نصاب محبت و عداوت

کینیڈا کے صوبے البرٹا کے معاشرتی علوم کے نصاب کے اہداف پر ایک نظر۔ دیکھتے ہیں کہ ہم اس سے کیا سیکھ سکتے ہیں۔

syllabus Konnikova-Children-Learning-To-Read-1200

[urdu size=”20″]

نصاب محبت و عداوت

بچوں کے ذہن کی تشکیل میں نصاب ایک اہم رول ادا کرتا ہے۔ وہی ان کو ایسے رویے دیتا ہے جو بیشتر صورتوں میں زندگی بھر ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ ہمارے نصاب کی حالت تو اظہر من الشمس ہے، اور ہماری قوم میں جو گھٹن اور نفرت دکھائی دیتی ہے، وہ ہم پر عیاں ہے۔ ہم دوسرے صوبے کے لوگوں سے بھی نفرت کرتے ہیں، دوسری زبانیں بھی ہماری نفرت کا نشانہ ہیں، دوسروں کا مسلک ہمیں کفر دکھائی دیتا ہے، اور کسی بھی دینی و دنیاوی معاملے میں اختلاف رائے کو ہم برداشت کرنے کے قائل ہی نہیں ہیں۔ صرف ایک نسل ٹھیک ہے، جو ہماری نسل ہے۔ صرف ایک زبان ٹھیک ہے، جو ہم بولتے ہیں۔ صرف ایک مسلک درست ہے، جس سے ہم تعلق رکھتے ہیں۔ اور صرف ایک رائے ہی راہ حق ہے، اور وہ ہماری رائے ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نفرت کے ان پہاڑوں کو مہذب ملکوں نے کیسے ختم کیا ہے جبکہ محض سو پچاس سال پہلے وہاں بھی ہمارے جیسے ہی حالات تھے۔

آئیے دیکھتے ہیں کینیڈا کے ایک صوبے البرٹا کے معاشرتی علوم کے نصاب کی مثال۔ کینیڈا ایک دلچسپ ملک ہے۔ وہاں قدیم نسلوں کے لوگ بھی آباد ہیں، اسکیمو بھی ہیں، انگریزی بولنے والے گورے بھی ہیں، اور فرانسیسی بولنے والے بھی۔ اور بے تحاشا تعداد میں ساری دنیا سے لوگ وہاں امیگریشن لے کر اس معاشرے کا حصہ بن رہے ہیں۔

ان کا معاشرتی علوم کا نصاب، عظمت رفتہ کی کہانیاں سنانے پر وقت صرف کرنے، اور دوسروں سے نفرت سکھنے کی بجائے یہ بتاتا ہے کہ اختلاف ایک رحمت ہے۔ یہ زندگی میں رنگ بھرتا ہے اور معاشرے میں تنوع پیدا کرتا ہے۔ اسے ایک اثاثہ سمجھنا جانا چاہیے۔ اور رواداری ایک نعمت ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ نصاب بچے کو جذباتی ہوئے بغیر منطقی انداز میں سوچنا سکھاتا ہے، اور ایک ہی معاملے کو مختلف نقطہ ہائے نظر سے دیکھنا اور پرکھنا سکھاتا ہے۔ یہ نصاب انسانیت سے محبت اور مل جل کر رہنے کو اپنا اہم ہدف بناتا ہے۔ جمہوریت اور شہری ذمہ داریوں کے بارے میں بات کرتا ہے۔ اپنے اور دوسروں کے حقوق کے بارے میں آگہی دیتا ہے اور حق کے لیے کھڑا ہونا سکھاتا ہے۔ اور بحث و مباحثے کا مہذب طریقہ بتاتا ہے۔ آئیے اس نصاب پر ایک مختصر سی نظر ڈالتے ہیں۔

کینیڈا کے صوبے البرٹا کے پلے گروپ سے لے کر بارہویں جماعت کے معاشرتی علوم کے نصابی فلسفے کا جائزہ لیں تو کافی دلچسپ چیزیں سامنے آتی ہیں۔ نصاب کا مقصد یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ علم طلبا میں ایسے رویے اور صلاحیتیں پیدا کرنے کا باعث ہو گا جس سے وہ متحرک، باخبر اور ذمہ دار شہری بن پائیں گے۔ اپنی انفرادی اور اجتماعی پہچان ایک کثیر الجہتی اور کثیر القومی معاشرے کے لیے ضروری ہے۔

