شہریار شہزادہ ۔ دو خاکے

شہریار شہزادہ
stickmen-man-and-woman-with-long-hair-need-shampoo-gag2
ان سے پہلے پہل نیٹ پر ملاقات ہوئی تو وہ سکھوں سے محو گفتگو تھے۔ بلکہ کچھ یاد پڑتا ہے کہ پہلے پہل وہ بھی سکھ نظر آئے تھے۔ پھر ذرا غور کیا تو اپنے پہلے خیال کو کچھ غلط سا پایا۔ سکھ سر کے علاوہ داڑھی کے بالوں کو بھی نہیں کاٹتے۔ ان کی داڑھی کٹی ہوئی تھی۔ شبہ ہوا کہ شاید نرنکاری ہوں۔ صرف سر کو کھلا چھوڑ کر داڑھی منڈانے پر یقین رکھتے ہوں۔ لیکن جب ملے تو پھر یہ خیال بھی غلط لگا۔ یہ سوچ بھی درست نہ تھی کہ فقط وزن پورا کرنے کے لیے انہوں نے بال بڑھا لیے ہیں۔ سوچا کہ شاید مصنف ہونے کی وجہ سے لانبے بال اس لیے رکھتے ہیں کہ فکر سخن کرتے ہوئے ان میں ہاتھ پھیرتے جائیں اور سوچتے جائیں۔ مزید ملاقات ہوئی، کچھ کھلے تو پھر یہ گمان ہوا کہ شاید  غم جاناں ہی ان لمبے سنہرے بالوں کا کارن ہے۔

بے مثال لیکھک ہیں۔ ڈرامے لکھتے ہیں تو وہ کمال کے ہوتے ہیں اور فسانے لکھتے ہیں تو قلم توڑ دیتے ہیں۔ پورے ملک میں گھومتے ہیں۔ کبھی کہیں ہوتے ہیں کبھی کہیں۔ ایک بار دیر تک نشست جمی رہی۔ جب تک بے تکلفی بھی ہو چکی تھی۔ پوچھا کہ کیا سبب ہے اس طرح کو بہ کو پھرنے کا۔ کچھ دیر خاموش رہے۔ پھر سر جھٹک کر بال پرے کیے تو ان کی آنکھوں میں ایک عجب غم نظر آیا۔ بولے تو آواز بھرائی ہوئی تھی۔ کہنے لگے کہ ایک شہر کے دکاندار ادھار دینا بند کر دیتے ہیں تو پھر آدمی دوسرے میں نہ جائے تو کیا کرے۔ گلے پڑ جاتے ہیں یہ فن کے دشمن۔ گھر سے باہر نکلنا تو دشوار ہوتا ہی ہے، گھر کے اندر بھی سکون سے نہیں رہنے دیتے۔ پاوندوں کے خیموں میں گھاس اگنے لگے تو پھر کوچ کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ پھر کہنے لگے کہ میں نے تم کو چائے کی دعوت ہی نہیں دی۔ کل رات سے دودھ اور پتی دونوں ختم ہیں۔ اندھیرا زیادہ ہونے سے پہلے باہر جانے والے حالات نہیں ہیں۔ اس لیے پانی کے علاوہ گھر میں پینے کے لیے کچھ نہیں مل سکتا۔یا پھر یہ کل رات کی بچی ہوئی چائے کا کپ پڑا ہے جو خدا کسی دشمن کو بھی نہ پلائے کہ اس میں تین سگریٹیں گل کر چکا ہوں

ان کو دلگداز موڈ میں دیکھا تو پوچھ ہی لیا کہ اتنے لانبے بال کیوں رکھتے ہیں۔ وہ کچھ دیر لمبے لمبے کش لیتے رہے اور نیلے نیلے مرغولوں کے اندر کچھ ڈھونڈتے رہے۔ پھر بولے ‘اس نے کہا تھا کہ کاش میرے بھی تہماری طرح کے لمبے لمبے سنہرے بال ہوتے۔ ان کے لیے میں کچھ بھی قربان کر سکتی ہوں’۔ میں نے استفہامیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھا تو وہ نظر ملائے بغیر سامنے پڑے ہوئے اکلوتے آدھے خالی کپ  میں سگریٹ کی راکھ جھاڑنے لگے۔ کچھ دیر ہم اسی طرح خاموش بیٹھے رہے۔  پھر وہ رکے بغیر بولنے لگے۔ پتہ نہیں کب سے ان کے دل میں محبوس تھا یہ غم جو اب سیل روان بن گیا۔

