سیاست و خفت یا دعوت و عزیمت

mansoora 37697513

سیاست و خفت یا دعوت و عزیمت

خبر ملی ہے کہ پنجاب میں تقریباً سوا دو ہزار یونین کونسلوں کے نتائج آئے ہیں۔ اور جماعت اسلامی کی کارکردگی نہایت مایوس کن رہی ہے۔ بخدا دل دھک سے رہ گیا۔ ہمیں بھی ذاتی طور پر جماعت اسلامی سے اتنی ہی ہمدردی ہے جتنی کہ کسی بھی عاقل و بالغ شخص کو جماعت اسلامی سے ہونی چاہیے، لیکن سوال تھا ہمارے ہمسائے صالح خان ترین صاحب کا۔ وہ جماعت اسلامی کے رکن اور پرجوش کارکن ہیں۔ انہیں پرسہ دینے ان کے گھر پہنچے تو خلاف توقع موصوف کو نہایت خوش و خرم پایا۔

بظاہر بے نیازی سے ہم نے کہا کہ “صالح ترین صاحب، بلدیاتی انتخابات کے کیا نتائج رہے ہیں؟”۔

صالح ترین: پنجاب بھر سے سوا دو ہزار یونین کونسلوں کے نتائج آئے ہیں، اور الحمدللہ جماعت حسب روایت ہزاروں میں ایک نکلی ہے۔ ہر ہزار میں سے ایک سیٹ جماعت نے جیت لی ہے۔

ہم: شکر ہے۔ لیکن جماعت کے حالات ایسے ہی رہے تو کہیں مزید ترقی نہ ہو جائے، یعنی جماعت لاکھوں میں ایک نہ بن جائے۔

صالح ترین: دیکھیے آپ نمبروں کو جس طرح سے دیکھتے ہیں، ہم ویسے نہیں دیکھتے ہیں۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ مولانا مودودی صاحب اس دور کو جاہلیہ جدید کہتے تھے۔ یعنی یہ سوا ارب مسلمان شناختی کارڈ کے مسلمان تو ہیں لیکن حالت ان کی زمانہ قبل از اسلام والی ہی ہے۔ تو ان کے ووٹوں کا معاملہ ہو تو اس ہار کو ہم اپنے حق پر ہونے کی دلیل سمجھتے ہیں۔

ہم: واہ، سبحان اللہ۔ اس پہلو پر تو ہم نے کبھی غور ہی نہیں کیا تھا۔ بس آپ یہ سوچیں کہ یہ دو کفار جدید جو آپ کے صالحین کی صفوں میں شناخت ہو گئے ہیں، ان سے کیسے چھٹکارا پایا جانا چاہیے۔

صالح ترین: ہماری پالیسیاں دیکھتے رہیں۔ سب کھوٹ الگ ہو جائے گی، صرف کندن بچے گا۔

ہم: جماعت کی پالیسیوں کے بارے میں آج ہی وسی بابا صاحب سے سنا ہے کہ جماعت اسلامی کے صالحین ادھر سرحد پار کے خالصوں کے سچے جانشین ثابت ہوئے ہیں اور اہل لاہور کو منصورہ کے ہوتے ہوئے دربار صاحب امرتسر کی کمی محسوس نہیں ہونے دیتے ہیں۔ جماعت کے گڑھ منصورہ تک سے کونسلر کی نشست کا “انتہائی سخت” انتخاب انتہائی آسانی سے ہارنے پر وہ جماعت اسلامی کو ایسی چشم کشا سیاست کرنے پر کسی خالصتانی خالصے کو جماعت کی امارت پر فائز کرنے کو مستقبل میں اس کی کامیابی کی کلید گردانتے ہیں۔

صالح ترین: یہ خالصتان بھی باقی ہندوستان سمیت جلد ہی ہماری حکومت میں ہو گا۔

ہم: صالح ترین صاحب، آپ کسر نفسی سے کام لے رہے ہیں۔ خالصتان آپ کی باطنی حکومت میں تو اب بھی شامل ہے۔ سوچ بعینہ وہی ہے۔ ہماری رائے میں تو وقت آ گیا ہے کہ صالحین کو اب سیاست و خفت کی راہ سے واپس دعوت و عزیمت کی طرف لوٹ جانا چاہیے۔

صالح ترین: بھائی ہماری سیاست ہی ہماری خلافت کی طرف لے جائے گی۔

ہم: بدقسمتی سے ہمیں تو آپ کی سیاست نری خفت کی طرف ہی لے جاتی نظر آ رہی ہے۔

صالح ترین: حضت آپ کیا جانیں جد و جہد کے مدارج۔ صالح حکومت کا قیام آسان تو نہیں ہے۔

ہم: آپ دوبارہ سے قوم کی تربیت پر توجہ دیں۔ حضرت مودودی نے تحریک پاکستان کے زمانے میں 1947 میں فرما تو دیا تھا کہ ان نام نہاد پیدائشی مسلمانوں کے ووٹ کے بل پر جماعت اسلامی کی حکومت کا قیام ناممکن ہے۔ وہ پہلے قوم کو صالح بنانے کے قائل تھے۔

صالح ترین: اب وقت کے تقاضے کچھ اور ہیں۔ وہ پھر بھی اچھا وقت ہوا کرتا تھا۔ فی زمانہ کردار کون دیکھتا ہے۔ اب تو پیسے کے بل پر امیدوار جیتتا ہے۔

ہم: بس صالح ترین صاحب، پھر سیاست و خفت کو ترک کریں اور دعوت و عزیمت کی طرف پلٹ جائیں۔ اب تو دعوت میں بھی بہت پیسہ ہے، جیسا کہ شیخ الاسلام کے منہاج القرآن انٹرنیشنل والے دنیا بھر میں مراکز کھول کر ثابت کر چکے ہیں، اور تعلیم میں بھی بہت پیسہ ہے جیسا کہ جماعت کے ایک اپنے چشم و چراغ پنجاب کالج اور دوسرے پنجاب سکول کھول کر دکھا چکے ہیں۔

صالح ترین: شوری اس پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ ابھی پچھلے مہینے ہی امیر الصالحین جناب سراج الحق صاحب نے ایک سے پانچ سکول کرنے کے جماعتی نسخے کا اپنے خطبہ جمعہ میں ذکر تو کیا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ کیا پالیسی بنتی ہے۔

ہم: ذرا جلدی سوچ لیں۔ ورنہ اب تو حالت یہ ہو گئی ہے کہ محض منصورہ سے ہی ہار کر جماعت کے اراکین اپنے حق پر ہونے کا سرٹیفیکیٹ نہیں پا رہے ہیں بلکہ جناب لیاقت بلوچ کے صاحبزادے تو تحریک انصاف کی طرف سے لڑ کر بھی یہ سند پا گئے ہیں۔ لیکن غضب تو فرید پراچہ صاحب کے صاحبزادے نے کیا ہے۔ ہر جگہ سے جیتنے والی ن لیگ کا ٹکٹ پا کر بھی وہ ہار گئے ہیں۔

صالح ترین: شکر الحمدللہ۔ ہم جو بھی بھیس بنا لیں، عوام ہمیں ہزاروں میں ایک ہی سمجھتی ہے۔

ہم: دریں چہ شک۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.