امریکی سپیکر کا انتخاب

ayaz-sadiq2-600x360

ہم: بھائی صالح ترین، یہ وزیراعظم نواز شریف کیا کہہ رہا ہے۔ سنا آپ نے؟ یہ تو نظریہ پاکستان کے خلاف بول رہا ہے۔ پاکستان تو بنا ہی اسلام کے نام پر تھا۔ کہتا ہے کہ کہ “ملک کا مستقبل ایک جمہوری اور لبرل پاکستان ہے”۔

صالح ترین: بخدا یہ آدمی تو ہماری نیا ڈبوئے گا۔ لاکھوں جانوں کی قربانی دے کر ہم نے یہ ملک حاصل کیا تھا۔

ہم: لیکن قیام پاکستان کے وقت تو جماعت نے حکم لگایا تھا کہ اسے بنانے والے کاغذی مسلمان ہیں، اور یہ مسلم تحریک کے لیے غیر مسلم حکمرانوں سے بھی برے ثابت ہوں گے۔ اور پاکستان کے مطالبے کے حق میں ووٹ ڈالنے کو آپ نے اللہ رسول کے فرمان کی تائید کرنے کی بجائے اپنے نفس کی پیروی کرنے کے برابر کہا تھا۔

صالح ترین: قرار داد مقاصد کے بعد یہ سب کاغذی مسلمان اپنے گزشتہ عقائد سے تائب ہو گئے تھے۔

ہم: لگتا ہے کہ ٹھیک سے تائب نہیں ہوئے تھے۔ اس لیے جماعت کی تشریح اسلام پر چلنے کی بجائے جمہوریت اور لبرل ازم کی بات کر رہے ہیں۔

صالح ترین: امیر جماعت نے اس پر خوب تنبیہ کی ہے۔ انہوں نے فرمایا ہے کہ وزیراعظم کو ملک کے آئین سے متصادم باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ لبرل پاکستان دو قومی نظریے کی نفی ہے۔ قائد اعظم اور علامہ اقبال دو قومی نظریے پر یقین رکھتے تھے۔ دو قومی نظریے کی دعویدار مسلم لیگ کے سربراہ دوقومی نظریہ کی نفی کر رہے ہیں، اور اگر جناح اور اقبال آج زندہ ہوتے تو یقیناً جمعیت میں ہوتے۔ جنہیں لبرل ازم پسند ہے وہ امریکہ چلے جائیں یہ محمدﷺ کے شیروں کا ملک ہے۔ سیکولر پاکستان کا مطالبہ کرنے والے امریکہ برطانیہ، بھارت چلے جائیں۔

ہم: یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ نواز شریف کے جمہوریت اور لبرل ازم کے خطرناک عزائم کے خلاف کوئی تو کھڑا ہوا ہے۔

صالح ترین: بس دیکھتے جائیں کہ ہم ان کو کس طرح زچ کرتے ہیں حتی کہ وہ تائب ہو جائیں۔

ہم: ایک بات سمجھ نہیں آئی ہے۔ یہ سارے نکات خوب تفصیل سے بیان کر کے، انہوں نے آج سپیکر شپ کے لیے نواز شریف صاحب کے امیدوار جناب ایاز صادق کو ووٹ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔

صالح ترین: غلط فہمی کا نتیجہ ہو گا۔ غالباً ان کا خیال تھا کہ ایاز صادق صاحب کو امریکی کانگریس کے سپیکر کے عہدے کے لیے منتخب کیا جا رہا ہے۔

ہم: لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ ایسی غلط فہمی ہو کہ پاکستانی اسمبلی کی ووٹنگ سے امریکی کانگریس کا سپیکر منتخب کر لیا جائے؟

صالح ترین: آپ جیسے جاہل یہ سب سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہ جماعت کی بہترین حکمت عملی ہے۔ آپ بغض جماعت میں مخالفت برائے مخالفت کرنے کی بجائے معاملے پر غور کریں تو معاملہ واضح ہے۔ ایاز صادق، سپیکر منتخب ہوتے ہی امیر جماعت کے حکم کی تعمیل کرنے کے لیے امریکہ چلے جائیں گے۔ سنا ہے کہ سپیکر وغیرہ کو سرکاری پاسپورٹ ملتا ہے، اور اس پر امریکہ کا ویزا آسانی سے لگ جاتا ہے۔ حجت پوری کرنے کے لیے جماعتی اراکین نے ان کو ووٹ دیا ہو گا کہ وہ سرکاری پاسپورٹ لے کر امریکہ چلے جائیں، اور ان کے پاس بہانہ باقی نہ رہے کہ ویزا نہ ملنے کی وجہ سے نہیں جا رہے ہیں۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.