اور جو آدمی دکھلاوے کے لئے کوئی کام کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی برائیاں لوگوں کو دکھلائے گا۔

کسی شخص کے برے ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔

اپنے مسلمان بھائی کی مصیبت پر خوشی کا اظہار نہ کرو ورنہ اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے گا اور تمہیں اس میں مبتلا کرے گا۔

جب امیر (حاکم) لوگوں میں گمان ڈھونڈے گا (ان کے معاملات میں) واضح شرعی ثبوت کے بجائے محض گمان پر عمل کرے گا تو انہیں بگاڑ دے گا۔

اگر آدمی کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں، تو وہ تیسری تلاش کرے گا، اور ابن آدم کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھرتی ہے۔

چار باتیں جس کسی میں ہوں گی، وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان چار کی ایک بات ہو اس میں ایک بات نفاق کی ہے، تاوقتیکہ اس کو چھوڑ نہ دے (وہ چار باتیں یہ ہیں) جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے اور جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب وعدہ کرے تو خلاف کرے اور جب لڑے تو بے ہودگی کرے۔

میں قیامت کے دن تین آدمیوں کا دشمن ہوں گا ایک وہ جو میرا نام لے کر عہد کرے پھر توڑ دے دوسرے وہ شخص جس نے کسی آزاد کو بیچ دیا اور اس کی قیمت کھائی تیسرے وہ شخص جس نے کسی مزدور کو کام پر لگایا کام پورا کیا لیکن اس کی مزدوری نہ دی۔

غلے کى ایک ڈھیری کے پاس سے گزرے تو اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا آپ نے اس میں نمی محسوس کی تو فرمایا۔ اے غلہ کے مالک یہ کیا ہے غلہ فروخت کرنے والے نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بارش کی وجہ سے گیلا ہوگیا ہے۔ آپ نے فرمایا تم نے اس بھیگے ہوئے مال کو اوپر کیوں نہیں رکھ دیا تاکہ لوگ دیکھ سکیں پھر فرمایا جس نے دھوکہ کیا وہ ہم سے نہیں۔

تاجر قیامت کے روز فاجر اٹھائے جائیں گے سوائے ان کے جو اللہ سے ڈریں نیکی کریں اور سچ بولیں ۔

مؤمن پر لعن طعن کرنے والا (گناہ میں) اس کے قاتل کی طرح ہے اور جس نے کسی مؤمن پر کفر کا الزام لگایا وہ اس کے قاتل کی طرح ہے

جو شخص اپنے بھائی کو کافر کہے تو ان دونوں میں سے ایک نہ ایک پر ضرور یہ وبال آپڑا۔

جب تین آدمی ہوں، تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں۔

جنت میں چغلخور داخل نہ ہوگا۔

ہربد اخلاق تندخو، متکبر جمع کر کے رکھنے والا اور نیکی سے روکنے والاجہنم میں ہو گا۔

ایک اعرابی مسجد میں پیشاب کرنے لگا تو لوگ اس کی طرف دوڑے تاکہ اس کو ماریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں سے فرمایا اس کو چھوڑ دو اور اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی کا بہا دو اس لئے کہ تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو سختی کرنے والے نہیں بھیجے گئے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.