کینیڈا کے نقطہ نظر سے ذاتی اور شہری شناخت کو پیدا کرنا اس کا مقصد بتایا گیا ہے۔ اسے مختلف قومیتوں، مثلا ریڈ انڈین، فرانسیسی اور انگریزی بولنے والی قوموں کے نقطہ نظر سے پیش کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ اس سے ایک ایسا معاشرہ جنم لے گا جو کثیر الجہتی، کثیر الثقافتی، سب کو ساتھ لے کر چلنے والا اور جمہوری ہو گا۔ یہ ثقافتی اختلافات کی اہمیت ظاہر کرے گا اور ان کی عزت کرنا سکھائے گا۔ یہ کثیر الجہتی نقطہ نظر یہ سکھاتا ہے کہ شہریت اور شناخت مختلف چیزوں مثلا ثقافت، زبان، ماحول، جنس، نظریے، مذہب، روحانیت اور فلسفے کی بنا پر تشکیل پاتی ہے۔

اس نصاب میں اقدار کی تشکیل پہلا اہم مقصد ہے۔ اس کے اہم اہداف میں تمام بنی نوع انسان کے لسانی، نسلی، اور مذہبی اختلاف کی قدر کرنا، اور ان کی عزت کرنا اور ان کے حق مساوات کو تحفظ دینا اہم ہے۔ اس کے علاوہ معاشرے سے محبت کا جذبہ رکھنا اور کینیڈا کی اقدار، نظریات اور نشانات سے محبت کرنا سکھایا جاتا ہے۔ بچے کے لیے اپنی مقامی کمیونٹی ، کینیڈا کی قومی اور دنیا سے تعلق قائم رکھنے والی شخصیت کی تشکیل کی طرف توجہ کی جاتی ہے۔ ماحولیات کے تحفظ اور انسانیت کو درپیش مسائل کے بارے میں بچے کے باخبر ہونے کو ضروری جانا جاتا ہے۔

بچے کو علم و فہم دینے کے چند واضح اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ بچے کو ایسا فرد بنایا جاتا ہے جو کہ اپنے حقوق و فرائض سے آگاہ ہو کر معاشرے میں شمولیت کے لیے باخبر فیصلے کر پائے۔ وہ کینیڈا کی زمین، تاریخ اور پیچیدہ حالات حاضرہ کے بارے میں آگاہی رکھتا ہو اور اپنے علاقے اور دنیا کی تاریخ سے آگاہ ہو کر مختلف حالیہ مسائل کا تجزیہ کر سکے۔ اس کو مختلف تاریخی اور حالیہ موضوعات، جس میں متنازع مسائل بھی شامل ہیں، کے بارے میں مختلف نقطہ نظر سے آگاہ ی ہونا چاہیے اور اس خطے کے قدیم باشندوں [ریڈ انڈینوں] کی مختلف روایات، اقدار اور رویوں کے بارے میں خبر ہونی چاہیے اور ان کو درپیش مشکلات کے بارے میں پتہ ہونا چاہیے۔ اسی طرح کینیڈا کے فرانسیسی باشندوں اور تارکین وطن کے مسائل اور مواقع کے بارے میں جاننا ضروری ہے اور یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کہ ایسے مختلف النوع معاشرے میں یک جہتی کیسے پیدا کی جا سکتی ہے۔ بچوں کو اس امر سے باخبر کیا جاتا ہے کہ سیاسی اور معاشی طاقت کی تقسیم کیسے افراد، کمیونٹیوں، اور اقوام کو منفی و مثبت انداز میں متاثر کرتی ہے۔ انہیں سمجھایا جاتا ہے کہ کیسے معاشرتی، سیاسی، معاشی اور قانونی ادارے ایک فرد کی نجی اور مجموعی بہتری کے لیے ضروری ہیں اور وہ ایک پائیدار معاشرے کو جنم دیتے ہیں۔

بچوں میں چند صلاحیتیں پیدا کرنے کی طرف خاص توجہ دی جاتی ہے جو انہیں معاشرے کا باشعور اور سمجھدار فرد بنا سکیں۔ ان میں خود سے تحقیق کرنے، منطقی سوچ پیدا کرنے اور تخلیقی انداز میں سوچنے کا مادہ پیدا کیا جاتا ہے اور انہیں مسائل کے حل اور اختلاف کے خاتمے کے لیے کام کرنے کی ایسی تربیت دی جاتی ہے جو کہ فیصلے کے اخلاقی نتائج کا بھی احاطہ کرے۔ بچوں کو سکھایا جاتا ہے کہ کیسے مختلف ذرائع اور طریقے استعمال کر کے باضمیر ریسرچ کرنا، اسے منظم انداز میں پیش کرنا اور سمجھنا، اور اس کا دفاع کرنا اہم ہوتا ہے۔ طلبہ میں اپنے سکول، کمیونٹی، کینیڈا اور دنیا میں ہونے والے ظلم و ناانصافی کو جاننے اور اس کا تدارک کرنے کی ذمہ دارانہ کوشش کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ انہیں سکھایا جاتا ہے کہ کیسے وہ اپنے خیالات اور علم کو ایک باشعور، منظم اور قائل کرنے والے انداز میں پیش کر سکتے ہیں۔

