شامی بچے اور انہیں ڈبونے والے

شامی مہاجرین کی صورت حال پر ایک تحریر۔ کہاں کتنے لوگ پناہ گزین ہیں۔

 

Syria 3
سعودی اخبار مکہ آن لائن کا ایک کارٹون

[urdu size=”20″]
شامی بچے اور انہیں ڈبونے والے

“سعودی وزارت ان عرب بچوں کی [سعودی عرب میں] کفالت نہیں کرتی ہے جن کے والدین شام اور عراق کی طرح کی جنگوں میں مارے گئے ہیں۔ بین الاقوامی امدادی تنظیمیں موجود ہیں جو ان معاملات سے نمٹتی ہیں”۔ سعودی سوشل افیئرز کی وزارت کی ڈائریکٹر لطیفہ تمیمی نے جنوری میں یہ پالیسی بیان دیا تھا جس کے تحت شامی اور عراقی یتیم بچوں کو سعودیوں کی طرف سے گود لینے پر پابندی لگائی تھی۔

دوسری طرف ایلان کردی کی تصاویر شائع ہونے کے بعد بے پناہ عوامی دباؤ کے باعث پناہ گزینوں کو ملک میں بسانے کے مخالف برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو گھٹنے ٹیکنے پڑے ہیں اور وہ ہزاروں پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں جگہ دینے پر تیار ہو گئے ہیں۔ بدقسمت کردی خاندان کو کینیڈا میں ان کے خاندان کی طرف سے بلانے کی درخواست، جس کی پیروی ایلان کی پھوپھی کی طرف سے وہاں کے ایک ممبر پارلیمنٹ بھی کر رہے تھے، کو مسترد کرنے پر وہاں کے متعلقہ وزیر شدید عوامی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں اور کینیڈا بھی اپنی پالیسی پر نظرثانی کر رہا ہے۔

ترک وزیر اعظم ایردوان صاحب، جن کی حکومت نے بدقسمت کردی خاندان کو وہ دستاویزات دینے سے انکار کیا تھا جن کی بنا پر وہ ترکی سے قانونی طور پر باہر جا سکتے تھے، نہایٹ ڈھٹائی سے یورپ کو مہاجرین کے مسئلے سے نمٹنے میں ناکامی کا مورد الزام ٹھہراتے ہوئے فرماتے ہیں کہ “سمندر میں مہاجرین نہیں انسانیت ڈوبی ہے۔”

شامی معاملے کی تاریخ نہایت ستم ظریف ہے اور ظالم حکمرانوں کی بے حسی پر مبنی ہے

جب تیونس سے عرب بہار چلی تو شام تک جا پہنچی۔ چند شامی بچوں نے بشار الاسد کی حکومت کے خلاف دیواروں پر چند کلمات لکھ ڈالے۔ شامی پولیس نے ان کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس پر ہنگامے پھوٹ پڑے۔ ان ہنگاموں کو صدر بشار کی حکومت نے سختی سے کچلنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں وہ بڑھتے ہی گئے۔ خانہ جنگی کی صورت حال دیکھ کر القاعدہ کے النصرہ فرنٹ اور داعش نے شام میں پنجے گاڑ دیے اور عراق سے اپنی توجہ شام کی طرف مبذول کر دی۔ بشار کی حکومت کو خطرے میں دیکھ کر ایران نے مشرق وسطی میں اپنے واحد حلیف ملک کی مدد شروع کر دی۔ دوسری طرف سعودی عرب، قطر اور امارات وغیرہ نے شامی باغیوں کی مدد شروع کر دی اور النصرہ فرنٹ اور داعش کی بھرپور مدد کی۔

سعودی عرب نے اپنے دیرینہ سرپرست امریکہ پر پورا زور ڈالا کہ وہ شامی حکومت کی فوجوں پر حملہ کرے۔ امریکہ کے انکار پر سعودی شدید ناراض ہوئے۔ حتی کہ انہوں نے اظہار ناراضگی کے لیے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی وہ نشست سنبھالنے سے انکار کر دیا جس کے حصول کے لیے وہ برسوں سے کوشش کر رہے تھے۔

ایردوان کی ترک حکومت نے بھی شامی صورت حال کا فائدہ اٹھا کر اپنا لچ تلنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ کرد ایک خود مختار ملک بنا کر بیٹھ گئے ہیں تو ان سے لڑنے کے لیے داعش کی مدد شروع کر دی۔ پچھلے دنوں اسلحے سے لدے ہوئے ترک ٹرک ایک صحافی نے دنیا کو دکھائے تھے جو ترک انٹیلی جنس شام میں بھیج رہی تھی۔ ایردوان کا خیال ہے کہ ترکی کے حق میں داعش، کردوں سے بہتر ہے۔

سو بے تحاشا جنگ ہوئی۔ اور بے تحاشا لوگ ملک سے نکلنے پر مجبور ہوئے۔

چالیس لاکھ سے زائد شامی مہاجرین کہاں جا رہے ہیں؟ بیس لاکھ کے قریب ترکی میں پناہ گزین ہیں۔ اور وہاں سے قانونی طور پر کسی تیسرے ملک وہی جا سکتے ہیں جن کے پاس شامی پاسپورٹ ہے۔ اور وہ بہت کم لوگوں کے پاس ہے۔ دس لاکھ لبنان اور چھے لاکھ اردن میں ہیں۔ ڈھائی لاکھ جنگ زدہ عراق میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور سوا لاکھ مصر میں۔ پچیس تیس ہزار شمالی افریقی ممالک میں ہیں جہاں سے وہ کشتیوں میں یورپ جانے کی کوشش میں ڈوب رہے ہیں۔

شام میں جنگ بھڑکانے والے سعودی عرب، امارات اور قطر میں ان مہاجرین کی تعداد تقریباً صفر ہے۔ جبکہ جرمنی نے تقریباً آٹھ لاکھ افراد کو اس سال سیاسی پناہ دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ بہرحال یہ نوٹ کرنا چاہیے کہ ان میں سے غالب اکثریت بلقان اور دوسرے علاقوں کے مہاجرین کی ہے۔

فیس بک پر ایک شخص نے ایلان کردی کی تصاویر شائع ہونے سے پہلے ہی ان پناہ گزینوں کی جرمنی میں آمد کے مخالفین کو بیان دیتے ہوئے ان عرب ممالک کے منہ پر ایک طمانچہ رسید کیا تھا جو اس صورت حال کی عکاسی کرتا ہے:

“ہم اپنے بچوں کو بتائیں گے کہ شامی پناہ گزین اپنے ملک سے نکلے تو یورپ آئے حالانکہ مکہ اور مسلم ممالک ان کے قریب تر تھے”۔

[/urdu]

syria 2 COCZJqlWsAAWT7h

syria 1 _85346532_85346529

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.