تزک درویشی 4: لٹ جانا پر شور مت مچانا

لٹ جانا پر شور مت مچانا
dervish1
ڈیڑھ بجے ظہرانے سے فارغ ہو کر کچھ دیر کے لیے ہی آنکھ لگی تھی کہ برخوردار قادری کے فیل مچانے سے آنکھ کھل گئی۔ گھڑی پر نظر ڈالی تو ابھی پانچ ہی بجے تھے۔ کچی نیند سے جگانے پر ناراض ہو کر اس درویش نے برخوردار قادری پر زور سے دشنام طرازی فرما کر اس کے کردار کی اصلاح کی، اور جب وہ طمانیت قلب کی دولت سے مالامال ہو کر ایک کونے میں خاموشی سے سہم کر کھڑا ہو گیا تو ہم نے اس سے غل مچانے کا سبب پوچھا۔کہنے لگا  “پولیس نے کہا ہے کہ لٹ جانا، پر شور مت مچانا، کہ ایسا کرو گے تو جان سے جاو گے”۔ہم نے غضبناک ہو کر فرمایا “اس میں اتنا شور و غوغا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ شہر کراچی کا ہر مرد و زن، طفل و پیر جانتا ہے کہ شور مچانے پر راہزن گولی مارنے میں منٹ نہیں لگاتے، خواہ لٹنے والے کی جیب سے محض دس روپے نکلیں اور ان کی پچاس روپے کی گولی خرچ ہو جائے، وہ پراسرار بندے نقصان کی پروا نہیں کرتے۔ پشاور کے شہری بھی یہ جانتے ہیں کہ اغوا کرنے والا جتنا مانگے، شور مچائے بغیر دے دینا چاہیے۔ ورنہ جتنا مانگا جائے، مانگنے والے کو اس کی اگلی دھمکی کے بعد اس سے کئی گنا زیادہ مل جاتا ہے، جبکہ شور مچانے پر جان سے جانا پڑ سکتا ہے۔ لاہور اور پنڈی کے تجار بھی لٹ جاتے ہیں مگر شور نہیں مچاتے، کہ جان سے جائیں گے، بھتہ طلب کرنے والے طالبان ایک لمحے کا توقف نہ فرمائیں گے۔  بلکہ وطن عزیز کے رائے دہندگان تک لٹ جاتے ہیں مگر ووٹ انہیں آزمائے ہوئے سیاست دانوں کو دیتے ہیں۔ بخدا دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ فراز نامی کمیونسٹ آج زندہ ہوتا تو یہ شعر کہتا”:۔

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے ليے آ
آ پھر سے مُجھے لُوٹ کے جانے کے ليے آ

بول بول کر اس درویش کا گلا خشک ہو گیا تھا۔  برخوردار خان کو ساتھ ہی تپائی پر رکھا ہوا پانی کا گلاس اٹھا کر دینے کا اشارہ کیا اور ابھی ایک گھونٹ بھرا ہی تھا کہ اس ناخلف نے ایک لمحے کے توقف کو غنیمت جان کر کہا “حضرت، یہ بیان برازیل کی پولیس کا ہے، پاکستان کی پولیس کو یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سب پہلے ہی جانتے ہیں کہ شور مچانے کا نقصان ہی ہو گا”۔

ہم نے حیران ہو کر پوچھا: “برازیل کی پولیس کا؟ کیا مطلب؟ کیا وہاں پاکستانی افسران تعینات ہو گئے ہیں اور زمام حکومت پاکستانی عمائدین نے سنبھال لی ہے؟”۔

وہ بولا “نہیں شیخ، وہ اس معاملے میں خود کفیل ہیں۔ وہاں کے لوگ تو یہ جانتے ہی ہیں۔ اب فٹ بال کے ورلڈ کپ کی وجہ سے ناواقف غیر ملکی وہاں جا رہے ہیں جو لٹ جانے پر شور مچانے کے قائل ہیں تاکہ ان کو ان کا حق واپس مل سکے۔ ان کی راہنمائی کے لیے ساری دنیا کے اپنے سفارت خانوں کو انہوں نے یہ معلوماتی کتابچے فراہم کیے ہیں کہ بھائیو، تم ایک نئی دنیا میں آ رہے ہو۔ یہاں لٹ جانا مگر شور مت مچانا”۔

ہم خوش ہوئے اور فرمایا “اس کا مطلب ہے کہ فٹ بال کا اگلا ورلڈ کپ پاکستان میں منعقد ہونے کے واضح امکانات موجود ہیں”۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.