معاشرتی علوم کا ایک ہدف یہ بھی ہے کہ کہ اس چیز کی سوجھ بوجھ بڑھائی جائے کہ مختلف زبانوں، تہذیبوں اور نسلی گروہوں کا کینیڈا کی تہذیب میں کیا رول ہے۔ ایک معاشرے، کمیونٹی اور ادارے کے موثر ہونے کے لیے یہ فہم کلیدی ہے کہ تجربات اور نقطہ ہائے نظر کا تنوع ان تینوں کے موثر ہونے کے لیے ضروری ہے۔ اس تنوع کو ایک اثاثہ جاننا اور اس کے مثبت اثرات پر توجہ دینا اس لیے اہم ہے کہ یہ ہماری زندگی کو رنگین تر کر دیتا ہے۔ نسل، سماجی حالت، اور جنسی تفریق ایسی شناختیں ہیں جن کے ساتھ لوگ زندگی بسر کرتے ہیں۔

معاشرتی علوم اسی تنوع اور معاشرے میں اس کے اتصال کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے اور طلبہ کو سکھاتا ہے کہ کیسے اختلافات کو ختم کر کے ہم آہنگی کی راہ پیدا کرنی چاہیے اور اس اختلاف کو کمزوری کی بجائے طاقت بنانا چاہیے۔ اس کے لیے اہم نکتہ یہ ہے کہ اختلافات کا احترام کر کے کیسے مل جل کر رہا جا سکتا ہے۔ مختلف گروہ کیسے اپنی مشترکہ اقدار پر فخر کر سکتے ہیں۔ بچوں کو جمہوری اصولوں کی عزت کرنے اور ان پر عمل درآمد کے لیے فیصلہ سازی میں غور و فکر کرنے کی ضرورت اور باہمی تبادلہ خیال کرنے کی اہمیت کا احساس دلایا جاتا ہے۔

انہیں بتایا جاتا ہے کہ ایک جیتے جاگتے جمہوری معاشرے کے لیے تنوع نہایت اہم ہے۔ اس تنوع میں قدیمی نسلوں، مختلف زبانوں، امیگریشن اور تہذیبوں کی کثرت ہونا اہم ہیں۔ تنوع کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انفرادری اور اجتماعی حقوق، شہری ذمہ داریوں، اجتماعی اقدار، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی ہونے کی اہمیت اور ضرورت کو بچوں کے ذہن میں بٹھایا جاتا ہے۔

نصاب کو تشکیل دیتے ہوں بچوں کی شخصیت کو ایک مہذب اور باشعور سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کو مسائل پر توجہ دینے کا سلیقہ سکھاتے ہوئے معاشرتی علوم کی تدریس کی جاتی ہے۔

اس طریق تدریس میں ایک متنوع جمہوری معاشرے میں مختلف مسائل کا اجتماعی غور و فکر کے ذریعے حل تلاش کرنے کی تربیت دینا معاشرتی علوم کی ایک اہم جزو ہے۔ طلبہ کو مختلف امور کے بارے میں خود سے منطقی طور پر سوچنے اور اپنے علم کے مطابق اس کے بارے میں کھوج لگانے کی صلاحیت پیدا کرنا ایک اہم مقصد ہے۔ اس سے وہ مختلف امور کے بارے میں ایک منطقی اور سوچی سمجھی رائے پیدا کرنا سیکھتے ہیں۔ طلبہ مختلف نظریات کے بارے میں سوال اٹھانا، ان کو پرکھنا، ان میں بڑھوتری کرنا، اور ان کے بارے میں اپنی رائے کو ایک مدلل انداز میں پیش کرنا سیکھتے ہیں اور وہ اپنے علم و فہم کے مطابق اپنی ایک رائے قائم کرتے ہوئے دوسروں کی رائے کو عزت دینے کی اہمیت کو جان لیتے ہیں۔

