قصہ ایک عربی سفیر کبیر کی شادی کا

fat2

 قصہ ایک عربی سفیر کبیر کی شادی کا جس نے ایک نقاب پوش پراسرار عربی حسینہ سے شادی کر لی تھی۔

[urdu size=”20″]

دیکھو، کبھی بھی نقاب والیوں سے خوب تسلی کیے بغیر نکاح مت کیا کرو۔ ایک عرب سفیر کبیر نے ایسا نہیں کیا تھا تو اس کے ساتھ دھوکہ ہو گیا۔

روایت ہے کہ بلد العرب میں ایک سفیر ہوا کرتے تھے۔ خالص عربی۔ نسب بھی عربی، جسم بھی عربی اور دماغ بھی عربی۔ اور بٹوا بھی عربی۔

تو اس کا دل کیا کہ وہ شادی کرے۔ پتہ نہیں پہلی تھی، دوسری تھی تیسری تھی یا چوتھی، بہرحال شادی تھی۔ اس نے اپنی امی کو ایک لڑکی کے گھر بھیج دیا۔ لڑکی کی امی نے اسے تصویر دکھا کر قائل کر لیا کہ دوشیزہ چندے آفتاب و چندے ماہتاب ہے۔ عربی کی اماں نے جھٹ ہاں کر دی۔

عربی نے اس کے ساتھ ملاقات بھی کی تاکہ اسے خوب جان لے۔ لیکن اس عفت کی پتلی نے اسے چہرہ نہ دکھایا۔ پھر یوں ہوا کہ اس عربی نے زر معقول، جو کہ ہمارے حساب سے زر کثیر ہوتا ہے، لڑکی کے ابا کو دے کر شادی کر لی۔ غلط فہمی سے بچنے کے لیے یہ وضاحت ضروری ہے کہ شادی لڑکی سے کی تھی، ابا سے نہیں۔ وہاں ملک عرب میں ہمارے پیارے دیس سے الٹا رواج ہے۔ لڑکی والوں کی طرف سے جہیز کی بجائے لڑکے والے نقد پیسے دیتے ہیں۔

تو خیر، شادی ہو گئی۔ عربی نے گھونگٹ، یا جو بھی وہاں ملک عرب میں رواج ہوتا ہے، اٹھایا تو کھٹ سے شیروانی ڈانٹی، سلیم شاہی جوتا پہنا، اوپر اپنی توپ پہنی اور قاضی کے پاس پہنچ کر کہنے لگا کہ طلاق چاہیے۔

قاضی نے پوچھا کیا معاملہ ہے؟ کیا لڑکی کی سیرت میں کچھ مسئلہ ہے؟ عربی رونے لگا، کہنے لگا کہ سیرت کا مسئلہ نہیں ہے۔ لڑکی تو سنت پر عمل کرنے والی نظر آتی ہے۔ لیکن بس مجھے طلاق چاہیے۔

قاضی خفا ہو گیا۔ کہنے لگا کہ سنت پر عمل کرنے والی سے طلاق؟ استغفر اللہ۔ جہنم میں جاو گے تم ایسی بات کہنے پر۔ استغفار کرو۔ اچھا کیا تمہیں وہ اچھی نظر سے نہیں دیکھتی ہے؟

عربی کہنے لگا کہ حضور اس بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔ آپ ناراض مت ہوں۔ بخدا میں خود سنت رسول کے مطابق داڑھی رکھتا ہوں، لیکن معاملہ یہ ہے کہ لڑکی نے بھی داڑھی رکھی ہوئی ہے۔ وہ یہ خیال نہیں کرتی کہ داڑھی رکھنا مردوں پر واجب ہے، خواتین پر نہیں۔ گھونگٹ اٹھا کر میں نے تو بے اختیار اسلام علیکم یا اخی کہہ دیا تھا، پھر خیال آیا کہ وہ اخی نہیں بلکہ میری منکوحہ ہے۔ اور جہاں تک نظر کی بات ہے، تو مجھے پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ پیار بھری نظروں سے مجھے دیکھ رہی ہے یا کسی اور کو۔ وہ بھینگی ہے۔ کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ والا معاملہ ہے۔ لڑکی کی امی نے اس کی بجائے اس کی باجی کی تصویر دکھا کر میری امی کو پٹا لیا تھا۔

قاضی نے میڈیکل بورڈ بٹھا دیا جس نے لڑکی کے ہارمون چیک کیے اور انہیں نارمل پایا۔ قاضی نے طلاق دے دی لیکن عربی کی طرف سے دی گئی نقد رقم و تحائف اپنی طرف سے لڑکی کو دینے کا اعلان کر دیا۔

پھر پتہ نہیں کیا ہوا۔ بہرحال یہ رپورٹ گلف نیوز سے موصول ہوئی ہے۔

[/urdu]

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.