وہ مجھے یونیورسٹی میں ملی تھی۔ دالانوں میں وہ خراماں خراماں چل رہی ہوتی تھی اور میں جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھتا ہوا پیچھے پیچھے چلتا تھا۔ لیکن کبھی بات کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ ہم کلاس میں بیٹھے ہوتے تھے۔ پوری توجہ اپنے استاد کے لیکچر پر ہوتی تھی جو شیکسپئیر سے لے کر آغا حشر کاشمیری تک کے فن پر بات کر رہے ہوتے تھے اور بتاتے تھے کہ کس کس طرح آغا صاحب نے ان مضامین کو کمال خوبی سے باندھا ہے جن پر شیکسپئیر جیسے کاملین فن مار کھا گئے ہیں۔ ان کاموازنہ رستم و سہراب اور ہیملٹ تو ابھی تک کانوں میں ایسے گونجتا ہے جیسے وہ وقت ابھی گزرا نہیں ہے، بلکہ سدا گزرتا رہے گا۔ بہرحال، اب بھی ان لیکچروں کی یادیں اس طرح فسوں طاری کر دیتی ہیں تو خود اندازہ لگاو کہ اس زمانے میں کیا حالت ہوتی ہوگی جب پروفیسر کامل شتم الفاظ کا دریا بہا دیتے تھے اور ہم مبہوت بیٹھے سنا کرتے تھے۔ لکھنا تک بھول جاتے تھے۔ اسی سبب کبھی ان کے مضمون میں پاس نہ ہو پائے اور یونیورسٹی کو کسی دنیاوی ڈگری کے بغیر لیکن کامل علم کے ساتھ الوداع کہا۔ لیکن ایسا نہیں تھا کہ اس طلسم کا کوئِ توڑ نہیں تھا۔ اس فسوں کو صرف ایک چیز توڑ ڈالتی تھی۔ جب وہ الہڑ کھڑکی کے باہر سے گزرتی نظر آجاتی تھی تو پھر کچھ اور باقی نہیں رہتا تھا۔ کچھ اور سنائی نہیں دیتا تھا۔ کچھ اور دکھائی نہیں دیتا تھا۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی لہک لہک کر چلتی تو اردو کا پورا دیوان عشق اس کی ایک اٹھان کو بیان کرنے سے قاصر ہو جاتا تھا۔ اک ادا سے وہ اپنے چہرے سے بالوں کی لٹ کو ہٹاتی تھی اور ایک نگاہ غلط انداز ڈال کر آگے نکل جاتی تھی۔ اور میں اسے دیکھنے میں محو ہو جاتا تھا۔ اکثر یہ ہوتا تھا کہ باقی طلبا چلے جاتے تھے اور میں اسی محویت میں بیٹھا رہتا تھا۔ وہ بھی چلی جاتی تھی لیکن مجھے پھر بھی دکھائی دیتی رہتی تھی۔ پھر شام ڈھلے احساس ہوتا تھا کہ ساری یونیورسٹی خالی ہوگئِی اور چوکیدار مجھے کمرے میں بند کر کے جا چکا ہے۔

تم تو جانتے ہی ہو وہ عمر کیسی ہوتی ہے اور جھجک کیسی ہوتی ہے۔ بات کرنے کا حوصلہ نہیں پڑتا تھا۔ صم بکم اسے دیکھتا رہتا تھا اور پیچھے چلتا رہتا تھا۔ وہ ہمارا یونیورسٹی میں آخری سمیسٹر تھا جب میں نے حوصلہ جمع کیا۔ اس کے تھیلے سے ایک کاغذ گرا۔ میں نے موقع غنیمت جانا۔ کاغذ اٹھایا اور اس کے پیچھے لپکا۔ ‘مس، آپ کا یہ ضروری کاغذ گر گیا ہے’۔ وہ پلٹی اور دنیا جیسے تھم گئی۔ وقت جامد ہوگیا۔ اور دل رک گیا۔ بولی ‘دے دے، دیکھ کیا رہا ہے۔ مہارے انچارج نے دیکھ لیا تو بہت بزتی خراب کرے گا کہ کوڑا بھی ٹھیک سے نہیں اٹھاتی’۔ یہ کہا اور میرے سے کاغذ جھپٹ کر اپنے تھیلے میں ڈالا اور جھاڑو لہراتی چل دی۔ میں اپنے ہاتھ کو دیکھتا رہ گیا جہاں اس کا لمس ایک خفیف سے لمحے تک رہا تھا۔ لیکن وہ لمحہ ساری زندگی کے لیے ذہن پر حاوی ہوگیا۔

