تہذیب کا محسن گداگر

تہذیب کے گداگر محسن کی کہانی۔ اس کا ماننا ہے کہ اس نے سارے علوم ایجاد کیے تھے اور آج کی ہر ایجاد کے لیے دنیا اس کی احسان مند ہے۔

World___Greece_Ancient_ruins_in_Athens_058481_ - Copy

[urdu size=”20″]
اپنے یونانی دوست یانی سے ملاقات ہوئی تو وہ شدید غم و غصے کا شکار تھا۔ یانی،جسے انگریزوں نے یونانی سے ترجمہ کر کے جان کر ڈالا ہے، ایک عام یونانی نام ہے۔ تو بہرحال، یانی کافی غم و غصے کا شکار تھا۔ ہمت کر کے ہم نے پوچھ لیا کہ کیا ہوا؟ کیا ماجرا ہے؟

یانی: ماجرا کیا ہونا ہے۔ یورپی یونین والے ہمیں پیسے دینے سے انکاری ہیں۔

ہم: نہایت ہی بیہودہ لوگ ہیں۔ اگر انہوں نے یونان سے پیسے ادھار لیے تھے تو انہیں واپس کرتے ہوئے اس طرح سے لیت و لعل سے کام نہیں لینا چاہیے تھا۔

یانی: ارے نہیں، پیسے تو ہم ادھار مانگ رہے ہیں۔

ہم: تو پھر زور زبردستی کاہے کی؟ ان کا پیسہ ہے، وہ نہیں دیتے۔ قصہ ختم۔ ہماری طرح عربوں سے مانگ لو۔

یانی: نہایت ہی احسان فراموش قوم ہیں۔ ہم نے ان پر کیا کیا احسان نہیں کیا ہے، اور اب ہم پر وقت پڑا ہے تو منہ چھپا رہے ہیں۔

ہم: کیا احسان کیا ہے؟

یانی: سارے علوم ہم نے ہی ان کو دیے ہیں۔ فلسفہ ہماری دین ہے۔ طب سے ہم نے دنیا کو روشناس کرایا۔ یہ جیومیٹری جس پر سارا انجینئیرنگ کی عمارت کھڑی ہے، ہمارے حکیم فیثاغورث کی ایجاد ہے۔ ساری دنیا کو ہم نے علم کا تحفہ دیا ہے۔ ورنہ آج ھی ساری دنیا کھال کی لنگی پہنے غاروں میں رہ رہی ہوتی۔

ہم: لیکن سنا ہے کہ فیثاغورث اور تھیلس وغیرہ جو یونانی فلسفے کے بانی ہیں، مصر سے جیومیٹری سیکھ کر آئے تھے۔ اور فیثاغورث کو ارتھمیٹک فونیقیوں نے سکھائی تھی۔ کلدانیوں سے وہ علم فلکیات سیکھ کر آیا تھا۔ اور مذہب اور زندگی کا فلسفہ اس نے ایرانی مجوسیوں سے سیکھا تھا۔

یانی: یہ سب جھوٹ ہے۔ یہ سب علوم ہم یونانیوں کی اپنی ایجاد ہیں۔

ہم: اچھا تم لوگوں کے یہ مبینہ احسانات تو شاید ڈھائی ہزار سال پہلے کی بات ہیں۔

یانی: تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ہماری وجہ سے یہ سارے چاند اور مریخ تک جا پہنچے ہیں۔ اب ہمارے پاس پیسے ختم ہو گئے ہیں تو یہ احسان فراموش اپنے استادوں کو نہیں پہچانتے ہیں۔ طوطا چشمی کی انتہا ہے۔ جس ایجاد کو اٹھاؤ، اس کی بنیاد ہمارے دیے ہوئے علوم میں نکلتی ہے۔ انہیں سے یہ سارے پیسے بنا رہے ہیں۔ اور آج وہ ہمیں ہی پیسے دینے سے انکاری ہیں۔

ہم: اچھا ہوا کیا ہے؟ تفصیل تو بتاؤ۔

یانی: ہونا کیا تھا۔ ہمارے ساتھ یہ سارےبھی یورو زون کے رکن ہیں۔ یورپی یونین میں ہمارے ساتھ بیٹھتے ہیں۔ اب گزشتہ دو تین سال سے یہ بے جا ضد لگائے بیٹھے ہیں کہ اپنا خرچہ خود اٹھاؤ۔ اپنے پیسوں سے اپنا ملک چلاؤ۔ بے شرمی کی حد ہے۔

ہم: اوہ۔ یہ تو بری بات ہے۔

یانی: ایسی ویسی بری بات؟ کہتے ہیں کہ کرپشن کم کرو۔ ٹیکس زیادہ کرو۔ اللے تللے بند کرو۔ ہم کہہ رہے ہیں کہ تمہیں ہر چیز ہم نے سکھائی ہے اور تم ہمیں سبق پڑھانے چلے ہو۔ اب وہ کہتے ہیں کہ ہم پچھلے قرضے کی قسط کی ادائیگی کے لیے ادھار نہِں دیں گے۔ اس طرح تو ہمارے سارے بینک بند ہو جائیں گے۔ انہیں احساس ہی نہیں ہے۔ کہتے ہیں کہ پہلے اپنی معیشت کو ٹھیک کرنے کے لیے کچھ اقدامات کرو۔

ہم: قسط نہیں دو گے تو کیا ہو گا؟

یانی: ہونا کیا ہے۔ یونان دیوالیہ ہو جائے گا۔ ہمیں یورو زون سے نکال دیں گے۔ ہمیں دوبارہ اپنی کرنسی درہم پر واپس جانا پڑے گا۔ اور وہ کرنسی کے بازار میں ٹکہ ٹوکری بکا کرے گی۔ اور یورپی یونین سے بھی نکال دیں گے۔ ذرا اوقات دیکھو ان کی۔ سارے علوم ہم سے سیکھے ہیں اور ہمیں ہی پڑھانے چلے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اصلاحات کرو اور ہڈ حرامی چھوڑو۔

ہم: واقعی۔ یہ تو بہت بری بات ہے۔ ہڈ حرامی ہرگز مت چھوڑنا۔ ان پر اپنے ڈھائی ہزار سال پرانے احسانات کو یاد کرو اور سکون سے لیٹے رہو اور انہیں بد دعائیں دیتے رہو۔

[/urdu]

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.