پڑھائی کے اس طریقے کا دوسرا اہم پہلو اس چیز کی نشاندہی ہے کہ حالات حاضرہ کا سیکھنے کے عمل میں ایک مرکزی کردار ہوتا ہے۔ طلبہ مختلف حالیہ امور کے بارے میں تحقیق کرنا، اور مختلف نقطہ نظر سے ان کو دیکھنا سیکھ سکتے ہیں۔ اور مختلف تاریخی اور تدریجی عوامل کو دیکھتے ہوئے ان کے ارتقا کو دیکھنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے معاشرتی علوم کے پروگرام میں حالات حاضرہ کا تجزیہ کرنے کے لیے وقت مختص کیا جاتا ہے۔ حالات حاضرہ کے مطالعے کے لیے مقامی کمیونٹی کے حالات سے واقف ہونا، مختلف مقامی، صوبائی، قومی اور بین الاقوامی حالات حاضرہ کو جاننا، اہم شخصیات کے دوروں اور خاص تقریبات کے بارے میں معلومات حاصل ہونا اہم قرار دیا جاتا ہے۔

بچوں کی شخصیت کی تشکیل میں ایک اہم ترین پہلو ان میں متنازع امور پر ٹھنڈے دل و دماغ سے منطقی انداز سے سوچنے سمجھنے کی تربیت دینا شامل ہوتا ہے۔ متنازع امور وہ موضوعات ہوتے ہیں جو کہ عوامی سطح پر نہایت حساس ہوتے ہیں اور ان پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہو پاتا ہے۔ یہ وہ امور ہوتے ہیں جن پر کافی معقول لوگ بھی صدق دل سے اختلاف کرتے ہیں۔ ایسے امور سے نمٹنا، معاشرتی علوم کے اسباق کا اہم حصہ ہے۔

معاشرتی علوم کے یہ اسباق ایسی صلاحیت پیدا کرنے پر توجہ دیتے ہیں جس کی مدد سے بچہ منطقی طور پر سوچ سکے، اور کھلے ذہن سے اور دوسروں کی رائے کا پاس کرتے ہوئے مختلف نقطہ ہائے نظر کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کر پائے۔ مختلف متنازع موضوعات جو کہ استاد کے لیے متوقع ہوں، اور جو کہ اسباق کے دوران ابھر آئیں، ان کو استاد کی طرف سے منطقی تحقیق کی نشوونما اور سوچ بچار کی عادت ڈالنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

یہ تھے کینیڈا کیے ایک صوبے کے نصاب کی تشکیل کرتے ہوئے پیش نظر رکھے جانے والے اہم اغراض و مقاصد۔ اب واپس آتے ہیں پاکستان کی طرف۔ پاکستان کا معاشرتی علوم اور مطالعہ پاکستان کا نصاب ایک الگ مضمون کا متقاضی ہے۔ ہماری بدقسمتی یہی ہے کہ ہم کسی مہذب معاشرے کی بجائے اپنے نصاب کو بھارت کے نصاب کو مشعل راہ بنا کر تشکیل دیتے ہیں جو کہ خود نفرت کی آگ میں جل رہا ہے اور وہاں علیحدگی کی کم و بیش سترہ بڑی تحریکیں چل رہی ہیں۔ بہرحال، پاکستانی نصاب کے بارے میں ایک مختصر سی بات کر کے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔

چند دن پہلے محترمہ تنویر جہاں صاحبہ کے ساتھ ایک نشست رہی۔ وہ تعلیم کے شعبے میں سرگرم ہیں اور مختلف اداروں میں جا کر طلبہ کو منطقی انداز میں سوچنے کا مختصر سا کورس کراتی ہیں۔ وہ اپنے طرز تدریس کے بارے میں ایک دلچسپ بات بتاتی ہیں۔ وہ طلبہ کو سکھاتی ہیں کہ منطقی انداز میں کیسے سوچا جاتا ہے۔ حقیقت سے افسانے کو الگ کرنے کا کیا طریقہ ہے۔ کریٹیکل تھنکنگ کس بلا کا نام ہے۔ اور جب وہ یہ سکھا چکتی ہیں تو طلبہ کو کہتی ہیں کہ اب اپنی مطالعہ پاکستان کی کتاب کا اپنی مرضی سے کوئی بھی صفحہ کھولو، اور اسے منطقی انداز سے پرکھو۔ اور بچے حیران ہو جاتے ہیں کہ ہمیں یہ کیا کچھ پڑھایا جا رہا ہے۔

[/urdu]

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.