پھر گزرتے ہوئے ہم ایک دوسرے کو مسکرا کر دیکھنے لگے۔ وہ میرے کمرہ جماعت کے آگے دیر تک کھڑی رہنے لگی۔ اور یونیورسٹی بند ہونے کے بعد ہم اکٹھے سٹاپ تک چلتے۔ میں ایک ہاتھ میں اس کا کوڑے کا تھیلا اور  جھاڑو تھامے ہوتا اور دوسرے ہاتھ میں اپنی کتابیں، اور اس کے ہاتھوں نے میرا دل تھاما ہوتا۔ آخری بار جب ہم ملے تو اس نے میرے بالوں کو چھوا اور کہنے لگی کہ اس نے کہا تھا کہ کاش میرے بھی تہماری طرح کے لمبے لمبے سنہرے بال ہوتے۔ ان کے لیے میں کچھ بھی قربان کر سکتی ہوں۔ لیکن ماں ہر ہفتے کٹا دیتی ہے کہ جوؤں سے کسی طرح تو پیچھا چھوٹے۔ پھر وہ کچھ دیر چپ رہی اور بولی ‘اب ہم نہیں مل پائیں گے۔ میرا آدمی اب مجھے اور میرے چھ بچوں کو لے کر جا رہا ہے۔ میں صم بکم اسے دیکھتا رہا۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ جدائی کی گھڑی اتنی جلد آجائے گی۔ وہ چلی گئی اور میں کھڑا اسے دیکھتا رہا۔دیکھتا ہی رہا۔

پھر میں بھی اس یونیورسٹی سے چلا گیا۔ جب وہ ہی وہاں نہیں رہی تھی تو میرے لیے وہاں کیا رکھا تھا۔ اب کبھی کسی شہر میں جاتا ہوں اور کبھی کسی شہر میں۔ کہیں تو وہ دوبارہ نظر آئے گی۔ سنجوگ کی کوئی ایک گھڑی تو ہوگی میرے نصیب میں۔ وہ مسکرائے  لیکن کیا کبھی ایسی غمزدہ مسکراہٹ میں نے کبھی کہیں اور دیکھی تھی۔ انہوں نے میری طرف دیکھا اور کہا ‘کبھی تو سنجوگ کی گھڑی آئے گی۔ کبھی تو آئے گی’، اور اپنے سامنے رکھا ہوا اکلوتا چائے کا کپ اٹھا کر چسکیاں لے لے کے پینے لگے۔

====================

شہریار شہزادہ، دوسرا خاکہ

کھلتا ہوا گندمی رنگ جو پنجابی ہونے کی گواہی دیتا ہے۔ شانوں تک لہراتے ہوئے لمبے سنہرے بال ان کی سکھوں کی طرح کی سوچ کے نمائندہ ہیں۔ رومی شہنشاہ جولیس سیزر کی مانند رومی ناک، اور اس کے دوستوں جیسے ہی دوست۔ شروع میں پتہ چلا تھا کہ کسی قسم کے مصنف ہیں۔ بعد میں پتہ چل گیا کہ کس قسم کے ہیں۔  پتہ چلا کہ ادب ان کے گھر کی لونڈی ہے۔ کئی ڈرامے کر چکے ہیں۔ اور اب لوگ دور سے ہی ان کو آتا دیکھ کر راستہ بدل جاتے ہیں۔ اپنے آپ کو ادیب بے مثل شکیل عادل زادہ کا شاگرد بتاتے ہیں۔ یہ تو معلوم نہیں کہ اس بے مثل بازیگر سے انہوں نے کیا کچھ سیکھا ، لیکن کچھ جھلکیاں ہم جیسے کم علموں کو بھی نظر آجاتی ہیں۔ پاوں کو پانو، گاوں کو گانو، طوطے کو توتا، گھڑی کو گہڑی لکھنے لگے تھے۔ کہتے تھے کہ اردو کی اصل یہی ہے۔ ثبوت کے طور پرفورٹ ولیم کالج کی چھپی ہوئی ضخیم کتب اپنے بستے میں ہر وقت رکھتے تھے۔ کوئی توتے کو طوطا کہنے کی جرات کرتا تو جلے پانو کی بلی کی مانند قدم اٹھاتے ہوئے اس نابکار تلک جاتے اور اس کو کتب قدیم دکھا کر قائل کرنے کی کوشش کرتے۔ اس کی سمجھ میں بات آجاتی تو فبہا، ورنہ مولوی محمد حسین آزاد کی آب حیات کی ایک ضرب ہی اس کے دماغ کو قبول کرتے ہوئے ہم نے خود بارہا دیکھا ہے۔ کہتے تھے کہ آب حیات کو جھٹلانا بہت مشکل ہے، مردہ سے مردہ ذہن کو زندہ کردینے کی خاصیت ہے اس میں۔

