تزک درویشی، ۳

فغفور نقل خوجی نے ریل پکڑی

صاحبو، ہم پہلے سکالا شہر، حال موسوم بہ سیالکوٹ کے ایک ملامتی درویش میاں فغفور نقل خوجی کا ذکر اس سے پہلے کر چکے ہیں۔ بلا کے سادہ شخص ہیں۔ کچھ تو ان کی قسمت ایسی ہے کہ انوری کی طرح آسمان سے اترنے والی ہر بلا ان ہی کے گھر کا پتہ پوچھتی ہے، اور کچھ ان کے شہر کے لوگ بھی ظالم ہیں۔ تو ہوا یہ کہ ان لوگوں نے مل کر منصوبہ بنایا کہ ہند یاترا کی جائے اور وہاں خواجہ چشت کے مزار پر سلام پھیرا جائے۔ سیالکوٹی سالکین کے ٹولے  کی قیادت خوجی میاں کو سونپی گئی، اور غیر سالکین کی قیادت وہاں کے ایک مشہور فوجداری وکیل ثنا اللہ گوندل  نے سنبھالی۔ سو یہ تین درویشوں اور تین وکیلوں کا ٹولہ سیاحت ہند پر نکل گیا۔

چلتے چلتے یہ مسافر جالندھر کے ریلوے سٹیشن پر پہنچے اور جے پور کی ٹرین پر سفر کے خواہاں ہوئے۔  ٹکٹ گھر پر بے کراں ہجوم  تھا، لیکن میاں خوجی لپکے، کسی کو کہنی ماری اور کسی کو دھکا دیا، اور کسی کے کاندھوں پر سے ہو کر پھلانگ گئے، اور تینوں درویشوں کے لیے جالندھر سے جے پور کے ٹکٹ خرید لیے۔ اب انہوں نے پلٹ کر ٹکٹ ہاتھ میں پکڑے اور انہیں سر سے بلند کر کے درویشوں کو دکھایا تو درویشوں نے دھمال ڈال کر خوشی کا اظہار کیا۔ اب میاں خوجی نے پلٹ کر گوندل اور دیگر وکلا کی طرف دیکھا تو وہ تینوں ایک کونے میں کھڑے مزے سے چائے نوش فرما رہے تھے۔ میاں خوجی حیران ہوئے اور بولے کہ میاں، تم نے جے پور نہیں جانا ہے؟ ٹکٹ کہاں ہے؟

گوندل صاحب نے جیب سے ایک ٹکٹ نکال کر کہا کہ ‘چائے والے سے ایک ٹکٹ لے لیا ہے، پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے’۔
dervish__995845
میاں خوجی بولے ‘ایک ٹکٹ؟ مگر تم تو تین ہو، ایک ٹکٹ پر کیسے جاو گے؟’۔

گوندل صاحب بولے ‘ہم وکیل ہمیشہ ایک ہی ٹکٹ پر سفر کرتے ہیں، خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہو۔ بس چپ رہو اور دیکھتے جاو’۔

میاں خوجی کو یقین نہیں آیا مگر خاموش رہے۔ تینوں درویش اور تینوں وکیل ٹرین پر سوار ہوئے اور وہ چھک چھک چلنے لگی۔ کچھ ہی دیر میں غلغلہ بلند ہوا کہ ٹکٹ چیکر آیا چاہتا ہے۔ میاں خوجی نے مسکرا کر اپنے تینوں ٹکٹ نکالے اور استہزائی انداز میں گوندل صاحب کو دیکھنے لگے۔ گوندل صاحب نے باقی دونوں وکلا کو اشارہ کیا اور تینوں کونے میں موجود ٹائلٹ میں چلے گئے۔ ٹکٹ چیکر نے آ کر درویشوں کے ٹکٹ چیک کیے اور پھر ٹائلٹ کو بند پا کر اس کے دروازے پر دستک دی اور بولا ‘ٹکٹ پلیز’۔

گوندل صاحب نے دروازے کا پٹ تھوڑا سا کھولا اور ٹکٹ چیکر کو ٹکٹ پکڑا دیا، اس نے دیکھ کر واپس کر دیا اور اگلے ڈبے کو روانہ ہوا۔ تینوں وکلا باہر آ کر اپنی سیٹ پر براجمان ہوئے اور گوندل صاحب بولے ‘میاں خوجی، ہم نے کہا تھا نہ کہ ایک ہی ٹکٹ بہت ہے’۔

میاں خوجی نہایت متاثر ہوئے کہ یہ تو سفر کرنے کا نہایت کم خرچ اور بالانشین طریقہ ہے، سو چند دن کے بعد جب وہ جے پور سے اجمیر شریف جانے لگے تو انہوں نے بھی یہی نسخیہ آزمانے کا فیصلہ کیا اور اب کی بار انہوں نے تینوں درویشوں کے لیے ایک ہی ٹکٹ خریدا۔ اس کے بعد انہوں نے فاتحانہ انداز میں وکلا کی طرف دیکھا تو وہ تینوں ایک کونے میں بیٹھے تاش کھیل رہے تھے۔ میاں خوجی قریب گئے اور گوندل صاحب سے پوچھا ‘آپ لوگوں نے ٹکٹ نہیں خریدا؟ چائے والے یا ٹکٹ والے کے پاس بھی آپ نہیں گئے۔ کیا سفر کا ارادہ بدل دیا ہے؟ ‘۔

گوندل صاحب مسکرائے اور بولے ‘ہم اس دفعہ ٹکٹ کے محتاج نہیں ہیں۔ اس کے بغیر ہی سفر کریں گے’۔

میاں خوجی بے یقینین سے مسکرائے۔ لیکن تھوڑی دیر میں جب سب ٹرین میں بیٹھ گئے تو واقعی گوندل صاحب اور ان کے ہمراہی ٹکٹ کے بغیر ہی تھے۔ کچھ ہی دیر میں غلغلہ بلند ہوا کہ ٹکٹ چیکر آیا ہی چاہتا ہے۔ تینوں درویش پھرتی سے اٹھے اور اس سے قبل کہ وکلا کھڑے بھی ہو پاتے، وہ ایک کونے میں موجود ٹائلٹ کے اندر محبوس ہو چکے تھے۔ تینوں وکیل دوسرے کونے میں موجود ٹائلٹ کی طرف گئے اور اندر بند ہو گئے، پھر گوندل صاحب باہر نکلے، درویشوں کے ٹائلٹ کی طرف گئے، اور دروازے پر دستک دے کر بولے ‘ٹکٹ پلیز’۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ پیشے کے لحاظ سے ایک آئی ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ بنیادی طور پر خود کو ایک طنز و مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن سنجیدہ تجزیات و تبصروں پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں دنیا پاکستان اور سپتنک روس کی ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.