ان سے ملاقات سے پہلے تاثر یہی تھا کہ رومی ناک کی طرح ان کا پیکر بھی رومی ہی ہوگا۔ ساڑھے چھ فٹ نہ سہی، چھ کے تو ہوں گے۔ تصور میں فلم بن حر کا رومی سردار ہی نظر آتا تھا۔ لانبا چوڑا، ہٹا کٹا، چست چالاک، شانوں پر لہراتے سنہرے بال اور چار گھوڑوں کی رتھ پر سوار دائین بائیں کے لوگوں کو کاٹتا مارتا ہر دوڑ جیتتے چلے جانے والا۔ لیکن جب ملے توبال ہی توقع کے مطابق نکلے۔ قد اور صحت توقع سے کچھ کم تھے۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ پستہ قد تھے۔ ان کو جسٹس نسیم حسن شاہ کے ساتھ کھڑا کیا جائے تو کئی انگلشت اونچے ہی نکلیں گے۔ اور وزن میں یہ کسی طرح بھی ایک من سے کم تو ہرگز نہیں ہوں گے۔ گمان غالب  ہے کہ اگر تولا جائے تو من سے چند چھٹانک اوپر ہی نکلیں گے۔ لیکن ان کی شخصیت میں سب سے نمایاں چیز بلاشبہ ان کے شانوں پر لہراتے ہوئے سنہرے بال ہیں۔ رفتہ رفتہ جب بے تکلفی ہوئی تو ان سے اتنے لمبے بال رکھنے کا سبب پوچھا۔

پہلے تو کچھ جھجکے لیکن جب واضح کیا کہ مقصد اعتراض نہیں بلکہ محض ایک مداح کی دلچسپی ہے، تو بولے ‘کچھ لوگوں کی طاقت ٹانگوں میں ہوتی ہے۔ دن بھر ہل جوتتے ہیں یا بیگار کرتے ہیں۔ کچھ کی ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ کلرکی میں ہی زندگی بتا دیتے ہیں اور اپنے آپ کو فاضل سمجھتے ہیں۔ لیکن جو واقعی طاقت رکھتے ہیں، ان کے بال ہی بتا دیتے ہیں کہ سر میں کیا ہے’۔  ان کے روپہلے چھڑی ہوئی گندم کی باقیات جیسی رنگت والے بال واقعی بتا دے رہے تھے کہ سر میں کیا ہے۔  میرے منہ سے بے ساختہ نکل گیا کہ ہمیشہ بڑوں سے سنا تو یہ ہے کہ دماغی کام کرنے والے گنجے ہو جاتے ہیں، تو ان کا رنگ سرخ ہوگیا۔ کہنے لگے، کہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ میں کوڑھ مغز ہوں اور دماغ سے کام نہیں لیتا جو میرے اتنے لمبے بال ہیں۔ یہی کہنا چاہتے ہیں نہ آپ۔ میں نے ان کے سامنے موجود آب حیات کے نسخے کو دیکھا اور  ہاتھ جوڑ کر کہا کہ یہ گمان بھی کبھی نہیں کیا۔ ایسا خیال بھٹک کر بھی قریب نہیں آیا کہ آپ کے سر میں بھوسہ بھرا ہوا ہے۔ فقط حیران ہوں کہ ایسی گمراہ کن بات مشہور کیسے ہو گئی ہے جبکہ آپ کی صورت میں ایک زندہ مثال اس کے خلاف موجود ہے۔ تس پہ وہ مسکرائے اور بولے ‘اساطیری داستانوں میں سب سے طاقت ور کون تھا؟ سیمسن۔ اور تم جانتے ہی ہو کہ اس کی ساری طاقت اس کے بالوں میں تھی۔ اب دھول دھپے کا دور نہیں رہا۔ اب قلم کا دور ہے۔ لیکن طاقت کا معیار وہی ہے۔ پہلے مجھے بھی یہ بات معلوم نہیں تھی۔ فوجی کٹ بال رکھتا تھا اور کبھی الف بے بھی لکھنی پڑ جاتی تھی تو ہفتہ لگ جاتا تھا۔ اور اب ڈیڑھ ہزار صفحات کا ڈرامہ لکھنے میں بمشکل گھنٹہ لگتا ہے سارا کاپی پیسٹ کا وقت شامل کرکے بھی۔ ان کی فہم و ذکاوت پر میں نے تعجب کیا۔ واقعی، جس کا جو مقدر ہو اسے وہی ملتا ہے۔

بلا کے نکتہ دان اور دوست پرست ہیں۔ نثر میں ان کا کمال تو خیر سمجھ میں آتا ہے، کہ ایسے باکمال شخص سے تربیت پائی ہے، لیکن شعر میں ان کا کمال خداداد ہے اور اس میں کسی کے آگے دامن تلمذ تہہ نہ کرنے کے باوجود وزن کے پورے ہیں۔ ہم نے  اپنی اِنہیں گنہگار آنکھوں سے بڑے بڑے اساتذہ وقت کو ان کے سامنے خفیف ہوتے دیکھا ہے۔ ایک بار لاہور کی گوالمنڈی کے ایک خود ساختہ استاد نے، جو اپنے تن و توش اور دودھ دہی کے ذریعہ معاش کے سبب رستمِ ادب کہلاتے تھے، ان کی موجودگی میں بہت اچھل اچھل کر شعر سنایا اور داد طلب نظروں سے محفل کو دیکھنے لگا۔ اس کے چمچوں نے تعریف کے ڈونگرے بجا دیے اور خوب ہاو ہو کیا۔ فقط یہی خاموش بیٹھے رہے۔ جب استاد نے ان سے پوچھا کہ کیا خیال ہے تو انہوں نے بھری محفل میں بتا دیا کہ وزن گرتا ہے۔ کرکری ہوتے دیکھ کر اس نے آستینیں چڑھائیں اور کہنے لگا کہ تم کیا اور تمہارا اپنا وزن کیا کہ ہمارے شعر کا وزن کرو۔ تمہارے جیسے چار کو تو اپنے ایک ہاتھ پر بٹھا سکتا ہوں اور وزن درست کر سکتا ہوں۔ یہ کہہ کر آگے بڑھا۔ انہوں نے بستے پر ہاتھ مارا۔ قصہ چہار درویش کا مختصر سا کتابچہ نکلا۔ انہوں نے وہی اس کے ہاتھ پر دے مارا۔  وہ ہنسا اور دوسرا ہاتھ بڑھا کر ان کو گردن سے پکڑ کر اٹھانے لگا۔ انہوں نے پھر بستے پر ہاتھ مارا۔ وہ ہنس کر ان کے آگے سر خم کر کے کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا کہ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔ ایسے بہت دیکھے ہیں زندگی میں۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اگلی کتاب آب حیات ہوگی جو اسے غم حیات سے گھنٹے بھر کے لیے آزاد کر دے گی۔  وہ دن اور آج کا دن، ان کے وزن پر اعتراض پر کوئی معترض نہیں ہوتا۔

یہ تحقیق نہیں ہوا کہ ان کا نام شہریار شہزادہ کیوں پڑا۔ کوئی اس کا سبب ان کے کالج کے دنوں کی شہزادگی کو بتاتا ہے جب وہ بارہ ساڑھے بارہ بجے اپنے ہوسٹل کے کمرے سے تیار ہو کر نمودار ہوتے تھے اور کلاس روم تک پہنچتے پہنتے چھٹی کی نوبت بج جاتی تھی وہ وہ شاداں و فرحاں قدرت کی صناعی کا مشاہدہ کرنے قریبی گرلز کالج کی طرف نکل جاتے تھے، تو کوئی اس کا سبب ان کی غائب دماغی کو بتاتا ہے کہ بیان کیا جاتا ہے کہ کچھ عرصے انہوں نے پروفیسری کی تھی۔ کالج سے تو جلد ہی ان کو فارغ کردیا گیا لیکن پروفیسری انہیں زندگی بھر فارغ کرتی رہی۔ سچ ہی کہتے ہیں کہ بندہ پروفیسری سے نکل بھی جائے تو پروفیسری بندے سے کبھی بھی نہیں نکلتی۔ بہرحال، سبب جو بھی ہو، اس میں کسی کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ یہ نام قدرت نے ہی ان کو عطا کیا ہے۔ اور خوب کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.